مذاکراتی کمیٹی کو کالعدم ٹی ٹی پی سے مذاکرات کا مینڈیٹ دیدیاگیا

پارلیمنٹ کی قومی سلامتی کمیٹی نے مذاکراتی کمیٹی کو کالعدم تحریک طالبان (ٹی ٹی پی) سے مذاکرات جاری رکھنے کا مینڈیٹ دیدیا ہے۔

وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت قومی سلامتی کمیٹی کا چھٹا اجلاس ان کیمرا ہوا،جس میں سیاسی و عسکری قیادت کی شرکت کی، شرکا میں کور کمانڈر پشاور لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید، صدر آزاد کشمیر بیرسٹر سلطان محمود، وزیر اعظم آزاد کشمیر سردار تنویر الیاس، سیکرٹری خارجہ سہیل محمود، وزیر مملکت برائے خارجہ حنا ربانی کھر، وزیراعظم کے معاون خصوصی اویس نورانی سمیت وزرا، ارکان اسمبلی اور دیگر شامل ہوئے۔ اجلاس میں آصف زرداری، مولانا فضل الرحمان، سراج الحق، محمود خان اچکزئی، سردار عبدالمالک، خالد مقبول صدیقی، کالعدم تحریک طالبان سے مذاکرات کرنے والی کمیٹی کے اراکین اور دیگر حکام موجود تھے۔

لندن میں جمائما کے گھر کے باہر ن لیگ کے مظاہرے شروع

قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس کے جاری اعلامیہ کےمطابق شرکا کو ملکی داخلی اور خارجہ سطح پر لاحق خطرات اور تدارک کے لیے اقدامات سے آگاہ کیا گیا اجلاس کو پاکستان اور افغان سرحد پر انتظامی امور کے بارے میں آگاہ کیا گیا۔ پاکستان نے افغانستان میں امن و استحکام کے لیے نہایت ذمہ دارانہ اور مثبت کردار ادا کیا۔

اعلامیہ میں کہا گیا کہاجلاس کے شرکاء کو کالعدم ٹی ٹی پی کے ساتھ بات چیت کے بارے میں بھی تفصیلات سے آگاہ کیا گیا۔ اجلاس کو اس تمام پس منظر سے باخبر کیا گیا جس میں بات چیت کا یہ سلسلہ شروع ہوا۔

اعلامیہ کے مطابق افغان حکومت کی سہولت کاری سے کالعدم ٹی ٹی پی سے بات چیت کا عمل جاری ہے۔ حکومتی قیادت میں سول اور فوجی نمائندوں پر مشتمل کمیٹی آئین پاکستان کے دائرے میں بات چیت کر رہی ہے۔ حتمی فیصلہ آئین کی روشنی میں پارلیمنٹ کی منظوری، مستقبل کے لیفراہم کردہ رہنمائی اور اتفاق رائے سے کیا جائےگا۔

اجلاس کے اعلامیہ میں بتایا گیا کہ پاکستان افغانستان میں امن اور استحکام کے لیے اپنا تعمیری کردار جاری رکھے گا۔ امید ہے افغان سرزمین کو پاکستان کے خلاف استعمال نہیں ہونے دیا جائے گا۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کی کاوشوں اور قربانیوں کو دنیا نے تسلیم کیا۔ پاکستانی قوم اور افواج کی قربانیوں سے ریاستی عمل داری اور امن کی بحالی ہوئی۔ آج پاکستان کے کسی حصے میں بھی منظم دہشت گردی کا کوئی ڈھانچہ باقی نہیں رہا۔

یا رہے کہ رہے کہ اس سے قبل 22 جون کو وزیراعظم ہاؤس میں پارلیمانی رہنماؤں کا اہم اجلاس ہوا جس میں قومی سلامتی سے متعلق بریفنگ دی گئی تھی۔ اس اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ کالعدم ٹی ٹی پی سے متعلق حتمی فیصلہ آئین کی روشنی میں پارلیمنٹ کی منظوری سے کیا جائے گا۔

Back to top button