عوام کا تیل نکل گیا!

تحریر: انصار عباسی
بشکریہ : روزنامہ جنگ

پٹرول کی قیمت 375روپے 82پیسے فی لیٹر اور ڈیزل کی 403روپے 32پیسے فی لیٹر تک پہنچ چکی ہے۔ یہ محض دو اعداد نہیں، بلکہ عام آدمی کے بجٹ پر پڑنے والے ایک بڑے بوجھ کی علامت ہیں۔ موٹر سائیکل چلانے والا ہو یا گاڑی، رکشہ اور بس، کسان ہو یا صنعت کار، پٹرول اور ڈیزل کی قیمت میں اضافہ بالآخر ہر شخص کی جیب تک پہنچتا ہے۔ سبزی سے لیکر دودھ، آٹے سے لیکر تعمیراتی سامان اور ایک شہر سے دوسرے شہر جانے کے کرائے تک، ہر چیز پر اس کا اثر پڑتا ہے۔ یہ بات اپنی جگہ درست ہے کہ موجودہ صورتحال میں پاکستان عالمی منڈی کو کنٹرول نہیں کر سکتا۔ بین الاقوامی سطح پر خام تیل کی قیمت ایک بار پھر سو ڈالر فی بیرل کی حد عبور کر چکی ہے اور حالیہ دنوں میں برینٹ کی قیمت 107ڈالر فی بیرل سے بھی اوپر گئی۔ اس اضافے کے پیچھے امریکہ اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی، خطے میں حملے، تیل کی تنصیبات کو پہنچنے والے نقصان اور آبنائے ہرمز کے ذریعے تیل کی ترسیل میں خلل کے خدشات جیسے عوامل ہیں۔ پاکستان ان عالمی حالات کو ختم نہیں کر سکتا۔ نہ اسلام آباد کے پاس عالمی منڈی میں تیل کی قیمت مقرر کرنے کا اختیار ہے اور نہ ہی وہ جنگوں اور جغرافیائی کشیدگی کا رخ بدل سکتا ہے۔

لیکن سوال یہ ہے کہ جو کچھ پاکستان کے اختیار میں ہے، کیا وہ بھی نہیں کیا جا سکتا؟ یہیں سے حکومت کی اصل ذمہ داری شروع ہوتی ہے۔ 12ستمبر سے پٹرول کی قیمت 375روپے 82 پیسے اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت 403روپے 32 پیسے فی لیٹر مقرر کی گئی ہے۔ اسی وقت سے حکومت پٹرول پر 114 روپے اور ڈیزل پر 100روپے فی لیٹر ٹیکس اور محصولات وصول کر رہی ہے۔ یعنی جب عالمی حالات پاکستانی عوام کیلئے پٹرول مہنگا کر رہے ہیں تو ریاست بھی ہر لیٹر پر ایک خاصا بڑا حصہ ٹیکس کے طور پر وصول کر رہی ہے۔ یہ وہ مقام ہے جہاں حکومت کو کچھ غیر معمولی کرنا چاہئے۔ اگر عالمی منڈی میں قیمت بڑھ رہی ہے تو پاکستان کے پاس عالمی قیمت کم کرنے کا کوئی راستہ نہیں، مگر ریاست اپنے محصولات میں عارضی کمی کر کے اس اضافےسے عوام کو بچا سکتی ہے۔ پٹرولیم لیوی اسی مقصد کیلئے سب سے اہم ذریعہ بن سکتی ہے۔ حکومت کو بین الاقوامی مالیاتی فنڈ سے بات کرنی چاہیے۔ صرف یہ کہہ دینا کافی نہیں کہ پاکستان نے مالیاتی پروگرام کے تحت کچھ اہداف پورے کرنے ہیں۔ معاہدے اپنی جگہ اہم ہیں، مالیاتی نظم و ضبط اپنی جگہ ضروری ہے، مگر غیر معمولی عالمی بحران میں غیر معمولی اقدامات بھی کیے جاتے ہیں۔ اگر پٹرول کی قیمت عام آدمی کی قوت خرید، مہنگائی اور معاشی سرگرمی کو متاثر کرنے لگے تو حکومت کو اپنے شراکت داروں کے سامنے عوام پر پڑنے والے اس بوجھ کی حقیقی تصویر رکھنی چاہیےاور یہ بات وزیر اعظم کو خود کرنی چاہیے۔ اگر ضرورت ہو تو وہ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کی سربراہ سے براہ راست بات کریں اور کہیں کہ پاکستان عالمی تیل بحران کا شکار ہے، اسلئے کچھ عرصےکیلئے پٹرولیم لیوی میں غیر معمولی کمی کی اجازت دی جائے۔ یہ کمی پانچ یا دس روپے کی نہیں ہونی چاہئے۔ اگر ضرورت پڑے توچالیس، پچاس یا ساٹھ روپے فی لیٹر تک لیوی میں عارضی کمی پر غور ہونا چاہیے۔ جتنا بڑا عالمی جھٹکا ہے، اتنا ہی بڑا حکومتی ردعمل بھی ہونا چاہیے۔ یقیناً یہاں ایک اہم احتیاط بھی ضروری ہے۔ پاکستان ماضی میں یہ سبق سیکھ چکا ہے کہ عوام کو ریلیف دینے کے نام پر ایسا فیصلہ نہیں ہونا چاہیے جو ملکی معیشت کو مزید بحران میں دھکیل دے۔ عمران خان کی حکومت کے آخری دنوں میں پٹرول کی قیمت میں نمایاں کمی کا فیصلہ بھی ایسے وقت کیا گیا تھا جب پاکستان بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کے پروگرام میں تھا۔ اس فیصلے کے نتیجے میں مالی بوجھ بڑھا، پروگرام کے ساتھ اختلافات پیدا ہوئے اور بالآخر ملک کو ایک شدید معاشی بحران کا سامنا کرنا پڑا۔ اس تجربے کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ آج عوام کو ریلیف نہ دیا جائے۔ اصل سبق یہ ہے کہ ریلیف بھی ذمہ داری کے ساتھ دیا جائے۔ یعنی حکومت ایک طرف بین الاقوامی مالیاتی فنڈ سے تعلقات خراب نہ کرے، دوسری طرف عوام کو عالمی منڈی کے اتار چڑھاؤ کے رحم و کرم پر بھی نہ چھوڑے۔ دونوں کام بیک وقت ممکن ہیں، بشرطیکہ حکومت سنجیدگی سے مذاکرات کرے اور اپنے مالیاتی اعداد و شمار کے ساتھ یہ مقدمہ پیش کرے کہ عارضی طور پر لیوی کم کرنا پاکستانی معیشت کیلئے بھی فائدہ مند ہوگا۔ کیونکہ پٹرول کی قیمت صرف پٹرول کی قیمت نہیں ہوتی۔ یہ مہنگائی کی رفتار بھی طے کرتی ہے۔ ڈیزل مہنگا ہوتا ہے تو ٹرانسپورٹ مہنگی ہوتی ہے، زرعی پیداوار کی لاگت بڑھتی ہے، اشیائے خورونوش مہنگی ہوتی ہیں اور صنعت کا پیداواری خرچ بڑھتا ہے۔ یوں حکومت اگر پٹرول پر چند ارب روپے زیادہ جمع کرتی ہے تو ممکن ہے دوسری طرف مہنگائی، سبسڈی، کمزور معاشی سرگرمی اور عوامی دباؤ کی شکل میں کہیں زیادہ قیمت ادا کرنا پڑے۔ اس لیے اس وقت سوال یہ نہیں ہونا چاہیے کہ عالمی منڈی میں تیل کیوں مہنگا ہو گیا۔ اس کا جواب سب کے سامنے ہے۔ اصل سوال یہ ہے کہ پاکستان اپنے عوام کو اس عالمی بحران سے زیادہ سے زیادہ کیسے بچا سکتا ہے؟ حکومت کے پاس ایک راستہ موجود ہے: پٹرولیم لیوی میں بڑا، واضح اور عارضی کٹ لگایا جائے۔ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کو اعتماد میں لیا جائے۔ وزیر اعظم خود اس معاملے کی قیادت کریں۔ خزانے پر پڑنے والے اثرات کا حساب کیا جائے اور ایسا فارمولہ بنایا جائے جسکے تحت عالمی قیمتیں نیچے آنے پر لیوی بتدریج بحال کی جا سکے۔ریاست کا کام صرف محصولات جمع کرنا نہیں، مشکل وقت میں شہریوں کیساتھ کھڑا ہونا بھی ہے۔ آج اگر عالمی بحران نے پٹرول مہنگا کیا ہے تو پاکستان عالمی بحران کو ختم نہیں کر سکتا لیکن پاکستان یہ ضرور کر سکتا ہے کہ اس بحران کا پورا بوجھ عوام کی جیب پر نہیں ڈالا جائیگا۔ اور یہی وقت ہے کہ حکومت اپنے اختیار میں موجود سب سے مؤثر ہتھیار استعمال کرے۔

 

Back to top button