حکومت کے ہوش اْڑانے والا سپریم کورٹ کا فیصلہ

تحریر: نصرت جاوید
بشکریہ: روزنامہ نوائے وقت
بدھ کی صبح چار بجے تیز بارش سے گھبرا کر اٹھ گیا۔ گھر کی دہلیز پر بیٹھا سوچتا رہا کہ بارش کا پانی اگر سیلاب بن کر گھر میں گھس آیا تو کیا کروں گا۔ چند حفاظتی تدابیر نے جی کو تھوڑا مطمئن کیا تب بھی نیند نہیں آئی۔ توجہ یہ کالم لکھنے کی جانب مبذول کردی۔
بدھ کا دن کئی حوالوں سے ہماری سیاسی اور عدالتی تاریخ کے اہم ترین دنوں میں سے ایک شمار ہوسکتا ہے۔ منگل کی سہ پہر سپریم کورٹ کے تین معزز ججوں نے باہم مل کر حکم دیا ہے کہ اڈیالہ جیل میں قید ہوئے عمران خان کو ان کی ترجیح کے ہسپتال منتقل کیا جائے۔ اسلام آباد میں ان کی ترجیح کا ہسپتال عالمی شہرت کا حامل ہے۔ سرکار کا اس سے کچھ لینا دینا نہیں۔ جدید ترین آلات سے لیس اس ہسپتال میں تقریباََ ہر مرض کے بہترین معالج موجود ہیں۔
مزید لکھنے سے قبل بیان کرنا لازمی ہے کہ پیر کے دن حکومت ہی کی جانب سے تشکیل کردہ ڈاکٹروں کے بورڈ کی جو رپورٹ سپریم کورٹ کے دفتر جمع کروائی گئی اس پر سرسری نگاہ ڈالتے ہی میں یہ طے کرنے کو مجبور ہوا کہ اسے پڑھنے کے بعد عدالتِ عالیہ کا تین رکنی بنچ تحریک انصاف کو ہسپتال منتقل کرنے کا حکم دے سکتا ہے۔ میری رائے کا سبب ’’ذرائع‘‘ نہیں ذاتی تجربہ تھا۔
16برس قبل مجھے فشار خون کا عارضہ لاحق ہوا تھا۔ اس کے علاج کے لئے ناشتے کے ساتھ روزانہ ایک گولی کی تشخیص ہوئی۔ دوائی کے علاوہ دن میں کم از کم 30منٹ چہل قدمی کا حکم بھی ملا۔ ڈاکٹروں نے جلد سونے اور ٹی وی کے علاوہ موبائل فون کی سکرین سے بھی زیادہ سے زیادہ گریز تجویز کیا۔ صحافتی دھندے کے تقاضوں کی وجہ سے مذکورہ ہدایات پر لیکن عمل نہ کرپایا۔ ہفتے کے پانچ دن صبح اٹھ کر یہ کالم لکھنے اور ٹی وی سکرینوں پر تبصرہ آرائی کے لئے موبائل فون اور لیپ ٹاپ پر نگاہیں مرکوز رکھتے ہوئے چسکے دار مواد ڈھونڈنا پڑتا ہے۔ جو باتیں دیکھتے اور سنتے ہیں ان میں سے اکثر باعث تشویش بھی ہوتی ہیں۔ ان کی وجہ سے راتوں کی نیند مختصر سے مختصر ہونا شروع ہوگئی۔ بالآخر آج سے 6ماہ قبل دریافت ہوا کہ میرا بلڈپریشر اکثر خوفناک حد تک بڑھ جاتا ہے۔ زندگی میں پہلی بار تشخیص کے لئے بے شمار نوعیت کے ٹیسٹ کروانا پڑے۔ ان کی روشنی میں ڈاکٹروں نے طے یہ کیا کہ فشارِ خون کو معمول کی سطح پر لانے کے لئے مجھے دوائیوں کو بدلنا ہوگا۔ بلڈ پریشر پر قابو پانے کے لئے مختلف دوائی تجویز ہوئی جو دوطاقتور کیمیائی عناصر کے ملاپ سے تیار ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ دل مضطر کو مطمئن رکھنے کے لئے ایک اور دوا تجویز ہوئی۔ اس کا صبح وشام استعمال گہری نیند کے حصول کیلئے لازمی ٹھہرادیا گیا۔
فشارِ خون کی ادویات تجویز ہوجانے کے باوجود ڈاکٹروں نے مجھے دل کا کامل معائنہ کروانے کے لئے امراض قلب کے ایک ماہر کے ہاں جانے کو مجبور کیا۔ دل کی حالتِ زار کا جائزہ لیتے کئی ٹیسٹ بھگتے۔ دل خطرے سے فی الوقت محفوظ قرار دینے کے باوجود خون کو پتلا رکھنے کے لئے مزید ادویات بھی نسخے میں لکھ دی گئیں۔
عجب اتفاق ہے کہ سرکاری ڈاکٹروں پر مشتمل بورڈ نے عمران خان کے فشار خون کا جائزہ لینے کے بعد جن ادویات کا استعمال ضروری سمجھا ان میں سے تین میرے لئے بھی استعمال کرنا لازمی ہے۔ ان کے دل کے معائنے کے لئے جو ٹیسٹ تجویز ہوئے ان میں سے ایک جیل کے ہسپتال میں غالباََ ممکن نہیں۔ جدید آلات سے لیس کسی ہسپتال ہی میں ممکن ہے۔ فقط ذاتی تجربے کی بنیاد پر جو نتائج اخذ کئے تھے سپریم کورٹ کے تین معزز ججوں پر مشتمل بنچ منگل کے روز ان سے تقریباََ متفق سنائی دیا۔
پیر کے روز بانی تحریک انصاف کی صحت کے بارے میں سپریم کورٹ کے دفتر میں جمع کروائی رپورٹ پر نگاہ ڈالتے ہی محض ذاتی تجربے کی بنیاد پر میں نے جو نتائج اخذ کئے تھے وہ حکومت اپنے تئیں بآسانی دریافت کرسکتی تھی۔ پیر کے روز سپریم کورٹ میں حکومت ہی کے تشکیل کردہ طبی ماہرین کے بورڈ کی رپورٹ داخل ہوتے ہی قانون،داخلہ اور صحت کی وزارتوں کے اعلیٰ افسران کی ٹیم کو اس کا تفصیلی جائزہ لینا چاہیے تھا۔دو ٹکے کے رپورٹر نے فقط ذاتی تجربے کی بنیاد پر جو نتائج اخذ کئے تھے اسے سرکار فشارِ خون اور امراضِ قلب کے مستند ماہرین کی ٹیم کے روبرو رکھ کر حکومتی وکلاء کو سپریم کورٹ کے روبرو ایک واضح حکمت عملی کے ساتھ پیش ہونے کیلئے تیار کرسکتی تھی۔
مجھے توقع تھی کہ سپریم کورٹ کی سماعت شروع ہوتے ہی حکومتی وکلاء یہ مؤقف اختیار کرسکتے ہیں کہ ڈاکٹروں کے بورڈ نے عمران خان کی صحت کے بارے میں جو رپورٹ تیار کی ہے اس کے بغور مطالعے کے بعد حکومت نے ازخود انہیں تفصیلی معائنے کے لئے ہسپتال منتقل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ایک قیدی مگر سرکاری ہسپتال ہی بھیجا جاسکتا ہے۔ عمران خان کے اہل خانہ، عزیز واقارب اور چاہنے والوں کی تسلی کے لئے مگر ان کی ترجیح کے ڈاکٹر بھی تفصیلی طبی معائنے کے دوران موجود ہوسکتے ہیں اور تشخیص اور علاج کیلئے انہیں ہمہ وقت نگرانی کا حق بھی فراہم کیا جائے گا۔
سوچ سمجھ کر طے کردہ حکمت عملی کے بغیرمنگل کے روز سپریم کورٹ کے تین رکنی بنچ کے روبرو سرکاری کی جانب سے پیش ہوئے وکلاء نے مگر پیش بندی کے بجائے عدالت عظمیٰ میں پیش ہوئی درخواست کے میرٹ پر سوال اٹھانا شروع کردئیے۔ تفصیلی جواب کے لئے مہلت کی درخواست بھی کی۔ حکومتی وکلاء کے رویے نے سپریم کورٹ کو وہ حکم تحریری طورپر لکھنے کو مجبور کیا جس نے حکومت کے ہوش اڑادئے ہیں۔ حکومتی حلقوں میں سپریم کورٹ کے فیصلے کی وجہ سے پھیلی بے چینی رفع کرنے کو اعلیٰ سطحی اجلاس ہوئے اور منگل کی رات 9بجنے سے چند منٹ قبل وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے ایک ویڈیو بیان کے ذریعے حکومت کی جانب سے نظرثانی کی درخواست دائر کرنے کا عندیہ دیا۔
عمران خان صاحب کی طرز سیاست کا میں دیرینہ نقاد رہاہوں۔اس کے باوجود کھلے دل سے ہمیشہ اعتراف کیا کہ وہ ایک کرشمہ ساز شخصیت ہیں۔ کرکٹ میں واجب بنیادوں پرنام کمایا اور اپنی شہرت کو لاہورمیں کینسر جیسے موذی مرض کے علاج کے لئے جدید ترین ہسپتال کی تعمیر کے لئے ذہانت سے استعمال کیا۔ سپریم کورٹ اپنے تحریری فیصلے میں اس حقیقت کو خط کشیدہ کے ذریعے اجاگر کرنے کو مجبور ہوئی ہے کہ سزا یافتہ قیدی ہونے کے باوجود بانی تحریک انصاف بنیادی انسانی حقوق سے محروم نہیں ہوئے۔ ان کی زندگی کا تحفظ حکومت کی ذمہ داری ہے۔ بلڈ پریشر اور مضطرب قلب کی وجہ سے ان کو جدید آلات سے لیس ہسپتال منتقل کرنا پڑے گا۔ عمران خان کی نجی ہسپتال منتقلی کے حوالے سے حکومت نے البتہ جو خدشات وزیر قانون کی وساطت سے سپریم کورٹ کا تحریری حکم سنائے جانے کے بعد بیان کئے ہیں ان سب کو اندھی نفرت وعقیدت کی بنیاد پر یکسر مسترد بھی کیا نہیں جاسکتا۔ سرکار اور تحریک انصاف کو سیاسی اور قانونی محاذ آرائی کے بجائے عمران خان کا علاج مستند ٹھہرائے طبیبوں سے کروانے کو ترجیح دینا ہوگی۔ اسے یقینی بنانے کے لئے فریقین کی جانب سے واجب لچک اختیار کرنے کے بعد خلوص دل سے ہوئے مذاکرات کے ذریعے بآسانی ایسی راہ تلاش کی جاسکتی ہے جو سپریم کورٹ کو بھی مطمئن کرسکتی ہے۔ عمران خان کی صحت اندھی نفرت وعقیدت سے بالاتر سوچ کی متقاضی ہے۔
