افغانستان سے تجارت سے زیادہ اہم ایک عام پاکستانی کی جان ہے : ترجمان دفتر خارجہ

 

 

 

ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ پاک افغان کشیدگی کے پیش نظر افغان سرحدی راہداریاں تاحکمِ ثانی بند رہیں گی۔ ترجمان نے واضح کیا کہ اشیا کی آمد و رفت اور تجارت سے زیادہ قیمتی ایک عام پاکستانی کی جان ہے اور حکومت شہریوں کے تحفظ پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گی۔

 

ہفتہ وار بریفنگ کے دوران ترجمان دفتر خارجہ طاہر اندرانی نکا کہنا تھا کہ دوحہ میں ہونےوالے مذاکرات کے تحت افغانستان کی صورت حال پر نظر رکھے ہوئے ہیں، دوحہ مذاکرات کےبعد افغان سرزمین سے پاکستان پر کوئی حملہ نہیں ہوا۔

انہوں نے کہاکہ کل ہونے والے استنبول مذاکرات کے پاکستانی وفد کے بارے میں تفصیلات موجود نہیں۔ مذاکرات کی میزبانی ترکیہ کررہا ہے۔

دوحہ مذاکرات کے حوالے سے ترجمان دفتر خارجہ نے کہاکہ ایک تحریری دستاویز پر اتفاق رائے اور دستخط ہوچکے ہیں، اب افغان طالبان حکومت اس کو معاہدہ تسلیم کرے یا نہ کرے،اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔

ترجمان نےکہا کہ پاکستان دریائے کنڑ سے متعلق عالمی قوانین کی مکمل پاسداری کرے گا۔

بھارت اور افغانستان کے تعلقات پر تبصرہ کرتےہوئے ترجمان کا کہنا تھاکہ بھارت کا افغانستان میں سفارتخانہ کھولنا دونوں ممالک کا اندرونی معاملہ ہے، تاہم بھارت کا ماضی کا کردار افغانستان میں زیادہ مثبت نہیں رہا۔

اسرائیل سے متعلق ترجمان دفتر خارجہ نے کہاکہ اسرائیل مسلسل عالمی قوانین کی خلاف ورزی کررہا ہےاور پاکستان ان مظالم کو اجاگر کرتا رہےگا۔ ترجمان نے کہا کہ فلسطینی ریاست کا قیام ہی وہ روڈ میپ ہے جس پر پاکستان کی پالیسی قائم ہے۔

یاد رہے کہ پاک افغان کشیدگی کے باعث چمن، خیبر، جنوبی و شمالی وزیرستان اور ضلع کرم کے بارڈر تیرہویں روز بھی بند ہیں۔ باب دوستی، طورخم، خرلاچی، انگور اڈہ اور غلام خان کی سرحدی گزرگاہوں پر سیکڑوں مال بردار گاڑیاں تاحال پھنسے ہونے کی اطلاعات ہیں۔

 

 

 

 

 

Back to top button