لوگوں کو طلاق کے بعد ہمارے تعلقات پر اعتراض کیوں ہے؟

معروف اداکارہ سائرہ یوسف اور انکے سابق شوہر اداکار شہروز سبزواری نے کہا ہے کہ لوگ چاہتے ہیں کہ وہ طلاق کے بعد ایک دوسرے کے ساتھ تعلق مکمل طور پر ختم کر دیں لیکن انہوں نے اپنی بیٹی کی خاطر نارمل انسانوں کی طرح زندگی گزارنے کا فیصلہ کیا ہے جس پر کسی کو اعتراض نہیں ہونا چاہیے۔
دونوں نے مداحوں سے اپیل کی ہے کہ وہ ان کی طلاق کو موضوع بحث بنائے رکھنے کی بجائے انکی آنے والی فلم پر توجہ دیں جو بہت جلد سینما گھروں میں ریلیز ہونے والی ہے۔ دونوں نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ عوام ان کی طلاق کو عجیب و غریب واقعہ نہ بنائیں بلکہ دونوں کو نارمل انداز میں اپنی زندگیاں آگے بڑھانے دیں۔ یاد رہے کہ سائرہ اور شہروز طلاق کے بعد اپنی فلم کی پروموشن کے دوران مداحوں کی جانب سے تنقید کی زد میں ہیں، ناقدین کا کہنا ہے کہ جب دونوں نے حقیقی زندگی میں علیحدگی اختیار کر لی تو پھر مصنوعی فلمی دنیا میں اکٹھے ہونے کی کیا ضرورت ہے۔ تاہم سائرہ اور شہروز کا موقف ہے کہ اس فلم کی شوٹنگ ان کی طلاق سے پہلے شروع ہوئی تھی جو کرونا وائرس کی وجہ سے لٹکتی گئی اور اب یہ فلم تیار ہونے کے بعد ریلیز ہونے جا رہی ہے۔
دونوں شوبز سٹارز نے فلم پروموشن کے دوران میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ انکی اب تک دوستی کی وجہ انکی بیٹی نورے ہے۔ سائرہ اور شہروز ان دنوں اپنی آنے والی فلم ’’بے بی لیشیس‘‘ کی پروموشن میں مصروف ہیں، اسی حوالے سے سائرہ اور شہروز کے حال ہی میں نجی میڈیا کو دیئے گئے انٹرویو کے کلپس سوشل میڈیا پر وائرل ہیں جن میں وہ اپنی طلاق کے بعد دوستی برقرار رکھنے کی وجوہات بتا رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ جو ننھی پری ان دونوں کی وجہ سے دنیا میں آئی تھی اسے ماں اور باپ دونوں کا پیار ملنا اس کا حق ہے اور اس وجہ سے وہ دونوں طلاق کے بعد بھی نارمل انسانوں کی طرح ملتے جلتے ہیں۔ یاد رہے کہ سارہ سے طلاق کے بعد شہروز سبزواری نے معروف ماڈل صوفیہ کنول سے دوسری شادی کر لی تھی اور اب ان سے بھی ان کی ایک بیٹی زہرہ ہے۔ شہروز سبزواری کا کہنا تھا کہ نورے اور زہرہ کے تعلقات میری سوچ سے بھی زیادہ اچھے اور نارمل ہیں، نورے نے چھوٹی بہن زہرا کو جتنا پیار دیا وہ میری سوچ سے بھی زیادہ ہے، وہ اسے سگی بہنوں جیسے سمجھتی ہے۔ اپنی فلم کی پروموشن بارے شہروز سبزواری کا کہنا تھا کہ میں سائرہ کے ساتھ اب بھی کمفر ٹیبل رہتا ہوں۔
تاہم سائرہ کا کہنا تھا کہ ان کے لیے مشکل تب ہوتی ہے جب لوگ بار بار ان کے پرانے رشتے کے حوالے سے سوال کرتے ہیں لہٰذا بہتر یہ ہے کہ دو افراد کی علیحدگی کو عجیب نہ بنایا جائے اور انہیں نارمل انسانوں کی طرح زندگی میں آگے بڑھنے دیا جائے۔ انکا کہنا تھا کہ لوگ چاہتے ہیں کہ علیحدگی کے بعد دونوں کو ایک دوسرے سے تعلق مکمل طور پر ختم کر دینا چاہئے لیکن ہم نے اپنی بیٹی کے لیے اس کے برعکس فیصلہ کیا۔
پاکستانی اداکارہ کا بھارتی پروڈیوسر پر جنسی ہراسانی کا الزام
