فوجی ٹرائلز کے خلاف سپریم کورٹ کا بنچ دوسری بارٹوٹ گیا؟

فوجی عدالتوں میں سویلینز کے ٹرائل کے خلاف کیس کی سماعت کے لیے تشکیل کردہ 9 رکنی لارجر بینچ ٹوٹنے کے بعد 7 رکنی بینچ بھی ٹوٹ گیا۔وفاقی حکومت کے خود پر اعتراض کے بعد جسٹس منصور علی شاہ 7 رکنی بینچ سے  علیحدہ ہو گئے، چیف جسٹس نے ایک مرتبہ پھر پھرتی کا مظاہرہ کرتے ہوۓ فوری طور پر اس کیس کے لئے نیا بنچ تشکیل دے دیا اور اب صرف چھ رکنی بنچ کیس کی سماعت کر رہا ہے فوجی عدالتوں میں آرمی ایکٹ کے تحت عام شہریوں کے مقدمات چلانے کے خلاف سپریم کورٹ میں دائر درخواستوں پر پیر چھبیس جون  7 رکنی بینچ نے سماعت کا آغاز کیا۔

 پیر چھبیس جون  7 رکنی بینچ نے سماعت کا آغاز کیا ۔ لارجر بینچ چیف جسٹس عمر عطا بندیال کے علاوہ جسٹس اعجاز الاحسن، جسٹس منصور شاہ، جسٹس منیب اختر، جسٹس یحییٰ آفریدی، جسٹس سید مظاہر علی اکبر اور جسٹس عائشہ ملک پر مشتمل تھا۔سماعت کے آغاز پر وفاقی حکومت نے جسٹس منصور علی شاہ کے بینچ میں شامل ہونے پر اعتراض اٹھا دیا، اٹارنی جنرل نے روسٹرم پر آ کر بینچ کے حوالے سے وفاقی حکومت کی ہدایات سے عدالت کو آگاہ کیا۔

اٹارنی جنرل نے کہا کہ ایک درخواست گزار جسٹس منصور علی شاہ کے رشتہ دار ہیں، اس لیے ان کے کنڈکٹ پر اثر پڑ سکتا ہے۔چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ آپ کی خواہش پر بینچ نہیں بن سکتے، حکومت عدلیہ کی تضحیک نہ کرے، حکومت ہمیں ہم خیال ججز کا طعنہ دیتی ہے، آپ کس بات پر اس عدالت کے معزز جج پر پر اعتراض اٹھا رہے ہیں؟ اٹارنی جنرل نے جواب دیا کہ میرا ذاتی طور پر کوئی اعتراض نہیں ہے۔

چیف جسٹس نے مزید ریمارکس دیے کہ ہم نے ہمیشہ تحمل کا مظاہرہ کیا، ہم نے عدالتی فیصلوں پر عمل درآمد نہ کرنے والوں کو سزا نہیں سنائی، عدالت کے فیصلوں پر عمل درآمد اخلاقی ذمہ داری ہے، ہمارے پاس فیصلوں پر عمل کے لیے کوئی چھڑی نہیں، بہت سے لوگوں کے پاس چھڑی ہے لیکن ان کے پاس اخلاقی جواز کیا ہے؟جسٹس منصور علی شاہ نے ریمارکس دیے کہ میں نے تو پہلے ہی دن آکر کہا تھا کسی کو کوئی اعتراض ہے تو بتا دیں۔

چیف جسٹس نے اٹارنی جنرل سے مکالمہ کیا کہ مفادات کے ٹکراؤ پر اعتراض اٹھا رہے ہیں، آپ ایک بہت اچھے کردار اور اچھی ساکھ کے مالک وکیل ہیں، ایک پوری سیریز ہے جس میں بینچ پر باربار اعتراض اٹھایا جا رہا ہے، پہلے یہ بحث رہی کہ پنجاب الیکشن کا فیصلہ 3 ججوں کا تھا یا 4 کا، جواد ایس خواجہ صاحب ایک درویش انسان ہیں، آپ ایک مرتبہ پھر بینچ کو متنازع بنا رہے ہیں۔ دوران سماعت شعیب شاہین نے کہا کہ یہ کسی کا ذاتی کیس نہیں یہ بنیادی حقوق کا کیس ہے جبکہ حامد خان نے ججز سے کیس سننے کی استدعا کی۔

جسٹس منصور علی شاہ نے ریمارکس دیے کہ سمجھنے کی کوشش کریں، یہ ججز کا اپنا فیصلہ ہے، میں یہ کیس نہیں سن سکتا۔سلمان اکرم راجا نے کہا کہ جسٹس منصور علی شاہ اپنے فیصلے پر نظرثانی کریں، جسٹس منصور علی شاہ نے ریمارکس دیے کہ میں اپنا کنڈکٹ اچھی طرح جانتا ہوں، کوئی ایک انگلی بھی اٹھا دے میں پھر کبھی اس بینچ کا حصہ نہیں رہتا۔حامد خان نے کہا کہ اس موقع پر اعتراض کی کوئی حیثیت نہیں، اس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ اب معزز جج خود ہی معذرت کر چکے ہیں۔

اس دوران فیصل صدیقی ایڈووکیٹ نے کہا کہ جسٹس ایم آر کیانی نے اپنے طلبہ سے مذاق میں ایک بات کہی تھی، انہوں نے کہا تھا کیس ہارنے لگو تو بینچ پر اعتراض کر دو، وفاقی حکومت اب یہی کر رہی ہے۔دریں اثنا عدالتی عملے کی جانب سے فریقین کے لیے جاری ہدایت میں کہا گیا کہ 11 بجے بیچ دوبارہ آئیے گا، چیف جسٹس نیا بینچ تشکیل دیں گے۔

واضح رہے کہ گزشتہ سماعت میں سابق چیف جسٹس جواد ایس خواجہ کے وکیل خواجہ احمد حسین کے دلائل مکمل ہونے کے بعد اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان نے دلائل کا آغاز کیا تھا۔

خیال رہے کہ درخواستوں پر چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں تشکیل دیے گئے 9 رکنی بینچ نے 22 جون سماعت کا آغاز کیا تھا، تاہم دورانِ سماعت جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اور جسٹس سردار طارق مسعود کے اعتراضات کے بعد 9 رکنی لارجر بینچ ٹوٹ گیا تھا جس کے بعد 7 رکنی بینچ نے سماعت کا دوبارہ آغاز کیا ہے۔

واضح رہے کہ 21 جون کو چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس عمر عطا بندیال نے فوجی عدالتوں میں آرمی ایکٹ کے تحت عام شہریوں کے مقدمات چلانے کے خلاف دائر 4 درخواستوں کو سماعت کے لیے مقرر کرتے ہوئے اپنی سربراہی میں 9 رکنی لارجر بینچ تشکیل دیا تھا۔

چیئرمین پی ٹی آئی، سابق چیف جسٹس جواد ایس خواجہ، معروف قانون دان اعتزاز احسن اور سول سائٹی کی جانب سے عام شہریوں مقدمات آرمی ایکٹ کے تحت فوجی عدالتوں میں چلانے کے خلاف درخواستیں دائر کی گئی تھیں اور ان ٹرائلز  کو غیر آئینی قرار دینے کی استدعا کی تھی۔ 20 جون کو جسٹس جواد ایس خواجہ نے اپنے وکیل ایڈووکیٹ خواجہ احمد حسین کے توسط سے دائر درخواست میں سپریم کورٹ سے فوجی عدالتوں کے ذریعے

نواز شریف کی نااہلی ختم ہونے میں اب رکاوٹ کیا ہے؟

شہریوں کے ٹرائل کو غیر آئینی قرار دینے کی استدعا کی تھی۔

Back to top button