افسوس کی بات ہے کہ مجھے تھریٹ پڑوسی ملک سے کم لیکن میرے پڑوسی صوبے سے زیادہ ہے: مریم نواز

ٹرائی بارڈر ایریا اور قریبی صوبوں سے خطرات لاحق ہیں، عوام کی حفاظت کے لیے خود کو رسک میں ڈال کر فیصلے کیے، پنجاب کو ٹیکنالوجی این ایبل صوبہ بنانے کے لیے اربوں روپے خرچ کیے: وزیراعلیٰ پنجاب

لاہور: وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے کہا ہے کہ افسوس کی بات ہے کہ انہیں تھریٹ پڑوسی ملک سے کم لیکن پڑوسی صوبے سے زیادہ ہے، ٹرائی بارڈر ایریا اور قریبی صوبوں سے خطرات آتے ہیں۔ عوام کی حفاظت کے لیے خود کو رسک میں ڈال کر فیصلے کیے اور پنجاب کو ٹیکنالوجی ایبل صوبہ بنانے کے لیے اربوں روپے خرچ کیے ہیں۔

وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے پیفٹک آفس میں آرٹیفیشل انٹیلی جنس (اے آئی) ہب کی ای لانچنگ کی اور اے آئی انٹیلی جنس ہب پراجیکٹ کا افتتاح کیا۔ پیفٹک ہیڈکوارٹر میں اے آئی انٹیلی جنس پراجیکٹ سے متعلق انہیں تفصیلی بریفنگ بھی دی گئی۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مریم نواز شریف نے کہا کہ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے چند ماہ پہلے آرٹیفیشل انٹیلی جنس کا تصور عملی شکل اختیار کر گیا ہے۔ انہوں نے پاک فوج اور کور کمانڈر لاہور لیفٹیننٹ جنرل فیاض حسین شاہ کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ان کا تعاون قابلِ تحسین ہے۔

وزیراعلیٰ نے ریکارڈ وقت میں اے آئی انٹیلی جنس ہب کے قیام پر وزیر داخلہ خواجہ سلمان رفیق، سیکرٹری ہوم احمد جاوید قاضی اور دیگر افسران کو شاباش اور مبارکباد دی۔ انہوں نے کہا کہ پولیس، اسپیشل برانچ اور دیگر قانون نافذ کرنے والے ادارے بھی شاباش کے مستحق ہیں۔

مریم نواز شریف نے کہا کہ تمام سکیورٹی اداروں نے عوام کی حفاظت اور امن و امان کے قیام کے لیے ون یونٹ بن کر کام کیا۔ سکیورٹی کے حوالے سے مشکلات اور چیلنجز کے باوجود قابلِ فخر کامیابیاں حاصل کی جا رہی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پنجاب ایسا صوبہ ہے جو ہر مشکل وقت میں عوام کے لیے فوری رسپانس دیتا ہے۔ گزشتہ سال بارشوں کے باعث پیدا ہونے والی خطرناک صورتحال میں پوری ٹیم نے ون یونٹ بن کر کام کیا۔ رواں سال جس طرح بارشیں ہو رہی ہیں، سیوریج اور ڈرینج کی خراب صورتحال کے باوجود بارشی پانی نکالا جا رہا ہے۔ پنجاب بھر کے سیوریج اور ڈرینج سسٹم کی مکمل درستگی اور بحالی کے لیے اربوں نہیں بلکہ کھربوں روپے درکار ہیں۔

وزیراعلیٰ نے کہا کہ اے آئی انٹیلی جنس ہب کے قیام کے بعد اضلاع میں آرڈینیشن کمیٹی کو ڈیجیٹل الرٹ جاری کیے جائیں گے۔ پنجاب میں اب اقلیتوں کے ساتھ جرائم یا غیرمناسب سلوک روا نہیں رکھا جا سکتا۔

مریم نواز شریف نے کہا کہ ماضی میں منشیات ہر گلی محلے میں نئی نسل کے لیے خطرہ بن چکی تھیں، تاہم اب ایسا نہیں ہے۔ پنجاب میں کچھ عرصہ پہلے تک جرائم کی صورتحال بہت خراب تھی اور دن دیہاڑے قتل کے واقعات پیش آتے تھے۔ پنجاب کے کئی اضلاع میں روزانہ پانچ پانچ، چھ چھ قتل ہو جاتے تھے۔

انہوں نے کہا کہ کچھ جماعتیں مذہب کا کور لے کر منافرت پھیلانے میں ملوث رہی ہیں۔ پولیس کچھ عرصے تک اپنے تمام کام چھوڑ کر منافرت پھیلانے والوں کو سنبھالنے میں مصروف رہتی تھی۔

وزیراعلیٰ نے کہا کہ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے محرم الحرام، عید میلاد النبی ﷺ اور دیگر تہوار اچھے ماحول میں گزر گئے۔ وقت سے پہلے مسائل کے حل پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔

مریم نواز شریف نے کہا کہ بدقسمتی سے بحیثیت قوم ہم سمجھتے ہیں کہ قانون صرف دکھانے کی چیز ہے۔ جہاں قانون نافذ کیا جائے، وہاں بلا تفریق و امتیاز انصاف کے ساتھ قانون کی عملداری یقینی بنائی جائے۔ جب قانون دوسروں پر نافذ ہوتا ہے تو ہم خوش ہوتے ہیں۔

انہوں نے تجاوزات کے خلاف آپریشن کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ دورانِ آپریشن کسی ریڑھی والے کو اٹھانے پر افسوس ہوتا تھا۔ ہم نے ریڑھی والوں کو صرف ہٹایا نہیں بلکہ ان کے روزگار کے لیے متبادل جگہ بھی فراہم کی۔

وزیراعلیٰ نے کہا کہ بائیک سواروں کو ہیلمٹ پہنانا بہت مشکل کام تھا، تاہم اب اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے کوئی ہیلمٹ کے بغیر نظر نہیں آتا۔ ہیلمٹ پہننے یا نہ پہننے سے کسی اور کو کوئی فرق نہیں پڑتا، لیکن بائیک سوار بغیر ہیلمٹ اپنی جان خطرے میں ڈالتا ہے۔

مریم نواز شریف نے کہا کہ مجھے ان ماؤں کی فکر ہے جو اپنے بچوں کو روزگار کے لیے گھر سے بائیک پر باہر بھیجتی ہیں۔ لاہور میں ٹریفک کے لیے لین ڈسپلن نافذ کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے جبکہ پنجاب بھر میں زیبرا کراسنگ کامیابی سے نافذ ہو رہی ہے۔ سڑک پر پیدل چلنے والوں کو بھی ڈسپلن اور قوانین کی پابندی کی تربیت دینے کی ضرورت ہے۔

انہوں نے کہا کہ لاہور بسنت کے حوالے سے جانا جاتا تھا، لیکن جب ڈور سے لوگوں کی گردنیں کٹنے لگیں تو پابندی لگانا پڑی۔ لاہور میں بسنت کا انعقاد مشکل فیصلہ تھا، لیکن ہم نے کر کے دکھایا۔ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے محفوظ بسنت منائی گئی اور پانچ بجے وقت ختم ہونے کے بعد آسمان پر کوئی پتنگ نظر نہیں آئی۔ قانون کی پاسداری ہر لحاظ سے مستحسن اقدام ہے۔

وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے کہا کہ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے جرائم میں 70 فیصد تک کمی آ چکی ہے۔ بچوں اور خواتین کے ساتھ زیادتی کرنے والے ذہنی مریض ہیں۔ 10 ماہ کی بچی کے ساتھ زیادتی جیسے واقعات انسانیت پر اعتماد کو متزلزل کر دیتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ عوام اپنے اور جان و مال کے تحفظ کے لیے میری طرف دیکھ رہے ہیں۔ عوام کا تحفظ میری ذمہ داری ہے اور میں اپنی جان کی پرواہ کیے بغیر اس کے لیے کوشش کر رہی ہوں۔ سڑکیں اور ترقیاتی منصوبے بن رہے ہوں، لیکن اگر کسی کا جانور، بائیک یا گاڑی چوری ہو جائے یا غریب آدمی کا سرمایہ لٹ جائے تو ایسی ترقی کا کیا فائدہ؟ ترقیاتی منصوبوں کے ساتھ امن و امان کا قیام بھی بے حد ضروری ہے۔

مریم نواز شریف نے کہا کہ خود کو رسک میں ڈال کر اور خطرہ مول لے کر عوام کی حفاظت کے لیے فیصلے کیے ہیں۔ ٹرائی بارڈر ایریا اور قریبی صوبوں سے تھریٹ آتے ہیں۔ پنجاب کو ٹیکنالوجی ایبل صوبہ بنانے کے لیے اربوں روپے خرچ کیے گئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پہلے چیک پوسٹوں پر حملوں میں درجنوں اہلکار شہید ہو جاتے تھے اور دہشت گردوں کے پاس پولیس سے بہتر اسلحہ اور نائٹ ویژن کیمرے ہوتے تھے۔ اب جوائنٹ چیک پوسٹوں کو مضبوط ترین بنایا گیا ہے اور وہاں بلٹ پروف، تھرمل اور نائٹ ویژن کیمرے نصب کیے گئے ہیں۔

وزیراعلیٰ نے کہا کہ اب چیک پوسٹوں پر حملہ ہو بھی جائے تو جانی نقصان نہیں ہوتا۔ کچے کا علاقہ دہشت گردوں اور جرائم کا مرکز بن چکا تھا، تاہم اب ریاست کی رٹ قائم ہونے سے یہ کرائم فری ایریا بن چکا ہے۔

انہوں نے کہا کہ کرپشن کے خلاف فیصلہ کن کارروائی کا آغاز کر دیا گیا ہے۔ لگتا ہے کہ بحیثیت قوم کرپشن سرایت کر چکی ہے اور بدقسمتی سے کرپشن کو برائی کے بجائے معمول کا حصہ سمجھا جاتا ہے۔ جہاں بھی کرپشن ہوگی، اسے معاف نہیں کیا جائے گا۔

مریم نواز شریف نے کہا کہ ستھرا پنجاب میں کرپشن خود سامنے آئی اور سب کو معطل کر دیا گیا۔ پنجاب میں کرپشن زیادہ نہیں بلکہ کرپشن کے خلاف ایکشن زیادہ ہے۔ دیگر صوبوں کے مقابلے میں پنجاب میں کرپشن بہت کم ہے، لیکن اس کے باوجود پنجاب کرپشن کے خلاف کارروائی جاری رکھے گا۔ 100 روپے کی کرپشن بھی ہوئی تو اس کا پیچھا کریں گے۔

وزیراعلیٰ نے کہا کہ کرپشن کی نشاندہی کے لیے عوام کے لیے ہیلپ لائن بھی قائم کی گئی ہے۔ کرپشن کا ثبوت ملتے ہی گرفتاریاں ہوں گی۔ آئی جی، آر پی او اور دیگر افسران کو خود کرپٹ عناصر کو فلٹر کرنے کے لیے تحریری ہدایات جاری کر دی گئی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پولیس اہلکاروں کو باڈی کیم فراہم کیے گئے ہیں تاکہ معلوم ہو سکے کہ وہ 10 گھنٹے کی ڈیوٹی کے دوران کیا کر رہے ہیں۔ عوام کو اگر حکومت پر اعتماد نہیں ہوگا تو ہم پیچھے رہ جائیں گے۔

مریم نواز شریف نے کہا کہ پیفٹک کے قیام سے پنجاب کو دہشت گردی کے خلاف ٹائم رسپانس میں بھرپور مدد ملے گی۔ اگر واقعات رونما ہونے سے پہلے ہی انہیں کنٹرول کر لیا جائے تو یہی کامیابی ہوگی۔

وزیراعلیٰ پنجاب نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ پاکستان کو دن دگنی اور رات چوگنی ترقی دے۔ انہوں نے کہا کہ دنیا میں پاکستان کے بارے میں تصور بدل رہا ہے۔

Back to top button