مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی صورت حال سنگین ہے : صدر اور وزیر اعظم

یوم یکجہتی کشمیر کےموقع پر صدر مملکت آصف علی زرداری اور وزیر اعظم شہباز شریف نے اپنے اپنے پیغامات جاری کر دیے۔
صدر مملکت آصف علی زرداری اور وزیر اعظم شہباز شریف نے یوم یکجہتی کشمیر کےموقع پر مظلوم کشمیریوں کے عزم و استقلال پر انہیں زبردست خراج تحسین پیش کیا ہے اور کشمیریوں کےحق خودارادیت کی منصفانہ جدوجہد کےلیے اپنی مکمل اخلاقی،سفارتی اور سیاسی حمایت جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیاہے۔
صدر مملکت آصف علی زرداری نے ریاستی دہشت گردی اور جبر کےسامنے کشمیری عوام کے عزم و استقلال کو زبردست خراج تحسین پیش کرتےہوئے کہا ہےکہ کشمیریوں کے حق خودارادیت کی منصفانہ جدوجہد کےلیے اپنی مکمل اخلاقی،سفارتی اور سیاسی حمایت جاری رکھیں گے۔
اپنے پیغام میں صدر مملکت نے کہاکہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی صورت حال سنگین ہے،بھارتی اقدامات کشمیری عوام کےحق خودارادیت کے انمٹ جذبےکو دبا نہیں سکتے،تنازع جموں و کشمیر سب سےپرانے حل طلب بین الاقوامی تنازعات میں سے ایک ہے۔
صدر آصف زرداری نے کہاکہ کسی بھی قسم کا ظلم کشمیریوں کےعزم کو متزلزل اور ان کی جائز جدوجہد کو کمزور نہیں کر سکتا،اقوام متحدہ کشمیریوں سے 77 سال قبل کیے گئے وعدوں کا احترام کرے ۔
صدر مملکت نےکہاکہ پاکستان ہمیشہ اپنے کشمیری بھائیوں اور بہنوں کےساتھ کھڑا رہےگا، مقبوضہ جموں و کشمیر میں 5 اگست 2019ءکے بھارتی غیرقانونی اور یک طرفہ اقدامات کے بعد صورت حال مزید خراب ہوئی،بھارتی اقدامات کا مقصد کشمیریوں کو ان کی اپنی ہی سر زمین میں ایک بےاختیار کمیونٹی میں بدلنا ہے۔
وزیر اعظم محمد شہباز شریف نےاپنے پیغام میں کہاکہ پاکستان اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق کشمیری عوام کے حق خود ارادیت کے حصول تک ان کی غیر متزلزل اخلاقی،سفارتی اور سیاسی حمایت جاری رکھےگا۔
وزیر اعظم نے کہاکہ حکومت پاکستان اور عوام ہر سال یوم یکجہتی کشمیر مناتےہیں تاکہ کشمیری عوام کےحق خود ارادیت کے حصول کےلیے ان کی منصفانہ اور جائز جدوجہد کی مستقل حمایت کی تجدید کی جاسکے۔
انہوں نےکہاکہ حق خود ارادیت بین الاقوامی قانون کا ایک بنیادی اصول ہے۔ہر سال،اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی ایک قرارداد منظور کرتی ہےجس میں لوگوں کو اپنے مستقبل کے فیصلےخود کرنےکے قانونی حق پر زور دیا جاتا ہے۔
پاکستان سمیت دنیا بھرمیں یومِ یکجہتیٔ کشمیر منایا جارہا ہے
وزیر اعظم نےاس امر پر افسوس کا اظہار کیاکہ کشمیری عوام 78 سال گزرنے کے باوجود اس ناقابل تنسیخ حق کو استعمال نہیں کرسکے۔ وزیر اعظم نے کہاکہ بھارت کے غیرقانونی زیر تسلط جموں و کشمیر دنیا کے سب سےبڑے قابض فوجی علاقوں میں سے ایک ہے۔کشمیری خوف اور دہشت کےماحول میں جی رہے ہیں۔ سیاسی کارکنوں اور انسانی حقوق کےمحافظوں کو طویل حراست میں رکھا جارہا ہے اور ان کی جائیدادیں ضبط کی جارہی ہیں۔
