اتنا پریشان مت ہوں

 

 

 

 

تحریر: حامد میر

بشکریہ: روزنامہ جنگ

 

حیران و پریشان ہونے کی ضرورت نہیں۔ سپریم کورٹ آف پاکستان نے سابق وزیراعظم عمران خان کو جیل سے اسپتال منتقل کرنے کا حکم دیا تو حکمران جماعت کے ایک سینیٹر صاحب نے رونی سی صورت بنا کر کہا کہ نواز شریف کے خلاف پھر سے سازش شروع ہو گئی ہے۔ مسلم لیگ (ن) کے ایک اور رہنمانے بوکھلائے ہوئے لہجے میں ایک ٹی وی چینل پراپنے آپ کو تسلی دیتے ہوئے کہا کہ عمران خان کی صرف ضمانت ہوئی ہے رہائی تو نہیں ہوئی۔ انہوں نے کہا عمران خان کو اُن ہی عدالتوں نے علاج کیلئے اسپتال بھجوانے کا حکم دیا ہے جن پر تحریک انصاف والے بہت تنقید کرتے تھے۔ وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے سپریم کورٹ کے اس فیصلےکے خلاف نظرثانی کی اپیل دائرکرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ حکمران جماعت کے وزراء اپنی پریشانی چھپانے کیلئے ٹی وی کیمروں کے سامنے قوم کو یاد دلا رہے ہیں کہ عمران خان ایک سزایافتہ مجرم ہے، اگر ہر سزا یافتہ مجرم کو عدالتوں سے ایسا ہی ریلیف ملنے لگا تو پھر اسپتالوں میں سزایافتہ قیدیوں کیلئے بیڈز کم پڑ جائیں گے۔ ہر وزیر کا بیان دوسرے سے مختلف نظر آتا ہے۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ عمران خان کو القادر ٹرسٹ کیس اور توشہ خانہ کیس میں سزائیں دی جا چکی ہیں۔ کیا ایسی ہی سزا نواز شریف کو العزیزیہ اسٹیل مل کیس میں نہیں سنائی گئی تھی؟ آج عمران خان کے بارے میں مسلم لیگ (ن) کے وزراء کے بیانات سن کر مجھے نواز شریف کے بارے میں تحریک انصاف کے سابق وزیروں کے بیانات یاد آ رہے ہیں۔ عمران خان سمیت ان کے بہت سے وزراء یہ فرمایا کرتے تھے کہ نواز شریف ایک سزایافتہ مجرم ہے اور اس سزایافتہ مجرم کی تصویر ٹی وی چینلز پر نظر نہیں آنی چاہیے۔ مجھے یاد ہے کہ ایک دفعہ میں نے گستاخی کرتے ہوئے نواز شریف کی تصویر ٹی وی اسکرین پر نہ دکھانے کے حکم پر تنقید کی تو تحریک انصاف کے کئی حامیوں نے مجھ پر طرح طرح کے الزامات لگادئیے تھے۔ آج کل عمران خان کی تصویر ٹی وی اسکرین پر نہیں دکھائی جا سکتی۔ جب میں اس فیصلے پر تنقید کرتا ہوں تو مسلم لیگ ن والے آپے سے باہر ہو جاتے ہیں۔

وطن عزیز میں ہر لمحے تاریخ اپنے آپ کو دہراتی رہتی ہے۔ آج ایک سزایافتہ مجرم کو عدالت سے ریلیف ملنے پر مسلم لیگ (ن) کے دوستوں کی پریشانی سمجھ سے بالاتر ہے۔ کیا عدالتوں سے ایسی ہی ریلیف نواز شریف کو نہیں ملتی رہی؟ اگر عمران خان کو القادر ٹرسٹ کیس میں 14 سال قید کی سزا ملی تو کیا نواز شریف کو العزیزیہ اسٹیل ملز کیس میں سات سال قید کی سزا نہیں ملی تھی؟ کیا اس سزا کے باوجود عدالتوں نے نواز شریف کو جیل سے اسپتال منتقل کرنے کا حکم نہیں دیا تھا؟ کیا انہی عدالتوں نے کچھ میڈیکل رپورٹس کو سامنے رکھتے ہوئے نواز شریف کو علاج کیلئے بیرون ملک جانے کی اجازت نہیں دی تھی؟ کیا اس سے پہلے کوئی ایسی مثال موجود تھی کہ کسی سزایافتہ مجرم کو علاج کیلئے لندن جانے کی اجازت مل گئی؟ عدالت نے نواز شریف کو صرف چار ہفتے کیلئے لندن جانے کی اجازت دی تھی۔ اس زمانے میں مجھ سے مختلف ٹی وی چینلز پر پوچھا جاتا تھا کہ کیا نواز شریف چار ہفتے کے بعد واپس آئیں گے؟ میرا جواب ہوتا تھا کہ جی وہ ضرور واپس آئیں گے کیونکہ اب وہ پہلے والے نوزشریف نہیں ہیں۔ اگلا سوال پوچھا جاتا تھا کہ اگر وہ واپس نہ آئے تو پھر آپ کیا کریں گے؟ میرا جواب یہ ہوتا کہ میں کیا کر سکتا ہوں میں تو صرف ایک صحافی ہوں۔ اگر نواز شریف واپس نہ آئے تو پھر میں ان کی وعدہ خلافی پر تنقید کا حق محفوظ رکھتا ہوں۔ افسوس کہ نواز شریف چار ہفتے میں واپس نہ آئے نہ انہوں نے کبھی مجھ جیسے بے وقوف کو کوئی وضاحت دینی ضروری سمجھی۔ بعد میں ہمیں بتایا گیا کہ جن میڈیکل رپورٹس کی بنیاد پر پنجاب کی وزیر صحت ڈاکٹر یاسمین راشد نے نواز شریف کو بیرون ملک بھیجنے کی سفارش کی تھی وہ رپورٹس جنرل فیض حمید نے تیار کرائی تھیں۔ نوازشریف کے لندن جانے کے کچھ عرصے بعد جب مسلم لیگ (ن) نے جنرل قمر جاوید باجوہ کی مدت ملازمت میں توسیع کی حمایت کی تو ساری کہانی سمجھ میں آ گئی اور ہم کافی دن تک اپنی بے وقوفی پر اپنے آپ سے منہ چھپاتے رہے۔ پھر نواز شریف اسی وقت وطن واپس آئے جب عمران خان وزیراعظم ہاؤس سے اڈیالہ جیل جا چکے تھے۔ کچھ دنوں میں نواز شریف اور انکے بیٹوں کیخلاف تمام مقدمات ایسے غائب ہوئے جیسے گدھے کے سر سے سینگ غائب ہو جاتے ہیں۔ عرض صرف یہ کرنا ہے کہ عمران خان کو سپریم کورٹ نے جیل سے اسپتال بھیجنے کا حکم دیا ہے۔ مسلم لیگ (ن) کی حکومت اس عدالتی فیصلے پر کچھ پریشان نظر آتی ہے۔ مت بھولیں کہ یہ اسلامی جمہوریہ پاکستان ہے۔ یہاں وقت بدلتے دیر نہیں لگتی۔ اگر پاکستان کی عدالتیں العزیزیہ کیس میں نواز شریف کی سزا ختم کر سکتی ہیں تو ایسا ہی” سانحہ“القادر ٹرسٹ کیس میں بھی رونما ہو سکتاہے۔ تحریک انصاف کو عدالتوں سے بہت زیادہ توقعات نہیں باندھنی چاہئیں۔ عمران خان کو مزید ریلیف دلوانا ہے تو پھر وہی کچھ کرنا پڑے گا جو مسلم لیگ (ن) نے نواز شریف کیلئے کیا تھا۔ مسلم لیگ (ن) نے نواز شریف کو ریلیف دلانے کیلئے سب سے پہلے بلاول بھٹو زرداری، مولانا فضل الرحمان اور جمہوریت کے دیگر دیوانوں کو گھیرا اور پی ڈی ایم کے نام سے ایک اپوزیشن الائنس بنایا۔ پھر اس اپوزیشن الائنس نے مختلف شہروں میں جلسے کیے۔ ان جلسوں میں مریم نواز لاپتہ افراد کی ماؤں، بہنوں اور بیٹیوں کو گلے لگایا کرتی تھیں۔ لاپتہ صحافی مدثر نارو کے بیٹے کی تصویر سوشل میڈیا پر پوسٹ کیا کرتی تھیں۔ اسلام آباد کے ڈی چوک میں سمی دین بلوچ کے ساتھ دھرنا دیا کرتی تھیں۔ پھر وقت بدلنا شروع ہوا اور عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد لائی گئی جس میں اصل کردار آصف علی زرداری کا تھا۔ آجکل مسلم لیگ ن آصف زرداری کو ایوان صدر سے نکالنے کے منصوبے بنا رہی ہے۔ 2022ء اور 2026ء میں بہت فرق ہے۔ 2022ء میں ریاستی ادارے ایک دوسرے سے متصادم تھے۔ 2026ء میں ریاستی اداروں میں ویسا تصادم نظر نہیں آتا۔ البتہ نئے صوبوں کی بحث نے ایک کھلبلی مچا دی ہے۔ اس کھلبلی میں عمران خان کو ریلیف مل گیا ہے۔ مسلم لیگ ن کو اس کھلبلی میں کوئی کلیئر پوزیشن لینی ہوگی، ورنہ پریشانیاں بڑھیں گی۔ عمران خان کو ملنے والا ریلیف فی الحال صرف ایک عدالتی فیصلہ ہے لیکن مسلم لیگ (ن) کے ایک سینیٹر نے اس عدالتی فیصلے کے پیچھے کسی سازش کی تلاش شروع کردی ہے۔ سینیٹر صاحب سے گزارش ہے کہ ہر جج کو ارشد ملک نہ سمجھیں۔ ہر جج کی ویڈیو نہیں بن سکتی۔ اس قسم کے بیانات مسلم لیگ ن کو کسی گہری کھائی میں دھکیل سکتے ہیں۔ 2019ء میں کوئی سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ ایک سزایافتہ مجرم نواز شریف جیل سے باہر آجائے گا اور اس کی سزا ختم ہو جائے گی۔ اگر نواز شریف جیل سے باہر آ سکتا ہے تو پھر کوئی اور بھی باہر آ سکتا ہے۔ پاکستان کا اصل مسئلہ یہ ہے کہ ہمارے لیڈر جیل تو چلے جاتے ہیں لیکن اپنی غلطیوں سےسبق نہیں سیکھتےاور بار بار ڈیل کر لیتے ہیں۔ دیکھنا یہ ہے کہ اس دفعہ کوئی ڈیل ہوتی ہے یا نہیں ؟

 

 

Back to top button