پاکستانی کرکٹ دوراہے پر، محسن نقوی کے صبر کا پیمانہ لبریز

80 اور 90 کی دہائی میں پاکستان کرکٹ کا عروج دیکھنے والے شائقین کے لیے گزشتہ دو دہائیاں زیادہ خوشگوار نہیں رہیں، تاہم اس دوران بھی پاکستانی ٹیم کبھی کبھار ایسی کارکردگی ضرور دکھاتی رہی جس سے مداح ہر ورلڈ کپ یا بڑی سیریز سے پہلے نئی امیدیں باندھ لیتے تھے۔ 2009 کا ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ ہو، 2017 کی چیمپئنز ٹرافی یا کسی بڑی ٹیم کے خلاف اچانک غیر معمولی کارکردگی، پاکستانی کرکٹ ٹیم نے کئی مرتبہ ثابت کیا کہ اسے آخری گیند تک نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ یہی وجہ تھی کہ عالمی کرکٹ کے مبصرین پاکستانی ٹیم کو ’کسی بھی وقت کچھ بھی کر گزرنے والی ٹیم‘ قرار دیتے رہے۔

2017 کی چیمپئنز ٹرافی کے فائنل میں بھارت کے خلاف پاکستان کی شاندار فتح کے دوران جب شاداب خان نے وراٹ کوہلی کا کیچ پکڑا تو معروف کمنٹیٹر ناصر حسین کے الفاظ آج بھی پاکستانی شائقین کو یاد ہیں: انکا کہنا تھا ’’پاکستان کرکٹ، ون منٹ ڈاؤن، نیکسٹ منٹ اپ۔‘‘ یہ جملہ محض ایک میچ کی صورتحال نہیں بلکہ پاکستانی کرکٹ ٹیم کی مجموعی شناخت بن چکا تھا، جہاں ٹیم کبھی مایوس کرتی تو کبھی اچانک ایسی واپسی کرتی کہ پوری دنیا حیران رہ جاتی۔ لیکن یہی ناصر حسین لارڈز میں انگلینڈ کے ہاتھوں پاکستان کی 194 رنز کی شکست کے بعد ایک بالکل مختلف پاکستانی ٹیم کو دیکھ رہے تھے۔

ان کے مطابق ٹیم میں جوش و جذبے کا فقدان تھا، بولرز کے پاس رفتار نہیں تھی اور وہ پاکستان جسے ماضی میں سخت مقابلہ کرنے والی ٹیم سمجھا جاتا تھا، اب ویسی نظر نہیں آتی۔ یہاں تک کہ انہوں نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ بھارت اور پاکستان کے مقابلوں کو عالمی کرکٹ میں شاید ضرورت سے زیادہ اہمیت دی جاتی ہے، کیونکہ حقیقت یہ ہے کہ یہ مقابلے بھی اب کئی مرتبہ یکطرفہ دکھائی دیتے ہیں۔ پاکستانی ٹیم کی گزشتہ تین برس کی ٹیسٹ کارکردگی کو دیکھا جائے تو صورتحال مزید تشویشناک نظر آتی ہے۔ کرکٹ ٹیم کو مسلسل شکستوں کا سامنا ہے اور وائٹ بال کرکٹ میں بھی اس کی کارکردگی میں وہ تسلسل دکھائی نہیں دیتا جس کی اس سے توقع کی جاتی ہے۔ ایسے میں انگلینڈ کے خلاف ٹیسٹ سیریز کے دوران پاکستان کرکٹ بورڈ کی جانب سے کیا جانے والا فیصلہ اچانک پاکستانی کرکٹ کے بحران کو ایک نئے مرحلے میں لے آیا ہے۔

31 اگست کی شب پاکستان کرکٹ بورڈ نے غیر معمولی فیصلہ کرتے ہوئے پہلے ٹیسٹ میں ٹیم کی قیادت کرنے والے سلمان علی آغا، محمد رضوان اور امام الحق سمیت سات کھلاڑیوں کو سیریز مکمل ہونے سے پہلے پاکستان واپس بلانے کا اعلان کیا اور ان کی جگہ سات متبادل کھلاڑیوں کو انگلینڈ بھیجنے کا فیصلہ کیا۔ خراب سیریز کے بعد کپتان، کوچ یا کھلاڑی تبدیل کرنا پاکستان کرکٹ میں کوئی نئی بات نہیں، لیکن سیریز ہارنے کے بعد، آخری ٹیسٹ سے عین پہلے اتنے بڑے پیمانے پر کھلاڑیوں کو واپس بلانا غیر معمولی قرار دیا جا رہا ہے۔ تاہم ایک بات طے ہے کہ کرکٹ بورڈ کے چیئرمین محسن نقوی کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو چکا ہے۔

ٹیم میں بڑے پیمانے پر اکھاڑ پچھاڑ کے فیصلے نے نہ صرف پاکستان بلکہ عالمی کرکٹ حلقوں میں بھی بحث چھیڑ دی ہے۔ سوشل میڈیا پر بھارتی مبصرین، غیر ملکی تجزیہ کاروں اور پاکستان کے سابق کرکٹرز کی جانب سے سوال اٹھائے جا رہے ہیں کہ آخر سیریز کے دوران ایسا قدم اٹھانے کی ضرورت کیوں پیش آئی؟ اگر کچھ کھلاڑیوں نے توقعات کے مطابق کارکردگی نہیں دکھائی تو کیا انہیں آخری ٹیسٹ کھیلنے کا موقع بھی نہیں دیا جانا چاہیے تھا؟ اور سب سے اہم سوال یہ ہے کہ کیا یہ وہی ’سرجری‘ ہے جس کا چیئرمین کرکٹ بورڈ محسن نقوی نے 2024 کے ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں پاکستان کی ناقص کارکردگی کے بعد وعدہ کیا تھا؟

ٹیم میں تبدیلیوں پر تنقید کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ واپس بلائے جانے والوں میں وہ نام بھی شامل ہیں جو پاکستان کے حالیہ ٹیسٹ منصوبوں کا حصہ رہے ہیں۔ دوسری جانب ان کی جگہ جن کھلاڑیوں کو انگلینڈ بھیجا جا رہا ہے، ان میں بعض ایسے ہیں جنہوں نے طویل عرصے سے ٹیسٹ کرکٹ نہیں کھیلی۔ یوں یہ سوال بھی پیدا ہو رہا ہے کہ اگر مقصد ٹیم کو مستقبل کے لیے تیار کرنا ہے تو کیا سیریز کے دوران اچانک تبدیلیاں اس مقصد کے لیے موزوں حکمت عملی ہیں یا اس سے ٹیم کے اندر غیر یقینی اور عدم تحفظ مزید بڑھے گا؟
پاکستان کرکٹ بورڈ کے سابق چیئرمین رمیز راجہ نے بھی بورڈ کے اس فیصلے پر سخت تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ماضی میں وہ خود پاکستانی کرکٹ میں بنیادی اور انقلابی تبدیلیوں کے حامی رہے ہیں اور پہلے ٹیسٹ میں شکست کے بعد بھی انہوں نے کہا تھا کہ پاکستان کرکٹ کے حالات مزید خرابی کی طرف جاتے دکھائی دے رہے ہیں اور بنیادی تبدیلیوں کی ضرورت ہے۔ لیکن اب جب عملی طور پر بڑے پیمانے پر تبدیلیاں کی گئی ہیں تو رمیز راجہ کا مؤقف ہے کہ اس انداز میں کی جانے والی تبدیلیاں مسئلے کو حل کرنے کے بجائے مزید پیچیدہ بنا سکتی ہیں۔

رمیز راجہ کے مطابق کھلاڑیوں کو اچانک واپس بھیجنے اور ان کی جگہ نئے کھلاڑیوں کو بلانے سے موجودہ اور نئے دونوں گروپوں کا اعتماد متاثر ہو سکتا ہے۔ ان کے خیال میں ٹیم کے کھلاڑی پھر پاکستان کے لیے کھیلنے کے بجائے اپنی جگہ پکی کرنے کی کوشش کریں گے، جس سے اجتماعی مقصد کے بجائے انفرادی کارکردگی کا دباؤ بڑھ جائے گا۔ انہوں نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ آخر کیا ضمانت ہے کہ نئے آنے والے کھلاڑی انگلینڈ میں اچھی کارکردگی دکھا دیں گے، خصوصاً جب ان میں سے بعض نے طویل عرصے سے ٹیسٹ کرکٹ ہی نہیں کھیلی۔

تاہم انہوں نے یہ اعتراف کیا کہ اگر ان سے پوچھا جائے کہ پاکستان کرکٹ کو بہتر بنانے کا حل کیا ہے تو ان کے پاس بھی کوئی فوری یا مکمل حل موجود نہیں۔ رمیز راجہ کی حالیہ تنقید کو ان کے پہلے بیان کے تناظر میں بھی دیکھا جا رہا ہے۔ پہلے ٹیسٹ میں شکست کے بعد انہوں نے کہا تھا کہ پاکستان کرکٹ کی صورتحال مزید خراب ہوتی دکھائی دے رہی ہے اور اس میں بنیادی تبدیلیاں ضروری ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستانی کرکٹ کا ایک اہم ستون یعنی شائقین پہلے ہی گر چکا ہے کیونکہ مسلسل خراب کارکردگی نے انہیں مایوس کر دیا ہے۔ ان کے مطابق اگر گزشتہ 20 ٹیسٹ میچز میں سے 17 میں شکست ہو تو کسی بھی ٹیم کے شائقین کا اعتماد برقرار رکھنا مشکل ہو جاتا ہے۔

دوسری جانب پاکستان کرکٹ بورڈ نے اس شدید تنقید کے باوجود اپنے فیصلے کا دفاع کیا ہے۔ پی سی بی ترجمان عامر میر کا کہنا ہے کہ بورڈ اگر تبدیلیاں نہ کرے تو بھی تنقید ہوتی ہے اور اگر اصلاح کے لیے تبدیلیاں کرے تو بھی سوالات اٹھائے جاتے ہیں، ایسے میں بورڈ جائے تو جائے کہاں۔ ان کے مطابق موجودہ فیصلوں کو کسی جذباتی ’سرجری‘ کے بجائے ٹیم میں اصلاحی اقدامات کے طور پر دیکھنا زیادہ مناسب ہوگا۔
عامر میر کے مطابق ٹیم مینجمنٹ نے کھلاڑیوں کو ایک واضح پیغام دیا ہے کہ اگر وہ اچھی کارکردگی نہیں دکھائیں گے تو ٹیم میں ان کی جگہ نہیں رہے گی۔ ان کے بقول جو کھلاڑی واپس پاکستان آ رہے ہیں، ان کی جگہ متبادل کھلاڑی بھی بھیجنے تھے جو کہ جا رہے ہیں۔ پی سی بی ترجمان نے یہ بھی واضح کیا کہ اس وقت ٹیم کی تمام مینجمنٹ انگلینڈ میں موجود ہے، اس لیے واپسی کے بعد ہی جائزہ لیا جائے گا کہ ٹیم کی بہتری کے لیے مزید کیا اقدامات کیے جا سکتے ہیں۔

ناقدین کے مطابق پاکستان کرکٹ کا سب سے بڑا مسئلہ گزشتہ کئی برسوں سے صرف کھلاڑیوں کی انفرادی کارکردگی نہیں بلکہ مستقل مزاجی، سلیکشن پالیسی، ٹیم مینجمنٹ، کپتانی، کوچنگ اور فرسٹ کلاس نظام سمیت کئی سطحوں پر نظر آتا ہے۔ ایک سیریز کے دوران چند کھلاڑیوں کو واپس بلا دینا شاید ایک مضبوط پیغام ضرور دے، لیکن اس سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ پاکستان کرکٹ کے وہ بنیادی مسائل بھی حل ہو گئے ہیں جو اسے بار بار اسی مقام پر لے آتے ہیں۔ اس لیے محسن نقوی کے دور میں ہونے والی اس ’سرجری‘ کا اصل امتحان آخری ٹیسٹ یا صرف انگلینڈ سیریز نہیں بلکہ آنے والی کئی سیریز ہوں گی۔ اگر نئے کھلاڑی موقع ملنے پر مستقل کارکردگی دکھاتے ہیں، ٹیم کا مورال بہتر ہوتا ہے اور پاکستان ٹیسٹ کرکٹ میں دوبارہ مسابقتی ٹیم بننے لگتا ہے تو موجودہ فیصلے کو ایک ضروری اصلاحی قدم قرار دیا جا سکتا ہے۔ لیکن اگر کھلاڑی تبدیل ہونے کے باوجود شکستوں کا سلسلہ جاری رہا تو پھر یہ سوال زیادہ شدت سے اٹھے گا کہ مسئلہ کھلاڑیوں میں تھا یا اس پورے نظام میں جو بار بار ایک ہی بحران کو جنم دے رہا ہے۔

پاکستانی کرکٹ اس وقت ایک ایسے موڑ پر کھڑی ہے جہاں شائقین کو محض ایک اور ’سرپرائز‘ کی نہیں بلکہ مستقل مزاجی، واضح منصوبہ بندی اور قابلِ اعتماد ٹیم کی ضرورت ہے۔ ماضی میں پاکستان کی خاص بات یہی تھی کہ وہ ایک لمحے میں بدترین صورتحال سے نکل کر دنیا کی بہترین ٹیموں کو شکست دے سکتی تھی۔ اب اصل چیلنج یہ ہے کہ ’ون منٹ ڈاؤن، نیکسٹ منٹ اپ‘ والی ٹیم صرف یادوں میں نہ رہ جائے بلکہ پاکستانی کرکٹ دوبارہ ایسی ٹیم بنے جو ہر بڑے مقابلے میں جیت کی امید پیدا کر سکے۔

Back to top button