اڈیالہ جیل کے قیدی عمران خان جیسا علاج کیوں چاہتے ہیں؟

اسلام آباد ہائی کورٹ کی جانب سے اڈیالہ جیل کے تین عام قیدیوں کی علاج کے لیے نجی ہسپتال منتقلی کی درخواست مسترد ہونے کے بعد ایک نیا تنازع کھڑا ہوگیا ہے۔ ان قیدیوں کا اصرار ہے کہ اگر خرابی صحت کی بنیاد پر عمران خان کو نجی ہسپتال میں طبی معائنے کی اجازت دی جاسکتی ہے تو پھر انہیں اس سہولت سے کیوں محروم رکھا جا رہا ہے۔
یاد رہے کہ اسلام آباد ہائیکورٹ نے تینوں قیدیوں کی درخواستیں مسترد کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ قید کسی شخص کو اپنی پسند کی ہر سہولت حاصل کرنے کا حق نہیں دیتی۔ تاہم ان قیدیوں نے اپنی درخواستیں مسترد ہونے کے خلاف اپیلیں دائر کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اسلام آباد ہائی کورٹ نے 31 دسمبر کو اڈیالہ جیل کے تین قیدیوں، اویس الطاف، محمد الیاس خان اور محمد اسماعیل حسین، کی جانب سے دائر الگ الگ درخواستوں پر تحریری فیصلے جاری کرتے ہوئے نجی ہسپتال میں علاج اور بیرون ملک مقیم رشتہ داروں سے واٹس ایپ کے ذریعے رابطے کی استدعا مسترد کر دی تھی۔ جسٹس محمد آصف کی عدالت میں دائر درخواست میں اویس الطاف اور محمد الیاس خان نے مؤقف اختیار کیا تھا کہ انہیں طبی مسائل درپیش ہیں اور سرکاری ہسپتالوں کے نظام میں ان کے مطلوبہ علاج کی مناسب سہولت دستیاب نہیں، اس لیے انہیں نجی ہسپتال سے علاج کرانے کی اجازت دی جائے۔
یہ معاملہ تب زیادہ اہمیت اختیار کر گیا جب سپریم کورٹ نے 18 اگست کو عمران خان کے طبی معائنے اور علاج کے لیے انہیں اڈیالہ جیل سے شفٹ کرکے شفا انٹرنیشنل ہسپتال لے جانے کی ہدایت کی تھی۔ اس عدالتی حکم کے بعد اڈیالہ جیل کے مذکورہ تین قیدیوں نے بھی اسلام آباد ہائیکورٹ سے رجوع کرتے ہوئے استدلال کیا کہ اگر عمران خان کو صحت کی بنیاد پر جیل سے باہر نجی ہسپتال منتقل کیا جاسکتا ہے تو اسی اصول کا اطلاق ان پر بھی ہونا چاہیے۔ درخواست گزاروں کے وکیل نے عدالت میں مؤقف اختیار کیا کہ ان میں سے ایک قیدی خون بہنے کی سنگین بیماری کا شکار ہے اور اس کی بڑی آنت میں اندرونی خون بہنے کا مسئلہ پیدا ہوچکا ہے، جو جان لیوا ثابت ہوسکتا ہے۔ وکیل کے مطابق یہ قیدی تقریباً چھ ماہ سے قید ہے اور اسے طبی علاج کے لیے متعدد مرتبہ ہسپتال لے جایا جاچکا ہے، تاہم اس کے باوجود اس کی طبی ضروریات پوری نہیں ہورہیں۔
تینوں درخواست گزاروں کا بنیادی مؤقف یہی تھا کہ ان کی صحت کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے انہیں بھی خان کی طرح نجی ہسپتال میں علاج کی سہولت دی جانی چاہیے۔ اسلام آباد ہائیکورٹ نے تاہم اپنے فیصلے میں واضح کیا کہ قید کا مطلب قانون کے تحت کسی شخص کی آزادی پر پابندی ہے اور محض جیل میں موجود ہونے کی وجہ سے ہر قیدی کو اپنی پسند کی ہر جدید یا تکنیکی سہولت حاصل کرنے کا بنیادی حق حاصل نہیں ہو جاتا۔ کیکن عدالت نے قرار دیا کہ اس کا مطلب یہ بھی نہیں کہ ریاست قیدی کے علاج سے بری الذمہ ہوجاتی ہے۔
عدالت نے قرار دیا کہ قیدیوں کو طبی علاج فراہم کرنے کی بنیادی ذمہ داری ریاست کے انتظامی ڈھانچے اور سرکاری ہسپتالوں پر عائد ہوتی ہے۔ پاکستان پریزن رولز کے رول 197 میں بھی اس صورت حال سے نمٹنے کا طریقہ کار موجود ہے جس کے تحت ضرورت پڑنے پر قیدی کو جیل سے باہر کسی ہسپتال منتقل کیا جاسکتا ہے۔ عدالت کے مطابق اگر کسی مخصوص قیدی کا مطلوبہ علاج سرکاری ہسپتال میں ممکن نہ ہو تو میڈیکل بورڈ کی سفارش پر متعلقہ حکام اسے نجی طبی مرکز منتقل کرنے پر غور کرسکتے ہیں۔ تاہم عدالت نے عمران خان کے معاملے میں سپریم کورٹ کے 18 اگست کے حکم کو عام قیدیوں کے لیے نجی ہسپتال منتقل کیے جانے کا مستقل قانونی حق قرار دینے سے بھی گریز کیا۔ اسلام آباد ہائیکورٹ نے واضح کیا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے اور احکامات ہائیکورٹس پر لازم ہیں، لیکن 18 اگست کا حکم عبوری نوعیت کا تھا اور جس معاملے کی بنیاد پر وہ حکم دیا گیا، وہ ابھی سپریم کورٹ میں زیر التوا ہے۔ اس لیے اس عبوری حکم کو ایسا حتمی فیصلہ نہیں سمجھا جاسکتا جس کی بنیاد پر ہر قیدی اپنی پسند کے نجی ہسپتال میں علاج کا قانونی حق حاصل کر لے۔
یاد رہے کہ یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب اڈیالہ جیل میں مختلف نوعیت کے قیدیوں کو حاصل طبی سہولیات اور ان کے علاج کے معیار پر پہلے ہی سوالات اٹھ رہے ہیں۔ عمران خان کے اہل خانہ مسلسل ان کی صحت کے حوالے سے تشویش کا اظہار کرتے رہے ہیں، جبکہ جبری گمشدگیوں کے مقدمات کی پیروی کرنے والی وکیل ایمان مزاری کے خاندان اور قانونی ٹیم نے بھی اڈیالہ جیل میں انہیں درپیش طبی مسائل اور وہاں دستیاب سہولیات پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے انہیں ہسپتال منتقل کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ ایمان مزاری کے اہل خانہ اور قانونی ٹیم کے مطابق انہیں تقریباً تین ہفتوں سے مختلف طبی مسائل کا سامنا ہے اور جیل میں دستیاب طبی سہولیات کے حوالے سے تشویش پائی جاتی ہے۔
ادھر اڈیالہ جیل انتظامیہ کے مطابق جیل کا اپنا ہسپتال موجود ہے اور کسی قیدی کی بیماری کی نوعیت ایسی ہو کہ اسے طبی نگرانی کی ضرورت ہو تو ڈاکٹر کی سفارش پر اسے جیل ہسپتال منتقل کر دیا جاتا ہے۔ اگر کسی قیدی کو جیل سے باہر علاج کی ضرورت ہو تو طبی ماہرین یا عدالت کی سفارش کے مطابق مزید علاج کا انتظام کیا جاتا ہے۔ انتظامیہ نے یہ بھی تسلیم کیا ہے کہ عمران خان کو عدالتی حکم پر جیل سے باہر طبی معائنے کے لیے لے جانے کے بعد کئی دیگر قیدیوں نے بھی نجی ہسپتالوں میں علاج کے لیے عدالتوں سے رجوع کرنا شروع کردیا ہے۔ اس صورت حال نے یہ سوال کھڑا کردیا ہے کہ کیا اڈیالہ جیل میں قید تمام افراد کے لیے طبی سہولیات کا معیار واقعی یکساں ہے؟ سماجی اور انسانی حقوق کے حلقوں کا کہنا ہے کہ جیل میں قید شخص خواہ سابق وزیر اعظم ہو، انسانی حقوق کا وکیل ہو یا ایک عام سزا یافتہ قیدی، بیماری کی صورت میں اس کے علاج کا فیصلہ اس کی سیاسی، سماجی یا مالی حیثیت کے بجائے اس کی طبی ضرورت کی بنیاد پر ہونا چاہیے۔ ان کے مطابق اگر کسی قیدی کو جیل سے باہر علاج کی ضرورت ہے تو اس کے لیے واضح، یکساں اور قابلِ عمل معیار ہونا چاہیے۔
تاہم اڈیالہ جیل کے تین عام قیدیوں کی درخواستیں مسترد ہونے کے عمل نے بااثر اور عام قیدیوں کے لیے علاج معالجے کے مختلف معیار کی بحث کو شدت دے دی ہے۔ اگرچہ عدالت نے واضح کردیا ہے کہ عمران خان کے لیے جاری کیا گیا عبوری حکم ہر قیدی کو اپنی پسند کے نجی ہسپتال میں علاج کا خودکار حق نہیں دیتا، لیکن تینوں درخواست گزاروں کا اپیل میں جانے کا فیصلہ اس تنازع کو مزید آگے لے جائے گا۔ اصل سوال اب یہی ہے کہ اگر کسی قیدی کی صحت واقعی سنگین ہو تو کیا اس کے علاج کا فیصلہ اس کی حیثیت دیکھ کر ہوگا یا صرف اس کی طبی ضرورت کی بنیاد پر؟ اور اگر ریاست تمام قیدیوں کو یکساں طبی سہولیات فراہم کرنے کی ذمہ دار ہے تو پھر بااثر اور عام قیدیوں دونوں کو بار بار عدالتوں سے رجوع کرنے کی ضرورت کیوں پیش آرہی ہے؟
