جماعت اسلامی اورحکومتی مذاکراتی کمیٹی کا پہلا دور بے نتیجہ ختم

جماعت اسلامی اورحکومتی مذاکراتی کمیٹی کا پہلا دور بے نتیجہ ختم، مزاکرات کا دوسرا دور کل دوپہر 12 بجے کے بعد ہوگا۔

وفاقی وزیر اطلاعات عطاء تارڑ  نےدیگر رہنماوں کے ہمراہ کمشنر راولپنڈی کے دفتر کے باہر پریس کانفرنس کی۔

وزیراطلاعات عطا تارڑ کاکہنا ہے کہ جماعت اسلامی کے مطالبات بجلی سے متعلق ہیں جو ٹیکنیکل کمیٹی دیکھے گی۔ جماعت اسلامی کی جانب سے 35 گرفتار کارکنان کی فہرست فراہم کی گئی۔جماعت اسلامی کے گرفتار کارکنان کی رہائی کے احکامات جاری کر دیئے گئے۔ ہمارا  مشن ہے کہ پاکستان کو چلنے دیا جائے، 200 یونٹ والے صارفین کو 50 ارب کی سسبڈی دی گئی۔2018میں  ہم مہنگائی 4 فیصد پر چھوڑ کر گئے، آئی ایم ایف کا معاہدہ طہ پا گیا ہے۔حکومت کے اخراجات کو کم کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔

وفاقی وزیر اطلاعات نے کہاکہ  معاشی اصلاحات کی جارہے ہیں، ڈیجیٹل اسپیس پیدا کی جائے گی۔ہمارا مشن ہے کہ دوست ممالک سے انوسمنٹ کروائی جائے، سرمایہ کاری کو فروغ دیا جائے۔ہم چاہتے ہیں روپیہ مستحکم ہو جائے اور روزگار فراہم  کیا جائے۔بین الاقوامی مارکیٹ میں تیل کی قیمت کم ہوئی تو پھر بھی ریلیف دیا جائے گا۔کل ہماری کوشش ہے کل آگے دور کا آغاز ہو جائے۔

حکومت نے مطالبات نہ مانے تو دھرنا جاری رہے گا،لیاقت بلوچ

ڈاکٹر طارق فضل چو دھری نے کہاکہ جو باتیں جماعت اسلامی نے ہمارے سامنے رکھی ہیں وہ وزراء  بھی کر رہے ہوتے ہیں۔حکومت نے ایم این اے کے ترقیاتی منصوبوں میں بھی کٹوتی کی ہے۔راولپنڈی میں 1 کروڑ سے زائد آبادی ہے، سڑک بند ہونے سے لوگوں کو مشکلات کا سامنا ہے۔

وفاقی وزیر امیر مقام نے کہا کہ ہماری ٹیکنیکل کمیٹی کل جماعتی اسلامی کے ساتھ گفتگو کرے گی۔ہم نے جماعت اسلامی کو کہا ہے مزید کارکنان کو رہا کر دیا جائے گا۔ہم نے جماعت اسلامی کو کہا ہے کہ ہماری ٹیکنیکل کمیٹی بھی آپ سے بات کرے گی۔ہماری کوشش ہے کہ ملک کو چلایا جائے۔

Back to top button