نواز شریف کی نااہلی ختم ہونے میں اب رکاوٹ کیا ہے؟

قومی اسمبلی نے الیکشن ایکٹ میں ترامیم منظور کرلی ہیں جس کے بعد نااہلی کی مدت پانچ سال مقرر کردی گئی ہے۔آرٹیکل 62(1)(f) کے تحت کسی بھی قانون ساز کی تاحیات نااہلی کی مدت کو کم کر کے پانچ سال کر دیا ہے۔اس پر صدر کی منظوری کے بعد تین بار سابق وزیراعظم اور قائد مسلم لیگ (ن) نواز شریف ملک میں کوئی بھی الیکشن لڑنے کے اہل ہوں گے جنہیں تقریباً چھ سال قبل ایک متنازعہ کیس میں نااہل قرار دیا گیا تھا۔ نو تشکیل شدہ استحکام پاکستان پارٹی کے رہنما جہانگیر خان ترین بھی اس قانون سے مستفید ہوں گے جنہیں بھی اسی عدالت نے ’’کاؤنٹر بیلنسنگ‘‘ کی وجہ سے نااہل قرار دیا تھا۔

تاہم سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا نواز شریف کی نااہلی کے خاتمے میں اب بھی کوئی رکاوٹ ہے یا وہ فوری طور پر الیکشن لڑنے کیلئے اہل قرار پا چکے ہیں۔ماہرین کا کہنا ہے کہ آئینی ترمیم کے بغیر عام قانون سازی سے تاحیات نااہلی ختم نہیں ہوسکتی، حکومت نے جو قانون منظور کیا ہے وہ تاحیات نااہلی ختم نہیں کرسکے گا۔ سپریم کورٹ میں بل چیلنج ہوا تو عدالت اسے معطل۔کر دے گی جبکہ دوسری طرف وزیر اعظم شہباز شریف کے معاون خصوصی عرفان قادر کا کہنا تھا کہ ’اس بل کی منظوری سے عدالتیں شرمندگی سے بچ گئی ہیں کیوں کہ تاحیات نااہلی کا فیصلہ درست نہیں تھا۔‘عرفان قادر سے جب سوال کیا گیا کہ کیا اس بل کی منظوری کے بعد نواز شریف اور جہانگیر ترین الیکشن لڑنے کے لیے اہل ہو جائیں گے تو ان کا کہنا تھا کہ جب قانون کو واضع کیا جاتا ہے تو اس کا اطلاق ماضی بعید سے شروع ہو جاتا ہے۔’اس بل کی منظوری کے بعد نواز شریف اور جہانگیر ترین الیکشن لڑنے کے اہل ہو جائیں گے۔‘ان کا مزید کہنا تھا کہ نواز شریف ہمیشہ سے ہی الیکشن لڑنے کے اہل ہیں۔

ماہر قانون اور صدر پاکستان سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن عابد زبیری کا بھی کہنا تھا کہ 62 ون ایف میں تاحیات نااہلی کے فیصلے 2013 میں بھی آئے، جس میں جعلی ڈگری کے کیسز بھی شامل ہیں۔’سپریم کورٹ کے فیصلوں کے متعلق جو لوگ ایسے کاموں میں ملوث ہوتے ہیں انہیں پارلمنٹ کا حصہ نہیں ہونا چاہیے اور نواز شریف، جہانگیر ترین کیس میں بھی عدالت تاحیات نااہلی کیس میں ڈکلیریشن دے چکی ہے۔ ‘عابد زبیر کا کہنا تھا نئی ترمیم کے بعد عدالتی فیصلوں کے بعد بھی نااہلی پانچ سال کی ہی ہوگی۔انہوں نے اس ترمیم پر مزید رائے دیتے ہوئے کہا کہ ‘بظاہر لگتا ہے کہ نواز شریف اور جہانگیر ترین کی نااہلی ختم ہو جائے گی لیکن یہ دیکھنا ہو گا کہ نئے قانون کی روح سے عدالت نے تاحیات ناہلی کیس کے فیصلے میں آئین کی جو تشریح کی  کیا وہ دور ہو جائے گی؟’

خیال رہے کہ نواز شریف پاناما پیپر کیس اور جہانگیر ترین اثاثہ جات ظاہر نہ کرنے کے کیس میں 2017 میں سپریم کورٹ سے نااہل قرار پائے تھے۔اپریل 2018 میں سپریم کورٹ نے فیصلہ جاری کیا جس کے مطابق آرٹیکل 62 کے تحت ہونے والی نااہلی تاحیات قرار پائی۔سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں قرار دیا تھا کہ آئین کے آرٹیکل 62 ون ایف کے تحت نااہلی تاحیات رہے گی۔اس وقت کے چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں پانچ رکنی بینچ نے یہ فیصلہ سنایا تھا۔بینچ کے دیگر ارکان میں جسٹس عظمت سعید شیخ، جسٹس عمر عطا بندیال، جسٹس اعجاز الاحسن اور جسٹس سجاد علی شاہ شامل تھے۔

دوسری جانب بعض ماہرین کا کہنا ہے کہ آئینی ترمیم کے بغیر عام قانون سازی سے تاحیات نااہلی ختم نہیں ہوسکتی، حکومت نے جو قانون منظور کیا ہے وہ تاحیات نااہلی ختم نہیں کرسکے گا، ان خیالات کا اظہار احمد بلال محبوب نے جیو نیوز سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کیا جبکہ آئینی و قانونی ماہر صلاح الدین احمد نے اپنے ٹوئٹ پیغام میں کہا ہے کہ مجھے لگتا ہے اصل منصوبہ یہ ہوسکتا ہے کہ سپریم کورٹ میں قانون کو ایک بڑے بنچ کے سامنے چیلنج کیا جائے جو پہلے کئے گئے فیصلے کو کالعدم قرار دے سکتا ہے۔

دوسری جانب سیکرٹری اطلاعات پاکستان تحریک انصاف راؤف حسن کا کہنا تھا: ’جب سے یہ حکومت میں آئے ہیں خود کو بچانے کے اقدامات کر رہے ہیں اور یہ بل بھی اس کا حصہ ہے۔‘ان کا مزید کہنا تھا اس قانون کو چیلنج کرنا ہے یا اس کے بارے میں کیا قدم اٹھانا ہے، اس کا فیصلہ پارٹی مشاورت کے بعد کرے گی۔ دوسری طرف مسلم لیگ ن کے سینئر رہنما ملک احمد خان کا کہنا ہے کہ نواز شریف کو سزا اور نااہلی سپریم کورٹ کی طرف سے غلط اقدام تھا، کوئی غلط کام چاہے عدالتی فیصلے کے ذریعہ ہو اسے درست ہونا چاہئے، نواز شریف کے ساتھ عوام کا بہت گہرا تعلق ہے، میرا خیال ہے نواز شریف کے واپس آنے سے پارٹی کی سیاست میں جان آئے گی، نواز شریف کی واپسی کا پارٹی کو الیکشن میں بہت زیادہ فائدہ ہوگا، جتنا جلدی ہوسکے نواز شریف کو واپس آنا چاہئے، نواز شریف کے ساتھ زیادتی کی جتنی جلدی تلافی کی جاسکے بہتر ہوگا۔ ملک احمد خان کا کہنا تھا کہ آئین اور قانون میں کہیں نہیں لکھا کہ نااہلی تاحیات ہوگی، نواز شریف کی راہ میں حائل قانونی رکاوٹیں دو ر ہوجائیں تو وزیراعظم بننا ان کا حق ہے، شہباز شریف خود کہہ چکے ہیں پارٹی صدارت نواز شریف کی امانت ہے، آئین اور الیکشن قانون میں کہیں نہیں لکھا نااہلی کی مدت کتنی ہوگی۔ تاہم بل کی منظوری سے

آئین میں فوج پر ہتھیار اٹھانے والوں پر آرمی ایکٹ کے نفاذ کا ذکر ہے

نااہلی کی مدت کا اب تعین کر دیا گیا ہے۔

Back to top button