7 T’s for Macca Alliance

تحریر: سہیل وڑائچ
بشکریہ: روزنامہ جنگ
مکہ اتحاد کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ یہ پاکستان، ترکی اور سعودیہ کے عوام کی خواہشوں اور آدرشوں کا ترجمان اتحاد ہے، ترکیہ اور سعودیہ تقریباً سو سال کی دوری کے بعد اکٹھے ہوئے ہیں پاکستان 80سال سے سعودیہ اور ترکیہ کا ہمیشہ سے خیر خواہ اور دلی ہمدرد رہا ہے، ایران ترکیہ اور پاکستان میں آر سی ڈی معاہدہ ہوا تھا مگر یہ مؤثر نہ ہو سکا۔ آج مکہ معاہدہ کی جو عملی شکل نظر آ رہی ہے اسکی تعمیر میں فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر کی سوچ و فکر کا بہت بڑا ہاتھ ہے، وہ جب سے آرمی چیف بنے تھے مڈل ایسٹ سے تعلقات کو مضبوط کرنےمیں لگے ہوئے تھے۔ مڈل ایسٹ کے اسلامی عرب ممالک سے دوستی اور معاشی اشتراک کا خیال لازمی طور پر انہیں کا ہے اور گزشتہ 3سال سے مشرقِ وسطیٰ کے جتنے دورے انہوں نے کئے ہیں شاید وہ پاکستان کی تاریخ کا ریکارڈ ہونگے۔ سوچ تو انکی تھی پھر حالات نے بھی انکے خواب کو عملی جامہ پہنانے کا موقع دیا۔ پہلے پاک بھارت جنگ میں پاکستان کی دفاعی برتری، صدر ٹرمپ کی علانیہ پاکستانی فتح کا اعلان اور پھر فیلڈ مارشل کیلئے بارہا پسندیدگی کے اعلان اور پھر امریکہ ایران جنگ میں ثالث کا کردار ادا کرنےسے پاکستان کو دفاعی، سفارتی اور خارجہ امور میں جو بین الاقوامی پذیرائی ملی اس نے بھی مکہ اتحاد کو حتمی شکل دینے میں مدد دی ہو گی۔ سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کی ویژنری حکمت عملی اور ترک صدر اردوان کی مدبرانہ سوچ کا اہم ترین کردار ہوگا۔

مکہ اتحاد بڑے ملکوں کے بڑے ذہنوں کی سوچ کا مظہر ہے۔ ایسے میں ایک طالب علم کی حیثیت سے جذبۂ خیر سگالی کے تحت اسکی ٹرمز میں سات ٹیز(7 T’s) کو ضرور بہ ضرور شامل کرنے کی تجویز ہے تاکہ یہ اتحاد صرف کاغذی نہیں بلکہ ایک انقلابی اتحاد ہو اور اس کے مثبت اثرات سے نہ صرف اسکے تینوں اتحادی ملک مستفید ہوں بلکہ ساری دنیا اس معاہدے سے مثبت روشنی حاصل کر سکے۔ ان تینوں مسلم ممالک کے اتحاد کو ماضی کے بہت سے ایسے معاہدوں کو ضرور مدنظر رکھنا چاہیے جو نہ عوامی قبولیت پا سکے اور نہ ہی اثر پذیر ہو سکے۔ وہ ٹرمز کیا ہو سکتی ہیں جو انگریزی لفظ7 T’sسے شروع ہوتی ہیں اور جن سے اس اتحاد کو چار چاند لگ سکتے ہیں، آیئے انکا ایک ایک کر کے جائزہ لیں۔

پہلی T سے مراد Trade ہے، آج کی دنیا معیشت کی ہے۔ کوئی بھی اتحاد جسکی بنیادوں میں معیشت کی بہتری اور تجارت کی ترقی کو مدنظر نہ رکھا جائے وہ شریک ملکوں کیلئے فائدہ مند ثابت نہیں ہو سکتا۔ تجارت معیشت کو بڑھانے کا سب سے باعزت اور سب سے منافع بخش راستہ ہے۔ ترکیہ، پاکستان اور سعودی عرب کو باہمی تجارت کو ترقی دینا ہو گی تبھی یہ اتحاد پائیدار شکل اختیار کر سکےگا۔

دوسری Tسے مراد Travel ہے عوام سے عوام کی دوستی کیلئے ایک دوسرے کو جاننا اور ایک دوسرےکے ملکوں میں سیر، سیاحت اور دورے ضروری ہیں۔ یورپین یونین کی کامیابی کی اصل وجہ ان ملکوں کے درمیان آزادانہ آنا جانا اور انکی باہمی ثقافتوں کا ملنا ہے۔ ہمارے اتحاد کے شریک ممالک میں اقتصادی اونچ نیچ کی وجہ سے امیگزیشن اور ویزے کے مسئلے ہیں لیکن کم از کم سرکاری سطح اور اشرافیہ کی حد تک ان تینوں اتحادیوں کو سفر اور سیر و سیاحت کی سہولتوں کیلئے وسیع اقدامات کرنے ہونگے اس سے اتحاد مضبوط ہو گا، تجارت بڑھے گی اور معیشت کو بھی فائدہ پہنچے گا۔

تیسری T سے مراد Troops یا فوج یا دفاعی صلاحیت ہے۔ تینوں ملک امن کے داعی ہیںمگر جنگوں سے بچنے کیلئے بہترین دفاعی صلاحیت از حد ضروری ہے ترکیہ جدید ترین اسلحہ، ڈرون اور جہاز بنانے میں مشہور ہے۔ پاکستان کی فوج بہادری اور تجربہ کاری میں نامور ہے اور سعودی عرب مذہبی اور روحانی مرکز ہونے اورپیٹرو ڈالر خرچنے کی صلاحیت رکھنے کی وجہ سے اس اتحاد کا مرکزی نقطہ بن سکتاہے، شاید ہے بھی۔

چوتھی T سے مطلب Technolgy ہے آج کی معاشی دوڑ ہو یا اصلی جنگ اس میں اہم ترین چیز ٹیکنالوجی ہے۔ اسرائیل نے اپنی بہترین ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت سے اپنے اردگرد (6) اسلامی ممالک کو ٹارگٹ کیا، اسے اکثر جگہوں پر اپنی زمینی فوج اتارنی ہی نہیں پڑی، اسرائیل اس وقت امریکہ سے بھی زیادہ سٹارٹ اپ آئیڈیاز دے رہا ہے، اسرائیل میں کتابوں اور بالخصوص تحقیقی کتابوں کی اشاعت کی تعداد پوری اسلامی دنیا میں شائع ہونےوالی کتابوں سے کئی گناہ زیادہ ہے۔ مکہ اتحاد میں شریک ممالک کو ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت میں اشتراک کے حوالے سے خصوصی توجہ دینا ہو گی اگر اس شعبے کو ترجیح نہ دی گئی تو نہ صرف ہم دفاعی طور پر کمزور رہ جائیں گے بلکہ ہم معاشی مسابقت بھی نہیں کر پائیں گے۔ پانچویں T علامت ہے Treasures کی۔ یعنی اتحاد میں شامل ممالک کے معدنی خزانے، جن کا بہتر استعمال کر کے یہ شریک ممالک تیزی سے ترقی کر سکتے ہیں ۔پاکستان کے پاس نایاب دھاتوں کا خزانہ ہے۔ سعودی عرب کےپاس تیل اور سونے کے ذخائر ہیں، ترکیہ کے پاس بورون، کرومائیٹ اور سنگ مرمر کے بہترین اور نادر ذخائر ہیں ۔آج کل کی ٹیکنالوجی میں نادر اور نایاب معدنیات اہمیت اختیار کر گئی ہیں۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ نایاب معدنیات کے حصول کے مقابلے میں چین امریکہ کو پیچھے چھوڑ گیا ہے اور امریکہ کی کوشش ہے کہ اس مقابلےمیں چین کا کوئی توڑ ہو۔ نایاب معدنیات آنے والے دور میں مزید اہم ہونگی، اتحاد کے شریک ممالک کو ان معدنیات کی تلاش، کھدائی اور ان کی تراش خراش میں ایک دوسرے سے تعاون و اشتراک کرنا چاہیے، اس سے تینوں ملکوں کا اجتماعی فائدہ ہو گا۔چھٹی T سے مراد ٹیلنٹ ہے۔ تینوں ملکوں میں سے جہاں بہترین ٹیلنٹ ہے اس کو اتحادی ممالک چن کر انہیں بہترین تربیت دیں۔ پاکستان اس وقت دنیا کے ان ممالک میں ٹاپ پرہے جہاں Youth Bulge ہے یعنی یہاں پر نوجوانوں کی تعداد بہت زیادہ ہے، سعودی عرب کو تعمیر و ترقی میں نوجوانوں کی شدید ضرورت ہے ترکیہ فنی مہارت اور تعلیم میں کئی برسوں سےیورپ سے جڑا ہوا ہے جس سے پاکستانی ہنر مندوں کی تربیت میں بہتری لا سکتا ہے۔

ساتویںTسے مراد ، ٹیرا سکیل Tera scale ہے جس کا مطلب ہے کمپیوٹر ٹیکنالوجی سے بھی آگے کا سفر۔ آج کی جدید ترین دوڑ ڈیٹا سنٹر بنانے کی ہے چین اور امریکہ میں ڈیٹا سنٹر بنانے کا مقابلہ جاری ہے، اس مسابقت میں چین کو امریکہ سے سبقت حاصل ہو گئی ہے کیونکہ ڈیٹا سینٹر چلانے کیلئے بجلی اور توانائی کی ضرورت اس قدر زیادہ ہے کہ فی الحال امریکہ بجلی کی اتنی پیداوار کا حامل نہیں ۔ پاکستان ،سعودیہ اور ترکیہ کو مل کر مشترکہ طور پر ڈیٹا سنٹرز بنانے کا آغاز کرنا چاہیے کیونکہ آگے کی دنیا کا سفر اسی راستے سے طے ہونا ہے۔اگر ان سات T,s کو سامنے رکھ کر اتحاد کا لائحہ عمل بنایا جائے تو نہ صرف ان تینوں ملکوں کا اجتماعی فائدہ ہو گا بلکہ ان ملکوں کی ترقی سے مسلم اُمہ اور اقوام عالم کو بھی تقویت ملے گی۔ صدر اردوان تجربے میں سینئر ہیں، محمد بن سلمان اپنے مقام اور رتبے میں اعلیٰ سطح پر فائز ہیں جبکہ فیلڈ مارشل عاصم منیر اور وزیر اعظم شہباز شریف سفارت اور عسکریت میں کامیابی کے ریکارڈ توڑ چکے ہیں۔ ایسے میں اگر واقعی سات نکاتی لائحہ عمل پر عمل ہو جائے تو ایک نئی دنیا تعمیر ہو سکتی ہے۔

 

Back to top button