تحریک انصاف کے بھگوڑے لیڈروں کا سیاسی مستقبل تاریک ہو چکا؟

سیاسی جماعتوں کو ایسی سیاسی قیادت کی ضرورت ہوتی ہے جو مشکل وقت میں ثابت قدم رہ سکیں، استحکام پاکستان پارٹی میں فرخ حبیب اور ان جیسے تحریک انصاف کے بھگوڑوں کی شمولیت بھی انھیں سیاست میں زندہ نہیں کرسکتی ۔ استحکام پاکستان کا ووٹر بھی انھیں قبول نہیں کرے گا، یہی حقیقت ہے۔ ان خیالات کا اظہار سینئر صحافی مزمل سہروردی نے اپنے ایک کالم میں کیا ہے. وہ لکھتے ہیں کہ پی ٹی آئی کے لیڈر اور ورکر سیاست میں مقصدیت کے داعی نہیں رہے۔ انھوں نے ہمیشہ پر تشدد سیاست کی وکالت کی ہے۔ پاکستان کی سیاست میں گالم گلوچ کے کلچر کو پی ٹی آئی کے لیڈر اور ورکرز نے عروج تک پہنچایا، سیاسی مخالفین کا تمسخر اڑانا ان کی سیاست کا ایک حصہ تھا۔مگر کل تک سیاست کے سلطان راہی نظر آنے والے آج سیاسی ایکسٹرا بن گئے ہیں۔ فرخ حبیب بھی استحکام پاکستان پارٹی جوائن کرنے والوں کی سیاست ختم ہونے کا اعلان کرتے تھے لیکن آج خود اسی آشیانے پر آ بیٹھے ہیں۔استحکام پاکستان پارٹی کی ٹاپ لیڈر شپ نے انھیں خوش آمدید نہیں کہا، جہانگیر ترین اور علیم خان ان کے ساتھ نہیں بیٹھے، عون چوہدری ساتھ بیٹھے تھے۔ اس کا مطلب ہے کہ فرخ حبیب کو پارٹی کی صف اول میں جگہ نہیں ملی۔ مزمل سہروردی کا کہنا ہے کہ فرخ حبیب کی استحکام پاکستان پارٹی میں شمولیت سے پہلے صداقت عباسی اور عثمان ڈار کی جانب سے سیاست اور تحریک انصاف چھوڑنے پر جب یہ کہاگیا کہ یہ غیرسیاسی اور کمزور لوگ تھے، تو جواز پیش کیا گیا کہ اتنے ظلم کے بعد ان کے پاس اور کیا راستہ تھا؟ لہٰذا سیاست چھوڑنے کو ان کی کمزوری نہ سمجھا جائے۔ یہ حالات کے مارے لوگ ہیں۔ان کی مجبوریوں کو سمجھیں۔ اس دلیل کے جواب میں دلیل یہ ہے کہ سیاست کمزور لوگوں کا کھیل نہیں۔ سیاستدان کا پتہ ہی برے وقت میں چلتا ہے کہ وہ کتناکمیٹڈ سیاستدان ہے۔ اچھے وقت میں تو سب ہی ’’رہنما‘‘ نظر آتے ہیں۔ لیکن برے وقت میں ثابت قدم رہنے و الے ہی اصل سیاستدان اور سیاسی ورکرز ہوتے ہیں۔ چند دن کی نامعلوم حراست نے سب پی ٹی آئی لیڈروں کا پتا پانی کردیا ہے ، ویسے تو کسی نے یہ نہیں کہا کہ اس پر تشدد ہوا ہے۔ لیکن اگر ہوا بھی ہے تو بطور سیاسی لیڈر اور سیاسی ورکرز اسے برداشت کرنا چاہیے۔ یوں سیاسی طور پر سرنڈر کرنا سیاست میں کوئی اچھی مثال نہیں ہے نہ یہ سیاستدان کی یہ شان ہے۔

مزمل سہروردی بتاتے ہیں کہ پرویز مشرف کے دور میں رانا ثناء اللہ کو نامعلوم لوگوں نے اٹھا لیا تھا، جب رہا کیا تو ان کے سر پر بال نہیں تھے، آنکھوں کے بھنویں بھی کاٹ دی گئی تھیں۔جسم پر تشدد کے واضع نشانات تھے۔ لیکن رانا ثنا ء اللہ نے رہائی کے بعد وہی موقف دہرایا تھا جس کی پاداش میں ان پر تشدد ہوا تھا۔ پی ٹی آئی کے دور میں انھیں سات ماہ تک سزائے موت کے قیدیوں کے لیے مخصوص کوٹھری میں رکھا گیا، پندرہ کلو گرام ہیروئین کیس میں سزائے موت کا ڈراوا بھی دیا گیا۔ لیکن انھوں نے پھانسی کے خوف سے سیاست چھوڑی نہ سیاسی موقف تبدیل کیا۔ ضیاء الحق کے دور میں پیپلز پارٹی کے سیاسی کارکنوں کو سر عام چوکوں میں کو ڑے مارے جاتے تھے۔ لاہور کے قلعہ میں تشدد کیا جاتا تھا۔ کئی کئی سال غائب رکھا جاتا تھا۔ ملٹری کورٹ سے لمبی لمبی سزائیں دی جاتی تھیں۔ لیکن وہ سب اس ظلم کے خلاف بھی ثابت قدم رہے۔ پرویزمشرف نے اقتدار پر قبضہ کرنے کے بعد پرویز رشید پر بہت ظلم کیا، ان پر بدترین جسمانی تشدد کیا گیا۔ لیکن انھوں نے سیاست چھوڑی نہ سیاسی موقف تبدیل کیا۔ سیکڑوں نہیں ہزاروں لوگ ہیں جن کی سیاسی ثابت قدمی کی آج بھی پاکستان کی سیاست میں مثال دی جاتی ہے۔ اس لیے قید، تشدد یا دباؤ میں سیاسی موقف تبدیل کرنا جائز قرار نہیں دیا جا سکتا۔ یہ تحریک انصاف کے بھگوڑوں

نگران وزیراعظم نے کینیا سے ارشد شریف کیس میں تعاون مانگ لیا

کی سیاسی کمٹمنٹ کی کمزوری ہی سمجھی جائے گی

Back to top button