بشیر میمن کیخلاف کیس کا صوفیہ مرزا سے کیا تعلق ہے؟

گزشتہ دس سال سے اپنے سابق شوہر عمر فاروق ظہور سے اپنی بچیوں کی حوالگی کے لئے عدالتی جنگ لڑنے والی اداکارہ صوفیہ مرزا نے بالآخر اسلام آباد کی اعلیٰ حکومتی شخصیات تک رسائی حاصل کر کے سابق شوہر کے گرد شکنجہ تو تنگ کروا دیا ہے لیکن حکومت اصل اب اس کیس میں سابق ڈی جی ایف آئی اے بشیر میمن کو پھنسانے کی کوشش میں مصروف نظر آتی ہے۔

باخبر ذرائع کا کہنا ہے کہ گزشتہ کئی برس سے یورپی ملک ناروے کو مالیاتی جرائم میں مطلوب ملزم اور اداکارہ صوفیہ مرزا کے سابق شوہر عمر فاروق ظہور کی سہولت کاری کے الزام میں حکومت نے سابق ڈی جی ایف آئی بشیر میمن کو نشانہ بنا لیا ہے جنہوں نے ماضی قریب میں وزیراعظم عمران خان پر یہ الزام عائد کیا تھا کہ وہ انہیں سپریم کورٹ کے جج قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف کیس بنانے پر مجبور کرتے رہے۔ حققیت یہ ہے کہ عمر فاروق کے حکومتی شخصیات کے ساتھ بھی گہرے تعلقات ہیں لیکن ملزم کی بشیر میمن کے ساتھ چند تصاویر کو بنیاد بنا کر انہیں نشان عبرت بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

ناقدین کا کہنا ہے کہ سابق ڈی جی ایف آئی اے بشیر میمن پر عمر فاروق ظہور کی مبینہ سہولت کاری کا الزام لگا کر کہا جارہا ہے کہ انہوں نے ملزم کا نام انٹرپول کی ریڈ لسٹ سے نکلوا دیا تھا۔ لیکن در حقیقت ملزم عمر فاروق ظہور کے ریڈ نوٹس منسوخ کرنے کا فیصلہ انٹرپول کا اہنا تھا جو میمن کے اختیارات سے باہر تھا۔ اس کی تصدیق ایف آئی اے اور انٹرپول کے درمیان ہونے والی پیغام رسانی سے بھی ہو جاتی ہے۔ واضح رہے کہ بشیر میمن تب سے زیر عتاب ہیں جب سے انہوں نے اپنے انٹرویو میں انکشاف کیا تھا کہ کس طرح ان پر اپوزیشن رہنمائوں کے خلاف بےبنیاد الزامات پر کیس بنانے کے لیے دبائو ڈالا گیا تھا، لیکن انہوں نے انکار کردیا تھا۔

انہوں نے یہ انکشاف بھی کیا تھا کہ وزیراعظم سے ملاقات کروانے کے بعد انکے معاونین نے ان سے کہا تھا کہ وہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف بھی منی لانڈرنگ الزامات پر کارروائی کریں۔ حکومت تب سے انہیں سزا دینے کی کوشش کر رہی ہے۔ ماضی قریب میں ایک سرکاری حکم نامے کے ذریعے ان کی پنشن روکی گئی، اس حکم نامے کو اسلام آباد ہائی کورٹ نے معطل کر دیا جس کے خلاف حکومت نے اپیل کر رکھی ہے۔ اسی طرح ان کی کوکنگ آئل مل پر وزارت سائنس و ٹیکنالوجی کے ماتحت ادارے پی ایس کیو سی اے نے چھاپہ مارا تھا۔

یاد رہے کہ بشیر میمن پر مفرور شخص عمر فاروق ظہور کی سہولت کاری کا الزام ہے جوکہ ناروے، سوئٹزر لینڈ، ترکی اور پاکستان کو 10-2009 سے مطلوب ہے۔ میمن ایف آئی اے لاہور کی تحقیقاتی ٹیم کے سامنے پیش بھی ہو چکے ہیں اور سندھ ہائی کورٹ سے پندرہ روزہ حفاظتی ضمانت بھی لے رکھی ہے۔ اپنے خلاف کیس پر بشیر میمن کا کہنا تھا کہ دکھ ہوتا ہے کہ ایف آئی اے کو پھر سے وہی ادارہ بنایا جا رہا ہے جو حکومتی کٹھ پتلی بن کر کام کرے۔ عمر فاروق ظہور کی سہولت کاری کے الزام پر انکا کہنا تھا کہ حکمران ان کو عبرت کی مثال بنانا چاہتے ہیں۔

پاکستان، برطانیہ کا مجرموں کی واپسی کے معاہدے کا فیصلہ

میمن کا مؤقف ہے کہ ایف آئی اے اُن سے وہ دستاویز مانگ رہا ہے جو اُن کی تحویل میں نہیں ہیں، ملزم عمر فاروق ظہور بارے انکا کہنا تھا کہ کا کوئی نام ریڈ نوٹس سے نکلوانے کا انٹر پول کا اپنا طریقہ کار ہے، جس پر کوئی بھی شخص اثرانداز نہیں ہو سکتا۔ بشیر میمن کے بقول حکومت نے عمر فاروق ظہور کو لائبیریا میں پاکستان کا سفیر مقرر کیا تھا جس کے نتیجے میں اسے سفارتی استثنیٰ ملا اور اسکا نام ریڈ لسٹ سے نکل گیا۔ لہذا میں نے بطور ڈی جی ایف آئی اے ملزم کی کوئی مدد نہیں کی، یہ سب لغو اور بے بنیاد باتیں ہیں۔

حکومتی شخصیات کا کہنا ہے کہ یورپی ملک ناروے میں مالیاتی جرائم میں مطلوب عمر فاروق ظہور کا تعلق سابق ڈی جی، ایف آئی اے بشیر میمن سے ہے تاہم دوسری جانب اس شخص کو حکومت کے ہائی پروفائل اجلاسوں میں دیکھا گیا ہے اور سرکاری طور پر جاری تصاویر میں بھی نظر آتا ہے۔ ایف آئی اے ریکارڈ کے مطابق یہ شخص گزشتہ 14 برس کے دوران 60 سے زائد مرتبہ پاکستان کا سفر کر چکا ہے اور آخری سفر 2019 میں کیا۔

اپریل، 2019 کو ہونے والے ایک حکومتی اجلاس میں عمر فاروق ظہور، شاہی خاندان کے ایک فرد کے ساتھ فیصل واوڈا سے ملے تھے جو تب وزیر آبی وسائل تھے۔ انکی ایسی ہی ایک ملاقات وزیر اقتصادی امور عمر ایوب سے بھی ہوچکی ہے جس کی تصاویر بھی موجود ہیں۔ میڈیا میں اسی شاہی خاندان کے فرد کی صدر عارف علوی اور وزیراعظم عمران خان سے ملاقات کی تصاویر بھی نظر آتی ہیں جو کہ ملک میں تعمیر ہونے والی خصوصی ٹیکنالوجی زون اتھارٹی کے حوالے سے تھیں۔

Back to top button