آخری قہقہہ کون لگائے گا؟

تحریر: سہیل وڑائچ
بشکریہ: روزنامہ جنگ
فی الحال تو سب کی ہنسی بند ہے، قہقہے رکے ہوئے ہیں، بات شروع کرنے والے مضمحل ہیں اور جنہیں سنائی گئی وہ حیران و پریشان ہیں۔ دونوں طرف جان اٹکی ہوئی ہے۔ یاد کریں مہینہ پہلے تو چودہویں کے چاند کی خوشیاں منائی جا رہی تھیں، ہنی مون جاری و ساری تھا مگر جشن ِطرب کی تہہ میں کافی عرصے سے جوطوفان چھپا ہوا تھا وہ بالآخر باہر آہی گیا اور حکومتی اتحادیوں کو جھٹکا لگا گیا ہے۔ اب ہر کوئی اس جھٹکے کو برداشت کرنے اور اس کا اثر زائل کرنے کی تدبیریں کرنے میں مصروف ہے ۔بات شروع کرنا، منصوبہ پیش کرنا یا سیٹی مار دینا ایک ارتعاش تو پیدا کر دیتا ہے مگر یہ بات کدھر کو جاتی ہے اور بالآخر اس کا نتیجہ کیا نکلتا ہے یہ سب سے اہم ہوتا ہے، گویا بات کرنا جتنا بھی نیا قدم ہو اصل معاملہ نتیجے پر منحصر ہوتا ہے اسی لئے دیکھنا یہ ہوتا ہے کہ ’’ آخری قہقہہ کون لگائے گا؟‘‘
سیاسی موسم ستھرا ہو تو اہل اقتدار کیلئے خشک زمین پر چلنا آسان رہتا ہے لیکن طوفانِ بادو باراں ہو تو اہل سیاست کیچڑ میں بہت احتیاط سے چلتے ہیں ان کا تجربہ انہیں بتاتا ہے کہ پھسلن سے کس طرح بچ کے چلنا ہے۔ اچھا خاصا ستھرا موسم تھا پتہ نہیں کہاں سے اچانک بارش آکر برس گئی ہے ،ہر سیاسی مکان اور دکان میں اس وقت بارش اور کیچڑ سے بچ کر گزرنے کی حکمت عملی پر غور و فکر جاری ہے۔ لگتا یوں ہے کہ اس وقت اس معاملے کا ہر فریق اردو لفظ ’’بُھگت‘‘ کو اپنے اپنے انداز میں استعمال کر رہا ہے اقتدار میں شریک جماعتوں کا بُھگتان شروع ہے، پپلے بُھگتنے کو تیار ہیں نونی بُھگتانا چاہتے ہیں، انصافی بات شروع کرنے والوں اور اپنے مخالف سیاست کرنے والوں کو اس معاملےمیں بُھگتا دینا چاہتے ہیں۔
صدر زرداری پکّے سندھی ہیں مگر وہ سندھ اور پاکستان کو ایک ہی جسم کے دو حصے سمجھتے ہیں اپنے ماضی کے تجربے کے باعث بہت سوچ سمجھ کر انہوں نے مقتدر طاقتوں کے ساتھ مل کرچلنے کا فیصلہ کیا تھا، مقتدرہ کے کسی فیصلے کے خلاف مزاحمت کرنیوالے وہ شایدآخری سندھی ہوں گے، معاملہ مگر انکی سیاست، قیادت یاعزت و توقیر کا ہوا تو وہ مفاہمت کا چولا اُتار کر مزاحمت کی زرہ بکتر بھی پہن سکتے ہیں۔ گیارہ سال کی مسلسل قید مزاحمتی سوچ کے بغیر تو نہیں کاٹی جا سکتی۔ مزاحمت کی راکھ میں ابھی بھی چنگاریاں تو ہوں گی ان کا مسئلہ بقول رانا ثناء اللہ پیپلز پارٹی کی انا کا نہیں بقا کا ہے اس لئےانہیں مجبور کیا گیا توکہیں تنگ آمد بجنگ آمد نہ ہو جائے۔ اس معاملے کے دوسرے بڑے فریق نواز شریف ہیں۔ نونی فی الحال مصلحتاً خاموش ہیں مگر وہ یہ بتانے میں نہیں ہچکچاتے کہ ان کی حکومت اور جماعت کو متعدد بار نئے صوبوں کی بات شروع کرنے کو کہا گیا لیکن نونی اس معاملے میں پہل کرنے یا سبقت لینے کے قائل نہ ہوئے تبھی یہ بات نون کی بجائے کسی اور فورم سے کروائی گئی۔
تاریخی اعتبار سے نونی قیادت اس وقت سب سے زیادہ تجربہ کار تصور کی جاتی ہے خود نواز شریف جہاں خارجہ اور معاشی امور میں فیصلہ کن کردارادا کرتے رہے ہیں وہاں جنرل ضیاء الحق کے بعد آنیوالے مقتدرہ کے ہر سربراہ سے ان کے راہ و رسم اور تعلقات کار بھی رہے ہیں، وہ ان تعلقات میں کبھی کبھار اُتار چڑھائو کا شکار رہے لیکن عمومی طور پروہ اپنے بھائی شہباز شریف کے ساتھ مل کر ہی حکمت عملی بناتے ہیں۔ وہ بھی ماضی کی تلخیوں کے بعداس بات کے قائل ہو چکے ہیں کہ مقتدرہ اور حکومت میں اختلاف سے ریاست کو نقصان پہنچتا ہے اس لیےوہ کوئی مہم جوئیانہ فیصلہ نہیں کریں گے مگر شاید اس ایشو سے مکمل اتفاق کرنا بھی ان کیلئے مشکل ہوگا ۔نواز شریف کو اس نظام میں اپنے وزیراعظم بھائی کی وجہ سے اتنامقام تو حاصل ہے کہ ان کی بات کو غور سے سنا جائے گا اور اسے مکمل طور پر رد کرنا بھی آسان نہ ہوگا ۔حکومت سے باہر اپوزیشن میں دو اور سیاسی فریق بھی نئے صوبوں کے حوالے سے اہم ہیں قیدی نمبر 804 کے حامیوں کیلئے حکومتی اتحادیوں اور مقتدرہ میں ہلکی سی دراڑ بھی خوشی کی خبر بن جاتی ہے، تحریک انصاف روایتاً نئے صوبوں کی حامی رہی ہے اور اگر وہ اس نازک موقع پر، اس ایشو پر مقتدرہ کے ساتھ ہو جائے تو اس سے اتحادی جماعتیں کمزور پڑ جائیں گی اور تحریک انصاف اور اس کے سربراہ کیلئے رستے کھلنا شروع ہو جاسکتے ہیں بظاہر اس معاملے میں ’’ڈھیل‘‘ فیصلہ کن کردار ادا کر سکتی ہے لیکن اصل مسئلہ تو یہ ہے کہ قیدی نمبر 804کو اسپتال لیجانے یامعمولی سہولتیں دیکر معاملہ حل ہو جائے تو ہو جائے، عمران خان کو رہائی یا سیاست کرنے کا بڑا ریلیف دینے کا سرے سے کوئی امکان نظر نہیں آتا ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ عمران کیلئے غیر معمولی رعایت پورے موجودہ نظام کے زوال کا سبب بن سکتی ہے۔ نئے صوبے بنانے کی خاطرنظام خود اپنے لئے خطرہ پیدا کرنا نہیں چاہے گا ،اس کا مطلب ہوا کہ عمران خان کو نئے صوبوں کے بدلے ٹافی تو مل سکتی ہےشاندار لنچ یا ڈنر نہیں۔ سوال یہ ہو گا کہ کیا تحریک انصاف مجبوراً یہ کمزور ڈیل قبول کرلے گی یا پھر وہ میں نہ مانوں والی مزاحمت پر کاربند رہ کر کسی اچھے وقت کا انتظار کرے گی۔
مذہبی اور پارلیمانی سیاست میں مولانا فضل الرحمٰن کا نام اہم ہے وہ بھی فی الوقت نئے صوبوں کے قیام کے حامی نہیں ہیں۔ بظاہر اہل سیاست میں سے اکثر ہچکچاہٹ اور گریز کا ردّعمل دے رہے ہیں جبکہ مقتدرہ کی طرف سے ترجیح اور تعجیل کے سگنل موصول ہو رہے ہیں، اہل سیاست حکمت سے اسے التوا اور تاخیر کی طرف لے جانا چاہتے ہیں۔ صورتحال کچھ ایسی بن گئی ہے کہ نونی لاکھ یہ کہتے رہیں کہ سب ٹھیک ہے اس لفظی افیون سے وقتی تسّلی تو دی جاسکتی ہے۔ مگر جب دھواں اٹھنا شروع ہو جائے تو پھر ا س کی چنگاری کو بجھائےستّے خیر نہیں ہوتی۔
ملک کی ہر سیاسی محفل میں اس وقت ایک ہی موضوع زیر بحث ہے اوروہ نئے صوبوں کے قیام کا ہے۔ سندھ کے ماضی قریب کی سیاست میں کالا باغ ڈیم کی تعمیر اورچھ نہروں کے قیام پر جو شدید ردّعمل آیا تھا اسی طرح کا ردّعمل کراچی اور سندھ کو الگ کرنے کی تجویز پر آرہا ہے ،کالا باغ ڈیم اور چھ نہروں پر دبائو کے باوجود ان منصوبوں کو منسوخ کرنا پڑا تھالیکن اسی سال بجٹ کے دوران صلح صفائی اور بات چیت سے پنجاب کیساتھ ساتھ سندھ نے بھی اپنے ترقیاتی بجٹ کا خاطر خواہ حصہ رضا مندی سے وفاق کے حوالے کر دیا۔حالانکہ ماضی کے رویے اس طرز عمل کے برعکس رہے تھے ،جب پیار سے بات کی گئی ،صوبوں کے تحفظات اور ترجیحات پرتفصیلی مکالمہ ہوا تو سندھ اور پنجاب دونوںنے بےچون و چرا وہ کر دیا جسکی ان سے توقع تک نہ تھی۔ زور زبردستی سے نازک اور حساس معاملات حل نہیں ہوتےبلکہ بگڑ جاتے ہیں۔
موجودہ نظام جس میں ریاست اور سیاست مل کر چل رہے ہیں اس کی مثال ایک دیوار کی سی ہے، دیوار کی ہر اینٹ دوسری اینٹ کو تقویت دیتی ہے لیکن اگر ایک اینٹ دیوار سے نکال لی جائے تو ساری دیوار کھوکھلی ہو جاتی ہےاور ذرا سے دھکّے سے اسے گرانا آسان ہو جاتا ہے۔ اندیشہ ہے کہ ایک دوسرے کو بھگتانے میں کہیں سارے کے سارےہی نہ بھگت جائیں۔یادیہ رکھنا چاہئے کہ اندرونی اختلافات ہی نظام کے بھگتائو کو جنم دیتے ہیں۔
