عمران خان کا جن اچانک بوتل سے باہر کیسے نکل آیا؟

معروف صحافی اور تجزیہ کار سہیل وڑائچ نے کہا ہے کہ ہونی، ہونے کو ہے اور ہونی ہو کر رہتی ہے، گھوڑے کو چابک پڑ چکا ہے اور اب اسے لگام دے کر روکنا ممکن نہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ حکمران اتحاد کو دباؤ میں لانے کی خاطر عمران خان کو چند گھنٹوں کے لیے اڈیالہ جیل سے ہسپتال لے جانے کے عمل نے سارا نظام ہلا کر رکھ دیا ہے۔ انکا کہنا ہے کہ فیصلہ ساز شاید بھول گے کہ شطرنج کی جمی جمائی بازی کے مہرے ایک بار ہل جائیں تو دوبارہ سے انہیں اپنی جگہ پر جمانا محال ہو جاتا ہے۔

سہیل وڑائچ نے ان خیالات کا اظہار روزنامہ جنگ کے لیے اپنے سیاسی تجزیے میں کیا۔ انہوں نے موجودہ سیاسی صورتحال کا جائزہ لیتے ہوئے کہا کہ عمران خان کو اڈیالہ جیل سے ہسپتال منتقل کرنے کے عدالتی حکم اور اس پر ہونے والی پیش رفت نے ملکی سیاست میں کئی نئے سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ انکے مطابق عمران خان کو چیک اپ کے بعد واپس جیل منتقل تو کر دیا گیا لیکن یہ کہنا مشکل ہے کہ نظام اب بھی ویسے ہی چلتا رہے گا جیسے کہ پہلے چل رہا تھا۔ انکا کہنا ہے کہ عمران خان کو جیل سے ہسپتال لے جانے کے فیصلے نے سیاسی جمود توڑ دیا ہے اور سیاست کا جن ایک مرتبہ پھر بوتل سے باہر نکل آیا ہے۔

سہیل وڑائچ کے مطابق موجودہ سیاسی صورتحال کو سمجھنے کے لیے واقعات کو ایک دوسرے سے جوڑ کر دیکھنا ہوگا، کیونکہ سیاسی منظرنامے میں مسلسل نئی پیش رفت نظر آ رہی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ جو کچھ بیان کر رہے ہیں اسے حتمی خبر نہیں بلکہ موجودہ حالات کی بنیاد پر ایک سیاسی تجزیہ سمجھا جانا چاہیے، کیونکہ اصل حقائق ان لوگوں کو ہی معلوم ہوتے ہیں جو اقتدار اور ریاستی فیصلہ سازی کے قریب ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ’’نظام کی تباہی‘‘ کی بات کے پس منظر کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ سہیل وڑائچ کے مطابق وفاقی حکومت اپنی مدت کا نصف سے زیادہ حصہ مکمل کر چکی ہے، لیکن وزیر اعظم شہباز شریف کی شبانہ روز محنت کے باوجود حکومت ابھی تک ایسا مضبوط سیاسی بیانیہ تشکیل دینے میں کامیاب نہیں ہو سکی جو عوام کے ایک بڑے حصے کو اپنی طرف متوجہ کر سکے۔ اسی طرح معاشی میدان میں بھی ایسی نمایاں کامیابی دکھائی نہیں دیتی جسے حکومت اپنی بڑی کامیابی کے طور پر پیش کر سکے۔

ان کے مطابق ایسے وقت میں ایک وفاقی وزیر کی طرف سے سسٹم کے فیل ہونے کی بات محض ایک سیاسی بیان نہیں بلکہ اسے ریاستی سوچ کے تناظر میں دیکھنا چاہیئے۔ ان کے خیال میں وزیر اعظم شہباز شریف اس سوچ سے پہلے ہی آگاہ دکھائی دیتے ہیں، اسی لیے انہوں نے نظام کے انہدام کے بیان پر اب تک کوئی واضح تبصرہ نہیں کیا، جبکہ مسلم لیگ نون نے بھی ابتدائی ردعمل کے بعد خاموشی اختیار کر رکھی ہے۔ سہیل وڑائچ نے عمران خان کو اڈیالہ جیل سے ہسپتال منتقل کرنے کے سپریم کورٹ کے فیصلے کو ایک اہم واقعہ قرار دیتے ہوئے سوال اٹھایا کہ کیا یہ محض ایک عدالتی فیصلہ تھا یا اس کے پیچھے کوئی وسیع تر سیاسی منصوبہ بندی بھی موجود تھی؟

انکے مطابق سیاسی حلقوں میں اس ایشو پر دو مختلف آراء سامنے آئی ہیں۔ ایک رائے یہ ہے کہ عمران کی ہسپتال یاترا کسی بڑے منصوبے کا حصہ نہیں تھی لیکن ایسی صورتحال پیدا ہو گئی کہ حکومت کو اس کے ری ایکشن سے پیدا ہونے والے تاثر کی وضاحت کرنا پڑ گئی۔ ان کے مطابق مسلم لیگ نون کے حلقے یہ مؤقف اپنایا رہے ہیں کہ عمران خان کو ہسپتال منتقل کرنے کا معاملہ سسٹم کو’’ری سیٹ‘‘ کرنے کا آغاز نہیں تھا بلکہ سیاسی صورتحال کو دوبارہ درست سمت میں لانے کی کوشش تھی۔ حکومتی سطح پر بظاہر یہ تاثر دیا گیا ہے کہ عمران خان کے حوالے سے کسی ڈیل یا فوری سیاسی منصوبہ بندی کی بات درست نہیں اور موجودہ سیاسی بندوبست میں فوری کوئی بنیادی تبدیلی بھی نہیں ہونے جا رہی۔

دوسری طرف سہیل وڑائچ نے ان حلقوں کا بھی ذکر کیا ہے جو اس واقعے کو ایک ممکنہ سیاسی منصوبہ بندی سے جوڑتے ہیں۔ ان حلقوں کے مطابق سپریم کورٹ کے بینچ کی تشکیل اور اس کے فیصلے سے اندازہ ہو گیا تھا کہ عمران خان کو ہسپتال منتقل کرنے کا راستہ ہموار ہو سکتا ہے۔ ان کے مطابق اگر اس معاملے کے حوالے سے کوئی پیشگی منصوبہ بندی موجود نہ ہوتی تو اصل فیصلہ سازوں کی طرف سے عدالتی فیصلے کے بعد اس پر عمل درآمد روکنے کی تیاری پہلے ہی کر لی جاتی، لیکن ایسا نہیں ہوا۔ سہیل وڑائچ کہتے ہیں کہ سیاسی حلقوں میں یہ دعویٰ بھی گردش کرتا رہا کہ ریاست کے ایک اہم رکن نے بیرسٹر گوہر کو عدالتی فیصلے پر عملدرآمد اور عمران کو ہسپتال منتقل کرنے کی یقین دہانی کرائی تھی۔

ان قیاس آرائیوں کے مطابق اسکے پس منظر میں مستقبل کے کسی سیاسی ’ری سیٹ‘، نئے انتظامی یونٹس یا صوبوں کے قیام جیسے معاملات میں تحریک انصاف کی ممکنہ حمایت حاصل کرنے کی سوچ بھی شامل ہو سکتی تھی، جس کے نتیجے میں تحریک انصاف کو دوبارہ قومی سیاسی دھارے میں شامل کرنے کی راہ ہموار ہوتی۔
تاہم سہیل وڑائچ کے مطابق اس پوری کہانی میں سب سے اہم سوال یہ ہے کہ اگر عمران کی ہسپتال منتقلی کسی بڑے منصوبے کا حصہ تھی تو پھر اس پر مکمل عملدرآمد کیوں نہ ہو سکا؟ ان کے مطابق سیاسی حلقوں میں اسکی مختلف توجیہات پیش کی جا رہی ہیں۔ ایک خیال یہ ہے کہ مسلم لیگ نون کی جانب سے شدید تحفظات سامنے آنے کے بعد صورتحال تبدیل ہوئی اور بالآخر عمران کو الشفا کی بجائے پمز ہسپتال منتقل کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔

ان حلقوں کے مطابق نون لیگی قیادت اس معاملے کو محض ایک غلطی یا انتظامی بھول قرار دیتی ہے جبکہ دوسری طرف تحریک انصاف کے حامی اسے عمران خان کی رہائی کا پیش خیمہ قرار دیتے ہیں۔ ان حلقوں کا خیال ہے کہ اگر مستقبل میں فوج اور خان کے رابطے بحال ہوئے اور انہیں کوئی آفر مل گئی تو ممکن ہے کہ اس مرتبہ ڈیل بھی ہو جائے۔ سہیل وڑائچ نے مستقبل کے ممکنہ سیاسی بندوبست میں پیپلز پارٹی کے کردار کو اہم قرار دیا ہے۔ انہوں نے صدر آصف زرداری بارے سیاسی حلقوں میں گردش کرنے والی افواہ کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ وہ مستقبل قریب میں کسی بڑی سیاسی تبدیلی کا حصہ بن سکتے ہیں۔

سینیئر تجزیہ کار کے مطابق بعض حلقوں میں یہ تاثر بھی پایا جاتا ہے کہ پیپلز پارٹی مستقبل کے سیاسی بندوبست میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے، تاہم سہیل وڑائچ نے ان باتوں کو حتمی کی بجائے سیاسی قیاس آرائیاں قرار دیا یے۔ سہیل وڑائچ کے مطابق موجودہ سیاسی بحث میں ’’سسٹم کے ری سیٹ‘‘ کے حوالے سے سب سے اہم دعویٰ یہ ہے کہ ملک میں انتظامی اور معاشی ڈھانچے میں بڑی تبدیلیاں لانے پر غور کیا جا رہا ہے۔ ان میں نئے صوبوں یا انتظامی یونٹس کا قیام، مرکز کے مالی وسائل میں اضافہ، صوبوں اور مرکز کے درمیان مالی وسائل کی تقسیم میں تبدیلی اور ضلعی سطح پر معاشی سرگرمیوں کو بڑھانے کے منصوبے شامل ہو سکتے ہیں۔ ان کے مطابق بعض حلقے دعویٰ کر رہے ہیں کہ ان اصلاحات کی تیاری پہلے ہی کی جا چکی ہے اور رواں سال ان پر کام شروع جبکہ اگلے سال ان پر عملدرآمد کیا جا سکتا ہے۔

تاہم سہیل وڑائچ نے اس ممکنہ ’’سسٹم ری سیٹ‘‘ کے ساتھ موجود خطرات کو بھی نمایاں کیا ہے۔ ان کے مطابق ملکی سیاسی اور انتظامی ڈھانچے میں اچانک یا بڑی تبدیلی کی صورت میں سندھ میں سیاسی کشیدگی اور خونریزی کا خدشہ پیدا ہو سکتا ہے، بلوچستان میں علیحدگی پسند رجحانات کو تقویت مل سکتی ہے، خیبر پختون خوا میں بدامنی بڑھ سکتی ہے جبکہ پنجاب میں علاقائی یا قوم پرستانہ سیاست دوبارہ سر اٹھا سکتی ہے۔ ان کے مطابق یہ وہ خطرات ہیں جنہیں کسی بھی بڑے سیاسی یا انتظامی فیصلے سے پہلے سنجیدگی سے دیکھنا ہوگا۔

اپنے تجزیے کے اختتام پر سہیل وڑائچ نے ایک مرتبہ پھر اس امکان کی طرف اشارہ کیا کہ ملکی سیاست میں موجودہ جمود زیادہ دیر برقرار رہنے والا نہیں۔ ان کے مطابق عمران کی جیل سے ہسپتال منتقلی کے معاملے نے سیاسی منظرنامے میں ہلچل پیدا کر دی ہے اور آنے والے دنوں میں واضح ہو جائے گا کہ یہ محض ایک عارضی ہلچل تھی یا واقعی سسٹم کسی ’’ری سیٹ‘‘ کی طرف بڑھ رہا ہے۔

Back to top button