سیٹھوں کا تیل کا سیزن اور "سرکار مائی باپ” کا دوش

تحریر: نصرت جاوید
میرے چند عزیز اور قریب ترین دوست ہیں۔ ان کے خیالات سے میں اکثر متفق نہیں ہوتا۔ اختلافی گفتگو بسااوقات تلخ بحث میں بھی بدل جاتی ہے۔ ان کے خیالات سے شدید اختلاف کے باوجود ایک لمحے کو بھی ان پر ذاتی مفاد کی خاطر جھوٹ کو سچ اور سچ کو جھوٹ بناکر دکھانے کا الزام نہیں لگاسکتا۔ جمعہ کی رات سے بھی ایسے ہی عزیز دوستوں کے علاوہ سوشل میڈیا کے مختلف پلیٹ فارم پر چھائے بے شمار’’پڑھے لکھے افراد‘‘سے بحث تلخ سے تلخ تر ہورہی ہے۔
تلخی بڑھاتی بحث کا آغاز جمعہ کی شام 7بج کر 15منٹ پر دکھائی ’’پریس کانفرنس‘‘ سے ہوا۔ لاہور کے ایک بااصول اور نیک نام خاندان کے جواں سال فرزند علی پرویز ملک نے بطور وزیر پٹرولیم اس ’’کانفرنس‘‘ کے دوران اعلان کیا کہ پٹرولیم مصنوعات کا تعین اب روزانہ کی بنیاد پر ہوا کرے گا۔ایک ’’خودمختار‘‘ ادارہ -اوگرا- ان کے نرخوں کا اعلان کرے گا۔ایسا کرتے ہوئے اپنی ویب سائٹ پر درآمد شدہ تیل کی وہ قیمت مشتہر کرے گا جو Platts(پلاٹ)نام کا ادارہ طے کرتا ہے۔خبروں پر نگاہ رکھنے والے پاکستانی عوام کی اکثریت عالمی منڈی میں تیل کی قیمت جاننے کے لئے برنٹ (Brent)نامی کمپنی کے جاری کئے نرخوں سے آشنا رہی ہے۔ برنٹ مگر جو قیمت بتاتا ہے وہ درحقیقت آپ کو محض یہ بتاتا ہے کہ فرض کیا کہ آج ہم عالمی منڈی سے تیل خریدنا چاہیں تو اس کا فی بیرل کتنے ڈالر میں میسر ہوگا۔ اس نرخ کو ذہن میں رکھتے ہوئے ہم بھول جاتے ہیں کہ آج کے نرخ پر تیل کا جوآرڈر بک ہوگا وہ پاکستان کی کسی بندرگاہ پر پہنچنے میں کتنے دن لگائے گا اورفی بیرل کتنے ڈالر کا پڑے گا۔ ’’پلاٹ‘‘ نام کا ادارہ آپ کو وہ نرخ بتاتا ہے جو کسی مخصوص دن پاکستان کی بندرگاہ پر پہنچے تیل کیلئے درآمد کنندہ کو ایک بیرل کے لئے ادا کرنا ہوگا۔
ہماری بندرگاہ سے تیل پاکستان بھر میں پہلے پٹرول پمپوں تک پہنچایا جاتا ہے۔ بندرگاہ سے پٹرول کی ترسیل کے لئے استعمال ہوئے وسائل کا کرایہ جمع کرنے کے بعد تیل درآمد کرنے والی کمپنیوں کے لئے شرح منافع بھی قیمت میں جمع کی جاتی ہے۔ منافع کی شرح طے کرتے ہوئے اس امر کو یقینی بنایا جاتا ہے کہ پمپ پر پٹرول پہنچ کر لاہور،اسلام آباد ہی نہیں بلکہ گلگت اور سکردو جیسے دور دراز علاقوں میں بھی اسی قیمت پر دستیاب ہو۔ کمپنیوں کے منافع کے علاوہ پٹرول کی قیمت طے کرتے ہوئے پمپ مالکان کا کمیشن بھی طے کردیا جاتا ہے۔ کمپنیوں اور پٹرول پمپوں کا کمیشن یا منافع طے ہوجانے کے بعد حکومت بازار میں بکتے تیل پر مختلف النوع ٹیکس عائد کرتی ہے۔ حالیہ دنوں میں اس نے ’’لیوی‘‘ نام کی جگاڑ بھی دریافت کرلی ہے۔ اس کے ذریعے وفاقی حکومت وہ رقم جمع کرنے کی کوشش کرتی ہے جو ایف بی آر ٹیکسوں کے ذریعے وصول کرنے میں ناکام رہا۔ ’’لیوی‘‘ سے ملی رقم کا اضافی فائدہ یہ بھی ہے کہ اسے صوبوں میں تقسیم کرنا نہیں پڑتا۔ وہ کاملاََ وفاقی حکومت کے تصرف میں رہتی ہے۔
رواں برس کے مارچ میں اسرائیل اور امریکہ کے ایران پر حملے کے بعد حکومت نے فیصلہ کیا کہ جنگ کی وجہ سے خلیجی ممالک سے درآمد کیے تیل کی قیمتوں میں ڈرامائی اتارچڑھاؤ کی وجہ سے کئی برسوں سے جاری وہ روایت ترک کردی جائے جس کے ذریعے حکومت ہر 15دن گزرجانے کے بعد پٹرولیم مصنوعات کے نرخ طے کیا کرتی تھی۔ پندرہ روزہ سے اسے ہفتہ وار اعلان میں بدل دیا گیا۔ تیل درآمد کرنے والی اجارہ دار کمپنیوں نے اس کے خلاف دہائی مچانا شروع کردی۔ ان کا دعویٰ تھا کہ جنگ کی سنگینی کے دوران انہوں نے جو تیل برآمد کیا اس کی قیمت میں عالمی منڈی میں جنگ بندی کے فوراََ بعد نمودار ہوئی کمی کے تناسب سے حکومت نے لوگوں کے دل جیتنے کے لئے ڈرامائی حد تک کمی کردی۔ عوام کی واہ واہ تو وصول کرلی مگر اجارہ دار کمپنیوں کو بھاری بھر کم نقصان کا سامنا کرنا پڑا۔
اپنے نقصان کا واویلا مچاتے ہوئے تیل کی درآمد سے جڑے اجارہ دار سیٹھ نہایت سادگی سے یہ حقیقت فراموش کرگئے کہ خلیج کی جنگ شروع ہوتے ہی پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں جو ہوشربااضافہ ہوا تھا اس کی فروخت سے انہوں نے بے پناہ منافع کمایا۔ ان کے پرانے نرخوں پر خریدے سٹاک کئی گناہ مہنگے نرخوں پر بکے۔ اپنے ’’لٹ جانے‘‘ کی دہائی مچاتے ہوئے تیل درآمد کرنے والے سیٹھ یہ مطالبہ کرنا شروع ہوگئے کہ خلیجی جنگ کی وجہ سے عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں ڈرامائی اتارچڑھائو سے محفوظ رکھنے کے لئے انہیں روزانہ کی بنیاد پر طے ہوئے نرخوں پر اپنے پاس موجود سٹاک بیچنے کی اجازت دی جائے۔ چند دنوں تک اڑی دکھانے کے بعد حکومت ان کے دبائو کے سامنے جھک گئی۔
فیصلہ اب یہ ہوا ہے کہ اوگرا اپنی ویب سائٹ پر یہ بتائے گا کہ مثال کے طورپر پیر 20جولائی 2026ء کے دن جو پٹرول کراچی یا گوادر کی بندرگاہ پرپہنچا ہے وہ درآمد کنندہ کو کتنے کا پڑا۔ اس قیمت کو نگاہ میں رکھتے ہوئے پٹرول کے نرخ طے کرنے کے دیگر اصولوں کے اطلاق کے بعد روز کی قیمت پٹرول پمپوں پر بیچنے کے لئے روزانہ طے ہوگی۔ حکومت قیمتوں کے تعین میں مداخلت سے گریز کی راہ اختیار کرے گی۔ اوگرا نام کا ’’خودمختار ادارہ ’’پلاٹ کے بتائے نرخوں کی روشنی میں پٹرول کے فی لیٹر کی قیمت کا اعلان کردیاکرے گا۔ میرے نیک طینت دوست بہت خوش تھے کہ حکومت نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمت طے کرنے کے عمل سے دور رہ کر کاروبار کو طلب ورسد کی بنیادی منطق کے سپرد کردیا ہے۔
میں عاجز مگر فریاد کرتا رہا کہ پاکستان میں سرکار کو ’’مائی باپ‘‘ کہا جاتا ہے۔ حکومت عوام کو رسد وطلب کی منطق کے حوالے کردے گی تو اجارہ دار سیٹھ اپنی مرضی کے نرخ وصول کرتے ہوئے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کو ناقابل برداشت بناتے چلے جائیں گے۔ مجھ جاہل کو خاموش کروانے کے لئے امریکہ کا ذکر ہوا۔ وہاں حکومت کا پٹرول کی قیمت طے کرنے سے کوئی تعلق نہیں۔ طلب ورسد کا اصول لاگو ہوتا ہے اور ایسا بھی ہوتا ہے کہ مثال کے طورپر کسی علاقے میں موجود تین یا چار پٹرول پمپ ’’مسابقت‘‘ کی دوڑ میں ایک دوسرے سے مختلف نرخوں پر تیل فروخت کرتے ہیں۔
مجھ جاہل کو جب طلب ورسد کی فضیلتوں سے آگاہ کیا گیا تو میں یاد دلانے کو مجبور ہوا کہ امریکہ سے کئی سو سال پہلے برطانیہ نے سرمایہ دارانہ نظام متعارف کروایا تھا۔ علم معیشت کا باوا آدم تصور ہوتا ایڈم سمتھ بھی برطانیہ ہی کا باشدہ تھا۔ ایڈم سمتھ کا ملک برطانیہ مگر جب برصغیر پاک وہند کا ’’سرکار مائی باپ‘‘ تھا تو پہلی جنگ عظیم شروع ہونے کے چند ہی دن بعد عوامی ضرورت کی بنیادی اشیاء کے نرخوں کا تعین سرکار نے شروع کردیا۔ دوسری جنگ عظیم کے دوران راشن ڈپو کے ذریعے سرکاری نرخوں پر چینی اور آٹا فروخت ہوتے تھے۔ راشن سے ہٹ کر خریدی اشیاء کو ’’بلیک‘‘ کا مال سمجھا جاتا تھا۔ برطانیہ کے 1947ء میں رخصت ہوجانے کے بعد پاکستان میں جنرل ضیاء کی حکومت سے قبل راشن ڈپو موجود رہے۔ بھارت میں آج بھی غذائی فروخت کی بنیادی اجناس راشن ڈپو کے ذریعے خریدی جاتی ہیں۔ چند ہی برس قبل تک راشن کارڈ بھارت میں ہمارے قومی شناختی کارڈ کی طرح آپ کی شناخت کی دستاویز بھی تھا۔
میرے دلائل کو مگر ماضی کی داستان بتاکر رد کردیا گیا۔ دوست مصر رہے کہ تیل کی قیمتیں روزانہ طے ہونے کے نتیجے میں اسے درآمد کرنے والے سیٹھ ذخیرہ کئے سٹاک کو مارکیٹ میں لاکر ہوشربامنافع کما نہیں پائیں گے۔ذخیرہ اندوزی بلکہ بالآخر گھاٹے کا سودا ثابت ہوگی۔ میری بدقسمتی کہ یہ کالم لکھنے تک خلیجی جنگ کا دائرہ وسیع ہورہا ہے۔ آبنائے ہرمز کے بعد باب المندب کی بندش بھی یقینی نظر آرہی ہے۔ سعودی عرب کا تیل اس کی وجہ سے یمن کے حوثیوں کے اچھالے میزائل کی وجہ سے دیگر ممالک بآسانی پہنچ نہیں پائے گا۔ ایران کی جانب سے اردن تک اچھائے میزائلوں کی وجہ سے جنگ میں مزید شدت یقینی نظر آرہی ہے۔ تیل کی قیمت قصہ مختصر ہر صورت آنے والے دنوں میں مسلسل بڑھتی نظر آرہی ہے۔ ہمارے سیٹھ اس کی وجہ سے اچھا سیزن لگالیں گے۔ دوش ان کے منافع کا مگر ’’سرکار مائی باپ‘‘ کے سر ہی جائے گا۔ جی کو تسلی دینے کے لئے حکومت مگر اس امکان کے ادراک کے قابل نہیں رہی ہے۔
