ایران کے خلاف امریکی جنگ کی قیمت پوری دنیا ادا کرنے لگی

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے تقریباً چھ ماہ قبل ایران کے خلاف شروع کی جانے والی جنگ شیطان کی آنت کی طرح طویل ہوتی چلی جا رہی ہے اور تہران کے خلاف چند ہفتوں میں جنگ جیت کر دنیا کو محفوظ بنانے کے ٹرمپ انتظامیہ کے دعوے غلط ثابت ہو گئے ہیں۔

سونے پر سہاگہ یہ ہے کہ ایران کے خلاف شروع کی جانے والی اس جنگ کی قیمت صرف خطے کے عوام نہیں بلکہ پوری دنیا مہنگے تیل کی صورت میں ادا کر رہی ہے، جس میں خود امریکی عوام بھی شامل ہیں۔ جنگ کے فوری خاتمے اور ایران کو چند ہی ہفتوں میں گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کرنے کے دعووں کے برعکس چھ ماہ گزرنے کے باوجود خطے میں دوبارہ جنگ چھڑنے کا خطرہ برقرار ہے۔

امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف شروع کی گئی جنگ کو چھ ماہ مکمل ہو چکے ہیں، تاہم اس مہنگے اور تباہ کن فوجی تصادم کا کوئی واضح اختتام دکھائی نہیں دے رہا۔ جنگ کے خاتمے کے لیے خطے کے مختلف ممالک کی جانب سے سفارتی کوششیں جاری ہیں، جن میں پاکستان، عمان اور قطر بھی نمایاں کردار ادا کر رہے ہیں، تاہم اب تک ان کوششوں کو کسی مستقل امن معاہدے میں تبدیل نہیں کیا جا سکا۔

تجزیہ کاروں کے مطابق ایران کے خلاف فوجی کارروائی صدر ٹرمپ کے لیے ایک بڑی سٹریٹجک غلطی ثابت ہوئی ہے۔ امریکا دنیا کی سب سے طاقتور فوجی قوت ہونے کے باوجود ایران کو اپنی شرائط تسلیم کرنے پر مجبور نہیں کر سکا۔ اگرچہ جنگ کے ابتدائی دنوں میں ایران کی مذہبی، سیاسی اور عسکری قیادت کے کئی اہم افراد کو نشانہ بنایا گیا، لیکن اسکے باوجود تہران نے مزاحمت جاری رکھی اور امریکی دباؤ کے سامنے مکمل طور پر جھکنے سے انکار کر دیا۔

یہ ایک حقیقت ہے کہ ایران عسکری طاقت کے اعتبار سے امریکا کا ہم پلہ نہیں، تاہم ایرانی قیادت نے یہ ثابت کیا ہے کہ جدید ترین امریکی فوجی طاقت کے باوجود کسی ملک کو چند ہفتوں میں سیاسی طور پر شکست دینا آسان نہیں۔ ایران کے اندر موجود قدامت پسند حلقے اب جنگ کی قیمت برداشت کرتے ہوئے طویل المدت مزاحمت کی حکمت عملی اختیار کرنے پر آمادہ دکھائی دیتے ہیں۔ اس صورتحال نے واشنگٹن کے لیے جنگ سے باعزت واپسی کا راستہ مزید مشکل بنا دیا ہے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ امریکا کو یہ حقیقت تسلیم کرنی چاہیے کہ ایران کے خلاف فوجی طاقت کا استعمال مطلوبہ نتائج حاصل کرنے میں ناکام رہا ہے، لیکن اس کے بجائے واشنگٹن نے تہران کے خلاف اقتصادی جنگ مزید تیز کر دی ہے۔ امریکا نے دیگر خودمختار ممالک کو بھی ایران کے ساتھ تجارت اور کاروبار سے باز رہنے کی تنبیہ کی ہے تاکہ تہران پر اقتصادی دباؤ بڑھایا جا سکے۔ تاہم ایران گزشتہ چار دہائیوں سے مختلف نوعیت کی امریکی پابندیوں کا سامنا کرتا چلا آ رہا ہے اور اس کے باوجود اس کی ریاستی اور معاشی ساخت مکمل طور پر مفلوج نہیں ہوئی۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کا مؤقف بھی واضح ہے کہ دباؤ کام نہیں کرتا۔ اس لیے محض اقتصادی پابندیوں کے ذریعے ایران کو سفید جھنڈا لہرانے پر مجبور کرنے کی امریکی حکمت عملی بھی بظاہر آسان کامیابی کی ضمانت نہیں دیتی۔

امریکی اقتصادی دباؤ کو ایک اور بڑی رکاوٹ چین کی جانب سے درپیش ہے۔ دنیا کی دوسری بڑی معیشت اور ایران کے اہم تجارتی شراکت دار چین نے یکطرفہ امریکی پابندیوں کو مسترد کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ بیجنگ غیر قانونی اور یکطرفہ پابندیوں کی مخالفت کرتا ہے۔ اس صورتحال میں واشنگٹن کے لیے ایران کو عالمی معاشی نظام سے مکمل طور پر الگ تھلگ کرنا بھی آسان نہیں ہوگا۔ دوسری جانب ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی کا سب سے خطرناک پہلو آبنائے ہرمز کی صورتحال ہے۔ ایران کی جانب سے اس اہم آبی گزرگاہ کو دباؤ کے ایک ذریعے کے طور پر استعمال کیا جانا عالمی توانائی کی منڈی کے لیے انتہائی اہمیت رکھتا ہے۔

آبنائے ہرمز سے عالمی تیل کی بڑی مقدار گزرتی ہے، اس لیے وہاں کشیدگی میں معمولی اضافہ بھی عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں کو متاثر کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ایران جنگ کا نقصان اب صرف مشرق وسطیٰ تک محدود نہیں رہا بلکہ دنیا بھر کے صارفین اس کے معاشی اثرات محسوس کر رہے ہیں۔ تجزیہ کار یاد دلاتے ہیں کہ جب امریکہ نے ایران پر حملہ کیا تو اس کے ذہن میں یہ بات بالکل بھی نہیں تھی کہ ایران ابن ہرمز کو بند کر کے جنگ کو اس کے خلاف پلٹا سکتا ہے۔

تیل کی قیمتوں میں اضافہ عالمی معیشت، افراطِ زر، سفری اخراجات، صنعتی پیداوار اور عام شہریوں کے گھریلو بجٹ کو متاثر کرتا ہے۔ یوں ایران کے خلاف شروع کی گئی جنگ کی قیمت بالواسطہ طور پر امریکی اور دیگر ممالک کے عوام بھی ادا کر رہے ہیں۔
تجزیے کے مطابق امریکا کے لیے دانش مندی کا تقاضا ہے کہ وہ اپنی فوجی حکمت عملی پر نظرثانی کرے اور یہ تسلیم کرے کہ طاقت کے استعمال سے ایران کو زیر کرنا ممکن نہیں ہوا۔ واشنگٹن کو اپنی انا اور عالمی پولیس مین بننے کی خواہش ایک طرف رکھتے ہوئے تہران کے ساتھ سفارتی حل کی جانب واپس آنا چاہیے۔

ایران کے جوہری پروگرام کو بھی جنگ کی بنیادی وجہ کے طور پر پیش کیا جاتا رہا ہے، تاہم تجزیہ کاروں کے مطابق اس معاملے میں حقیقی خطرے کے مقابلے میں سیاسی اور عسکری تشہیر زیادہ ہے۔ اگر جوہری مسئلے کا حل مذاکرات کے ذریعے تلاش کیا جا سکتا ہے تو مزید فوجی کارروائی خطے کو ایک اور تباہ کن جنگ کی طرف لے جانے کے سوا کوئی قابلِ ذکر فائدہ نہیں دے گی۔
اس صورتحال میں پاکستان، عمان اور قطر سمیت علاقائی ممالک کی سفارتی کوششیں خاص اہمیت اختیار کر گئی ہیں۔ خصوصاً اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کو ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی ختم کرنے کے لیے ایک ممکنہ سفارتی راستے کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق مسئلے کا حل صرف اور صرف یہ ہے کہ تمام فریقین اسلام آباد معاہدے کی جانب واپس آئیں۔ ایرانی صدر بھی متعدد مواقع پر یہ واضح کر چکے ہیں کہ تہران مذاکرات اور مکالمے پر یقین رکھتا ہے۔ اب گیند امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے کورٹ میں ہے کہ آیا وہ بھی اسی راستے کا انتخاب کرتے ہیں یا فوجی اور اقتصادی دباؤ کی ناکام حکمت عملی کو مزید آگے بڑھاتے ہیں۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ امریکا کو مشرق وسطیٰ میں عالمی پولیس مین کا کردار ادا کرنے کے بجائے اپنی پالیسی پر ازسرنو غور کرنا چاہیے۔ خطے کے ممالک، خصوصاً ایران اور عرب ریاستوں کو اپنے لیے ایک ایسا مشترکہ اور قابلِ قبول سکیورٹی فریم ورک تشکیل دینے کا موقع دیا جانا چاہیے جس میں بیرونی طاقتوں کی عسکری مداخلت کم سے کم ہو۔

Back to top button