تحریک طالبان کا پاکستان کے بڑے شہروں کو ٹارگٹ کرنے کا فیصلہ

سکیورٹی ایجنسیز نے وزارت داخلہ کو آگاہ کیا ہے کہ تحریک طالبان نے اپنی دہشت گردانہ کارروائیوں کا دائرہ کار بڑھاتے ہوئے ملک کے بڑے شہروں کو ٹارگٹ کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور چاروں صوبائی دارالحکومت اس کا مرکزی نشانہ ہوں گے۔ اس سے پہلے ٹی ٹی پی کی پاکستان مخالف کارروائیوں میں تیزی آ چکی ہے اور حالیہ کچھ عرصے کے دوران میران شاہ، وانا اور خیبر پختونخوا کے کئی شہری علاقے شدت پسندوں کے مسلسل نشانے پر رہے ہیں۔ لیکن اب ٹی ٹی پی نے اپنی کارروائیوں کا رُخ چھوٹے شہروں اور دیہی علاقوں سے ملک کے بڑے شہروں کی جانب موڑنے کا فیصلہ کیا ہے جس کی ایک حالیہ مثال اسلام آباد میں ہونے والا خودکش حملہ ہے۔شدت پسندوں کا خیال ہے کہ شہری علاقوں میں کی جانے والی کارروائیوں کو عالمی سطح پر توجہ ملتی ہے اور یہی وجہ ہے کہ وہ اب شہری علاقوں میں اپنی کارروائیاں بڑھا رہے ہیں۔
سکیورٹی ایجنسیز نے وزارت داخلہ کو اپنی ایک حالیہ رپورٹ میں آگاہ کیا ہے کہ ٹی ٹی پی اب اپنی گوریلا جنگ کا دائرہ کار بڑھا رہی ہے جس کے لیے اس نے شہروں میں اپنے تمام سلیپر سیلز کو متحرک کر دیا ہے۔ ٹی ٹی پی نے حال ہی میں اپنے انتظامی ڈھانچے میں تبدیلی لاتے ہوئے اسے شمالی اور جنوبی حصوں میں تقسیم کر دیا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ ملک کے مختلف حصوں کے لیے اپنے نمائندے بھی مقرر کر دیے ہیں۔ ٹی ٹی پی کی تنظیم نو افغان طالبان کی ساخت سے کافی حد تک مطابقت رکھتی ہے اور اس کے جنگجو افغان طالبان کے نقش قدم پر چلتے ہوئے شہری علاقوں کو نشانہ بنا رہے ہیں۔ افغان طالبان نے ماضی میں سرحدی علاقوں کو بطور پناہ گاہ استعمال کرکے ملک کے مشرقی علاقوں میں قدم جمائے تھےجس کے بعد تنظیم نے شہری علاقوں کو نشانہ بنانا شروع کیا تھا۔ اسی طرح ٹی ٹی پی پاکستان کے سرحدی علاقوں میں قدم جمانے کے بعد اب شہری علاقوں کو نشانہ بنا رہی ہے۔
دفاعی تجزیہ کاروں کے مطابق حال ہی میں اسلام آباد میں ہونے والے خودکش حملے کے ذریعے ٹی ٹی پی کو جو کک ملی ہے وہ اسے سابق قبائلی علاقوں میں 10 خود کش حملوں کے نتیجے میں بھی نہیں ملی۔ لہذا اب تحریک طالبان نے بڑے شہروں کو ٹارگٹ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ٹی ٹی پی کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق صرف دسمبر 2022 میں پاکستان کے مختلف علاقوں میں 69 حملے کیے گئے جن میں شمالی اور جنوبی وزیرستان سمیت اسلام آباد، پشاور، کوئٹہ،سوات، ڈیرہ اسماعیل خان، چارسدہ، بنوں، ٹانک، مردان، چمن، ژوب، چترال، نوشہرہ، کوہاٹ اور لکی مروت کے علاقے شامل ہیں۔
یاد رہے کہ چند ہفتے قبل اسلام آباد کے سیکٹر آئی ٹین فور میں تلاشی کے دوران پولیس چیک پوسٹ پر ایک خود کش بمبار نے خود کو دھماکے سے اڑا لیاتھا۔ اس واقعے کے بعد دارالحکومت میں پولیس کے ناکوں میں اضافے کے ساتھ ساتھ نئے سال کے موقع پر مختلف سفارت خانوں اور ہوٹلوں کی جانب سے تھریٹ الرٹ جاری کیے گئے تھے۔
اس صورتِ حال کو مد نظر رکھتے ہوئے گزشتہ ہفتے پاکستان کی قومی سلامتی کمیٹی نے ملک میں دہشت گردی کی حالیہ لہر کے سدباب کے لیے مؤثر کارروائی کا اعلان کیا تھا۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر شہری علاقوں میں ٹی ٹی پی کے حملوں میں اضافہ ہوا تو آنے والے وقتوں میں حکومت کے لیے یہ حملے زیادہ خطرناک ثابت ہو سکتے ہیں۔ ٹی ٹی پی کے اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ برس پاکستان کے اندر 367 حملے کیے گئے جس میں چار ماہ جنگ بندی کے بھی شامل ہیں۔ دفاعی ماہرین کی رائے میں ٹی ٹی پی کے اندر پاکستان کے شہری علاقوں کو تواتر کے ساتھ نشانہ بنائے جانے کے حوالے سے اختلافات موجود ہیں اور ان کا موقف ہے کہ طالبان کے حملوں کا بنیادی ہدف سکیورٹی فورسز ہونی چاہئیں۔ ماہرئن کہتے ہیں کہ ٹی ٹی پی کے سربراہ مفتی نور ولی محسود جانتے ہیں کہ شہروں میں بڑی کارروائیاں افغان طالبان کے لیے نہ صرف پاکستان بلکہ عالمی برادری کی جانب سے بھی مشکلات کا سبب بن سکتی ہیں۔ اس لیے ان کی خواہش ہے کہ پہلے دیہی علاقوں میں قدم جمائے جائیں اس کے بعد آہستہ آہستہ شہروں کا رُخ کیا جائے۔
یاد رہے کہ ٹی ٹی پی نے حال ہی میں حکمران اتحاد میں شامل سیاسی جماعتوں مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کو نشانہ بنانے کا عندیہ دیا تھا، تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ٹی ٹی پی کا زیادہ تر ہدف سیکیورٹی فورسز اور ان کی تنصیبات رہی ہیں لیکن سیاسی جماعتوں کو نشانہ بنانے سے بڑے پیمانے پر سویلین بھی اس کی زد میں آ سکتے ہیں جس سے رائے عامہ طالبان کے خلاف ہو سکتی ہے۔ ان کے خیال میں سیاسی جماعتوں کو دھمکی دینے کا مقصد حکمران اتحاد کو اپنے عزائم سے پیچھے دھکیلنے کی حکمتِ عملی ہو سکتی ہے کیوں کہ پاکستان میں شدت پسند تنظیموں کے بڑھتے ہوئے حملوں کے پیش نظر فوجی آپریشن کی باتیں زور پکڑ رہی ہیں۔ ایسے میں اس قسم کی دھمکیوں کو ٹی ٹی پی پریشر ٹیکٹکس کے طور پر استعمال کرنا چاہتی ہے۔
تحریک طالبان کے خلاف ممکنہ فوجی آپریشن پر دفاعی تجزیہ کار کہتے ہیں کہ ایسے وقت میں جب پاکستان کے مالیاتی ذخائر پانچ ارب ڈالر سے بھی کم رہ گئے ہوں، پاکستان دہشت گردی کے خلاف جنگ کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ چنانچہ موسم سرما کے بعد حکومت کی جانب سے ٹی ٹی پی کے ساتھ ایک مرتبہ پھر کسی جنگ بندی کے معاہدے کے لیے مذاکرات کا دور شروع ہوتا ہے تو اس پر حیرانی نہیں ہونی چاہیئے۔ تاہم، ریاست کی رٹ چیلنج کرنے والے دہشت گرد گروہ کے ساتھ مذاکرات کے نتیجے میں امن و مان کی مستقل صورتِ حال پھر بھی برقرار نہیں رہ سکتی۔
وزیرِ داخلہ رانا ثناءاللہ نے حال ہی میں ایک پریس کانفرنس کے دوران کہا تھا کہ ٹی ٹی پی کے ساتھ اسی صورت میں بات چیت ہو سکتی ہے اگر وہ ہتھیار ڈال کر خود کو آئین اور قانون کے تابع کریں۔ دوسری جانب تحریک طالبان کے سربراہ نورولی محسود کا کہنا ہے کہ ان کے ساتھ صرف پاکستانی سکیورٹی فورسز کی جانب سے ہونے والی کارروائیوں کا جواب دے رہے ہیں۔
