خلیجی ممالک اچانک پاکستان سے کیوں ہاتھ ملانے لگے؟

ایران اور امریکہ کی جنگ کے نتیجے میں بڑے پیمانے پر نقصان اٹھانے والے خلیجی ممالک اپنا دفاع مضبوط بنانے کے لیے اب واشنگٹن پر انحصار کم کرتے ہوئے اسلام آباد سے ہاتھ ملاتے نظر آتے ہیں۔

یاد ریے کہ سعودی عرب، کویت اور دیگر خلیجی ریاستیں طویل عرصے سے اپنے دفاع کے لیے امریکہ پر انحصار کرتی آئی ہیں، لیکن ایران پر امریکی حملوں کے رد عمل میں وہاں ہونے والی تباہی نے انہیں یہ سوچنے پر مجبور کردیا ہے کہ اگر امریکی فوجی طاقت اور دفاعی ضمانتیں بھی ہر خطرے کو روکنے کے لیے کافی نہیں تو پھر کسی ایک عالمی طاقت پر مکمل انحصار کیوں کیا جائے؟ یہی وہ پس منظر ہے جس میں سعودی عرب کے بعد کویت بھی پاکستان کے ساتھ دفاعی تعاون بڑھا رہا ہے اور سوال پیدا ہورہا ہے کہ کیا پاکستان بتدریج خلیج کے نئے سکیورٹی نظام میں ایک اہم دفاعی ستون بنتا جارہا ہے؟

خیال رہے کہ پاکستان اور کویت کے درمیان 27 اگست کو کویتی وزیر دفاع شیخ عبداللہ علی عبداللہ سالم الصباح کے دورے کے دوران دفاعی اور فوجی تعاون کے نئے معاہدے پر دستخط ہوئے ہیں۔ بظاہر یہ ایک معمول کا دفاعی تعاون کا معاہدہ ہے جس کے تحت فوجی تربیت، سرحدی انتظام، آپریشنل رابطہ کاری اور فوجی تیاری کے معیار کو بہتر بنانے پر توجہ دی جائے گی، لیکن اس معاہدے کا وقت اسے معمول کے دوطرفہ دفاعی معاہدے سے زیادہ اہم بنا دیتا ہے۔
یہ معاہدہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کے درمیان مکہ دفاعی معاہدے کو چند ہی ہفتے گزرے ہیں۔ اس معاہدے نے تینوں ممالک کے درمیان اجتماعی سکیورٹی تعاون کا ایک نیا تصور پیش کیا ہے۔ کسی ایک رکن کے خلاف مسلح حملے کو مشترکہ خطرے کے طور پر دیکھنے کی یہ سوچ خلیجی خطے میں پاکستان کے کردار کو ایک تربیتی یا مشاورتی شراکت دار سے آگے لے جاتی ہے۔

دفاعی تجزیہ کاروں کے مطابق ایران اور امریکہ کے درمیان جنگ اور اس کے نتیجے میں خلیجی ممالک کو لاحق میزائل، ڈرون، سمندری اور توانائی کے بنیادی ڈھانچے کے خطرات نے یہ حقیقت واضح کردی ہے کہ جدید جنگ میں صرف بڑی فوج یا کسی طاقتور اتحادی کی موجودگی کافی نہیں۔ خلیجی ممالک کو بیک وقت مختلف دفاعی صلاحیتوں، شراکت داروں اور ردعمل کے راستوں کی ضرورت ہے۔
امریکہ اب بھی خلیجی ممالک کا سب سے طاقتور دفاعی شراکت دار ہے۔ سعودی عرب، کویت اور دیگر خلیجی ریاستوں کے دفاعی نظام میں امریکی ہتھیار، فوجی اڈے، انٹیلی جنس، فضائی دفاع اور فوجی ٹیکنالوجی بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔ اس لیے پاکستان کے ساتھ بڑھتے ہوئے دفاعی روابط کا مطلب یہ نہیں ہے کہ امریکہ خلیجی ممالک سے علیحدہ ہو رہا ہے۔

اصل تبدیلی یہ ہے کہ خلیجی ریاستیں اب صرف امریکہ پر انحصار کرنے کے بجائے پاکستان، ترکی اور دیگر شراکت داروں کو بھی اپنے سکیورٹی حساب میں شامل کررہی ہیں۔ پاکستان اس نئی حکمت عملی کے لیے کئی وجوہات کی بنا پر پرکشش شراکت دار ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ پاکستان کے پاس ایک بڑی اور جنگی تجربہ رکھنے والی فوج، وسیع تربیتی صلاحیت، میزائل ٹیکنالوجی، فضائی دفاع کا تجربہ اور جوہری ٹیکنالوجی موجود ہے۔ اس کے علاوہ پاکستانی فوج کئی دہائیوں سے سعودی عرب اور دوسرے خلیجی ممالک کے ساتھ تربیت اور دفاعی تعاون کرتی رہی ہے۔ اس لیے خلیجی ریاستوں کے لیے پاکستان کوئی نیا دفاعی شراکت دار نہیں۔

سعودی عرب کے ساتھ پاکستان کے تعلقات اس سلسلے میں سب سے اہم مثال ہیں۔ دونوں ممالک کے درمیان دفاعی تعاون کئی دہائیوں پر محیط ہے اور پاکستانی فوجی اہلکار سعودی عرب میں تربیت اور مشاورت کے مختلف کردار ادا کرتے رہے ہیں۔ مکہ معاہدے نے اسی دیرینہ تعلق کو ایک زیادہ وسیع علاقائی سکیورٹی تناظر فراہم کیا ہے۔ اب کویت کے ساتھ دفاعی تعاون میں اضافہ ثابت کرتا ہے کہ پاکستان کی دفاعی سفارت کاری خلیج میں ایک نئے مرحلے میں داخل ہورہی ہے۔

دفاعی تجزیہ کاروں کے مطابق خلیجی ممالک کے لیے پاکستان کی اضافی کشش اس کی جغرافیائی اور سفارتی پوزیشن بھی ہے۔ پاکستان ایک طرف سعودی عرب اور دیگر خلیجی ریاستوں کے ساتھ قریبی تعلقات رکھتا ہے تو دوسری طرف ایران کے ساتھ بھی براہ راست سفارتی روابط برقرار رکھتا ہے۔ ایسے وقت میں جب خلیج میں ایران اور عرب ممالک کے درمیان کشیدگی کسی بھی وقت بڑھ سکتی ہے، پاکستان کے لیے مختلف فریقوں سے رابطہ رکھنے کی صلاحیت اسے محض ایک فوجی شراکت دار نہیں بلکہ ممکنہ سفارتی رابطہ کار بھی بنا سکتی ہے۔

خلیجی ممالک کی موجودہ حکمت عملی کو مختصرا بیان کیا جائے تو وہ یہ نہیں چاہتے کہ ان کی قومی سلامتی کا انحصار صرف ایک طاقت کی سیاسی ترجیحات پر ہو۔ اگر واشنگٹن کسی بحران میں براہ راست مداخلت نہ کرے، محدود مداخلت کرے یا اس کی ترجیحات خلیجی ریاستوں سے مختلف ہوں تو ان ممالک کے پاس دوسرے دفاعی شراکت دار موجود ہونے چاہئیں۔ پاکستان اور ترکی کے ساتھ بڑھتے ہوئے دفاعی روابط اسی تزویراتی لچک کو پیدا کرنے کی کوشش ہیں۔ لیکن یہ صورتحال ہے پاکستان کے لیے بھی غیر معمولی مواقع لے کر آئی ہے۔

دفاعی معاہدے پاکستان کو صرف فوجی اثر و رسوخ فراہم نہیں کرتے بلکہ اس کے نتیجے میں دفاعی صنعت، فوجی تربیت، ٹیکنالوجی، مشترکہ مشقوں اور معاشی تعاون کے نئے دروازے بھی کھل سکتے ہیں۔ اگر پاکستان اپنے دفاعی تجربے کو خلیجی ممالک کی بڑھتی ہوئی ضروریات کے ساتھ جوڑنے میں کامیاب ہوجاتا ہے تو اس کا علاقائی اثر و رسوخ نمایاں طور پر بڑھ سکتا ہے۔

Back to top button