برفیلے پہاڑ سر کرنے والی اسمہ مشتاق کی موت کی کہانی

برف سے ڈھکی ہوئی دنیا کی بلند ترین چوٹیوں کو سر کرنا ہمیشہ سے ایک مشکل کام رہا ہے، لیکن برفیلے پہاڑوں سے بحفاظت زندہ واپس لوٹ آنا ہر کسی کی قسمت میں نہیں لکھا ہوتا۔ اس تلخ حقیقت کا اندازہ پاکستانی خاتون کوہ پیما ڈاکٹر اسمہ مشتاق کی المناک موت سے بخوبی لگایا جاسکتا ہے، بہادر اسمہ نے 7 ہزار 27 میٹر بلند سپنٹک چوٹی کو کامیابی سے سر کیا، لیکن واپسی کے سفر میں تقریباً 6 ہزار 400 میٹر کی بلندی پر وہ اچانک ہائی آلٹی ٹیوڈ سکنس high altitude sickness کا شکار ہونے کے بعد جان کی بازی ہار گئیں۔
34 سالہ ڈاکٹر اسمہ مشتاق کی موت 20 اگست کو ہوئی، لیکن انتہائی دشوار گزار پہاڑی علاقے، شدید برف باری اور خراب موسم کے باعث ان کی میت کو نیچے نہیں لایا جاسکا۔ ان کی میت پہاڑوں سے نیچے لانے کے لیے موسم بہتر ہونے کا انتظار کیا جا رہا تھا لیکن اس دوران شدید برف باری نے ان کے جسد خاکی کو نظروں سے اوجھل کر دیا جس کی تلاش کئی روز سے جاری تھی۔
بالآخر 31 اگست کے روز کوہ پیماؤں کی ایک رضاکار ٹیم نے تقریباً 6 ہزار 250 میٹر کی بلندی پر کیمپ تھری کے قریب سے ان کی میت تلاش کر کر لی جو کہ برف میں دب چکی تھی۔ اب اسے پہاڑوں سے نیچے لانے کی کوششیں کی جا رہی ہیں اور امید کی جا رہی ہے کہ انکی ڈیڈ باڈی اگلے 24 سی 48 گھنٹوں میں اپنے پیاروں کے پاس پہنچ جائے گی۔
یاد ریے کہ ڈاکٹر اسمہ پانچ رکنی پاکستانی خواتین کوہ پیماؤں کی اس مہم کا حصہ تھیں جس میں زونی اسلم، زبا شگری، شمع اور سوهانا بھی شامل تھیں۔ الپائن کلب آف پاکستان کے مطابق اسمہ نے سپنٹک کی چوٹی کامیابی سے سر کی اور اس وقت ان کی میڈیکل کنڈیشن بھی ٹھیک تھی تھی، تاہم نیچے اترتے ہوئے تقریباً 6,400 میٹر کی بلندی پر انہیں ہائی آلٹی ٹیوڈ سکنس high altitude sickness کا شدید حملہ ہوا جو جان لیوا ثابت ہوا۔
طبی ماہرین کے مطابق بلند مقامات پر فضا میں آکسیجن کی کمی جسم کو شدید طور پر متاثر کرتی ہے، خصوصاً جب کوہ پیما تیزی سے بلندی کی طرف جائے اور جسم کو نئے ماحول کے مطابق ڈھالنے کے لیے مناسب وقت نہ مل سکے۔ ہائی آلٹی ٹیوڈ سکنس پھیپھڑوں اور دماغ کو متاثر کرنے والی سنگین پیچیدگی کا باعث بنتی ہے۔ ویسے بھی انتہائی بلندی پر معمولی سا میڈیکل مسئلہ بھی چند گھنٹوں میں جان لیوا شکل اختیار کرسکتا ہے۔
اسمہ مشتاق کی میت کی بازیابی بھی اب تک ایک انتہائی خطرناک مہم ثابت ہوئی ہے۔ موجودہ کوہ پیماؤں کی ٹیم سے پہلے ایک چھ رکنی ٹیم نے اسمہ کی میت نیچے لانے کی کوشش کی، تاہم شدید برف باری کے باعث یہ آپریشن کامیاب نہ ہوسکا۔ بعدازاں شگر کے علاقے سے تعلق رکھنے والے رضاکار کوہ پیماؤں کی نئی ٹیم نے اپنی مدد آپ کے تحت ریسکیو آپریشن شروع کیا اور 31 اگست کی صبح تقریباً 3 بجے تلاش کا آغاز کیا۔ آٹھ گھنٹے کی مسلسل تلاش کے بعد صبح تقریباً 11 بجے ٹیم نے اسمہ کی میت کو کیمپ تھری کے قریب تلاش کرلیا۔
الپائن کلب آف پاکستان کے سیکریٹری جنرل ایاز شگری کے مطابق ریسکیو ٹیم نے میت کو کیمپ ٹو تک منتقل کرنے کا عمل شروع کر رکھا ہے جبکہ ڈیڈ باڈی کے بیس کیمپ پہنچنے پر پاکستان آرمی کا ہیلی کاپٹر اس کو سکردو منتقل کر دے گا۔ تاہم بلند و بالا پہاڑی علاقوں میں موسم اور زمینی حالات کے باعث میت کی منتقلی ایک مشکل مرحلہ ہے جس کی تکمیل ہونا ابھی باقی ہے۔
ماہرین کے مطابق 6 ہزار میٹر سے زیادہ بلندی سے کسی کوہ پیما کی میت کو نیچے لانا انتہائی خطرناک کام ہے۔ شدید سردی، کم آکسیجن، برفانی تودوں کا خطرہ، دشوار گزار راستے اور اچانک تبدیل ہونے والا موسم ریسکیو ٹیموں کے لیے خطرات کئی گنا بڑھا دیتے ہیں۔
یہی وجہ ہے کہ دنیا کے بلند ترین پہاڑوں پر بعض اوقات مرنے والے کوہ پیماؤں کی میتیں واپس لانے کے بجائے وہیں برف میں دفنا دی جاتی ہیں۔ یاد رہے کہ ڈاکٹر اسمہ مشتاق کا تعلق لاہور سے تھا اور وہ برطانیہ میں ڈاکٹر کی حیثیت سے خدمات انجام دے رہی تھیں۔ پیشہ ورانہ زندگی کے ساتھ انہیں سفر، مہم جوئی، کوہ پیمائی اور وی لاگنگ کا بھی شوق تھا۔ وہ اس سے قبل 4 ہزار 76 میٹر بلند موسیٰ کا مصلیٰ چوٹی بھی سر کرچکی تھیں۔
سپنٹک چوٹی پر اسمہ کی موت نے دوبارہ یہ سوال کھڑا کر دیا ہے کہ دنیا کی بلند ترین چوٹیوں پر کوہ پیمائی کے دوران اصل امتحان صرف چوٹی تک پہنچنا ہی ہوتا ہے یا وہاں سے بحفاظت زندہ واپس آنا بھی ہوتق ہے۔ اسمہ مشتاق نے 7,027 میٹر بلند سپنٹک کو فتح تو کرلیا، مگر واپسی کے سفر نے ان کی زندگی کا سفر ہی تمام کردیا۔ موت کے 10 روز بعد انتہائی مشکل حالات میں ان کی میت کی بازیابی دردناک حقیقت کی یاد دہانی ہے کہ بلند و بالا پہاڑ انسانی قوت، مہارت اور حوصلے کے باوجود کس قدر بے رحم ہوسکتے ہیں۔
