پاکستانی سیاست میں شکتی کا سنتولن

تحریر: محمد بلال غوری
بشکریہ: روزنامہ جنگ
سابق وزیراعظم میاں نوازشریف کوٹ لکھپت جیل میں قید تھے ،ایون فیلڈ ریفرنس میں سنائی گئی سزا تو معطل ہوچکی تھی مگر العزیزیہ اسٹیل ریفرنس میں احتسا ب عدالت کی طرف سے سنائی گئی سزا برقرار تھی۔مارچ 2019ء میں سپریم کورٹ نے طبی بنیادوں پر اندرون ملک علاج کیلئے 6ہفتوں کی ضمانت دی جو 7مئی کو ختم ہوگئی۔اب بظاہر رہائی کی کوئی اُمید نظر نہیں آرہی تھی ۔اس دوران یہ اطلاعات آنے لگیں کہ جیل میں نوازشریف کی طبیعت بگڑ رہی ہے۔26اکتوبر 2019ء کو اسلام آباد ہائیکورٹ نے طبی بنیادوں پر نوازشریف کی عبوری ضمانت منظور کرلی۔اس سے قبل چوہدری شوگر ملز کیس میں بھی انہیں لاہور لائیکورٹ سے ضمانت مل چکی تھی۔ مگر چونکہ ان کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ میں تھا اس لیے وہ بیرون ملک نہیں جاسکتے تھے۔عمران خان کی حکومت نے ناسازی طبع کی بنیاد پر نوازشریف کو25ملین ڈالر کے ’’انڈیمنٹی بانڈ‘‘کے عوض چار ہفتوں کیلئے مشروط طور پر بیرون ملک جانے کی اجازت دینے کی پیشکش کی جسے مسترد کردیا گیا۔بعد ازاں عدالت نے شہبازشریف کے بیان حلفی پر انحصار کرتے ہوئے میاں نوازشریف کو بیرون ملک جانے کی اجازت دیدی اور یوں 19نومبر2019ء کو وہ بیرون ملک روانہ ہوگئے۔اس فیصلے کو عدلیہ کی آزادی سے منسوب کیا گیا اور اس تاثر کی نفی کی گئی کہ کسی ڈیل کے نتیجے میں یہ فیصلہ کیا گیا ہے مگر جنوری 2020ء میں آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی مدت ملازمت میں توسیع کا بل پارلیمنٹ میں لایا گیااور میاں نوازشریف کی ہدایت پر مسلم لیگ (ن)کے ارکان پارلیمنٹ نے اسکے حق میں ووٹ دیا تو معاملات واضح ہوگئے ۔ماضی قریب کے یہ واقعات یاد کروانے کا مقصد یہ ہے ایک بار پھر شہر اقتدار میں ’’معرکہ روح و بدن ‘‘درپیش ہے ۔سپریم کورٹ کے تین رُکنی بنچ نے اڈیالہ جیل میں قید سابق وزیراعظم عمران خان کو شفا اسپتال منتقل کرنے کا فیصلہ سنا کر اقتدار کے ایوانوں میں ہلچل مچادی ہے۔منگل کی دوپہر جب زبانی احکامات سامنے آئے تو چند باخبر صحافیوں کے ذریعے یہ پیغام دیا گیا کہ عمران خان کا طبی معائنہ تو ہوگا مگر عدالت کے تحریری حکم نامہ میں قیدی کو اسپتال منتقل کرنے کا ذکر نہیں ہوگامگر شام کو تمام شکوک و شبہات دور ہوگئے۔سپریم کورٹ کے تحریری حکم نامہ میں واضح طور پر کہا گیا کہ دو دن میں عمران خان کو شفا اسپتال منتقل کیا جائے ،میڈیکل بورڈ تشکیل دیا جائے اور آئندہ سماعت یعنی 16ستمبر تک نہ صرف قیدی کو وہیں رکھا جائے بلکہ گرفتاری کے بعد اب تک کا میڈیکل ریکارڈ اور ملاقاتوں کی تفصیل بھی عدالت میں پیش کی جائے۔اگرچہ سینیٹر ناصر بٹ کی طرف سے ’’سازش‘‘ کا اندیشہ ظاہر کیا گیا مگر مسلم لیگ(ن)کے رہنمائوں کی طرف سے عدالتی فیصلے کا خیر مقدم کیا گیا اور من و عن عملدرآمد کی یقین دہانی کروائی گئی مگر رات گئے وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے فرمایا کہ کسی سزا یافتہ قیدی کو نجی اسپتال منتقل نہیں کیا جاسکتا ۔قیدیوں کا علاج سرکاری اسپتال میں ہی ہوسکتا ہے ۔یہ فیصلہ غیر قانونی ہے ۔اگر عمران خان کو یہ سہولت دی گئی تو باقی قیدی بھی مطالبہ کریں گے لہٰذا حکومت اس فیصلےکے خلاف نظر ثانی اپیل دائر کرے گی۔گویا سزا یافتہ قیدی کو علاج کیلئے بیرون ملک تو بھیجا جاسکتا ہے لیکن اندرون ملک کسی نجی اسپتال میں منتقل نہیں کیا جاسکتا ۔بظاہر یوں لگتا ہے کہ یہ فیصلہ قانون نہیں ’’ن‘‘کے خلاف ہے ۔
قابل ذکر بات یہ ہے کہ عمران خان کی بہنوں اور ان کی پارٹی کی طرف سے سپریم کورٹ میں جو پٹیشن دائر کی گئی تھی وہ نہ صرف اچانک سماعت کیلئے مقرر ہوگئی بلکہ ایک ایسے بنچ کے سامنے مقدمہ لگا جس سے توقع تھی کہ وہ نہ صرف انصاف کرےگا بلکہ انصاف ہوتا ہوا نظر آئیگا۔بالعموم ایسے مقدمات میں اٹارنی جنرل کو نوٹس جاری کیا جاتا ہے مگر اس مقدمہ میں بغیر کسی نوٹس کے ایڈیشنل اٹارنی جنرل اور ایڈوکیٹ جنرل پیش ہوگئے اور رسمی کارروائی کے طور پر التوا کی استدعا کی جسے عدالت نے ہنگامی حالات کے تحت مسترد کرتے ہوئے فیصلہ سنادیااور وہ سب کچھ بھی عنایت کردیا جسکی درخواست گزاروں نے استدعا ہی نہیں کی تھی ۔ظاہر ہے اس میں عقل والوں کیلئے نشانیاں ہیں اور انہی علامات کے پیش نظر حکومت بوکھلاہٹ کا شکار ہے ۔بظاہر تو یہ تاثر دیا جارہا ہے کہ سب اچھا ہے لیکن درحقیقت صورتحال یہ ہے کہ
غلام دوڑتے پھرتے ہیں مشعلیں لیکر
محل پہ ٹوٹنے والا ہو آسماں جیسے
بظاہر تو یہ فیصلہ عدلیہ کی آزادی کامظہر محسوس ہوتا ہے مگر کیا معلوم اس حسن اتفاق کا باقاعدہ اہتمام اور بندوبست کیا گیا ہو؟کیونکہ امریکی صدر فرینکلن ڈی روزویلٹ نے کہا تھا’’سیاست میںکچھ بھی حادثاتی طور پر نہیں ہوتااگر کوئی حادثہ بھی ہو تو آپ شرطیہ طور پر کہہ سکتے ہیں کہ اس کی منصوبہ بندی کی گئی ہوگی۔‘‘ کیا خبر کہ عمران خان کے حق میں آنیوالا یہ فیصلہ محض ٹریلر ہو ،فلم ابھی باقی ہو۔ٹریلر سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ یہ سیاسی فلم کتنی ہنگامہ خیز اور سنسنی سے بھرپور ہوسکتی ہے۔شاید ایک ماہ کا وقت عمران خان کے بجائے ان کے سیاسی مخالفین کو دیا گیا ہو کہ سُدھر جائو ،اچھے بچے بن جائو ،نئے انتظامی یونٹ کے قیام کی کڑوی گولی نگل لو ورنہ ہم نے آپ کی سہولت کاری کی خاطر جو جن بوتل میں قید کررکھا ہے اسے آزاد کرکے آپ کی مشکلات بڑھا سکتےہیں۔جس طرح نیو کلیئر پروگرام سے متعلق کہا جاتا ہے کہ ایٹم بم چلانے کیلئے نہیں بلکہ ڈرانے کیلئے رکھا جاتا ہے اسی طرح عمران خان کو بھی Deterrenceکے طور پر سنبھال کر اثاثے کی طرح رکھا گیا ہے۔آپ نے بھارتی فلم ’’مقبول ‘‘میں اوم پوری کا مشہور زمانہ ڈائیلاگ تو سنا ہوگا۔اوم پوری اور نصیرالدین شاہ پولیس افسر ہیں۔ایک گینگ کے لوگ مارے جاتے ہیں۔ بڑے صاحب جائے وقوعہ پر وضاحت طلب کرتے ہیں تو اوم پوری کہتے ہیں:’’شکتی کا سنتولن بہت ضروری ہے سنسار میں۔‘‘پاس کھڑے نصیرالدین شاہ لقمہ دیتے ہیں’’آگ کیلئے پانی کا ڈر بنے رہنے چاہئے ۔‘‘
