2026کے اختتام سے پہلے ٹیم قوم کو فتوحات کا تحفہ دے گی: بیٹر فخر زمان

قومی کرکٹ ٹیم کے اوپنر بیٹر فخر زمان نے امید ظاہر کی ہے کہ 2026 کے اختتام سے قبل پاکستان کرکٹ ٹیم شاندار فتوحات حاصل کر کے قوم کو خوشخبری دے گی۔
نیشنل کرکٹ اکیڈمی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے فخر زمان نے کہا کہ گزشتہ دو سے تین ماہ سے جاری تربیتی کیمپ سے تمام کھلاڑیوں کو فائدہ پہنچا ہے۔ کیمپ کے دوران کھلاڑیوں کو اپنی خامیوں پر کام کرنے کا موقع ملا، جبکہ کئی ایسے نوجوان بھی سامنے آئے جو اس سے قبل سلیکشن کمیٹی اور ٹیم مینجمنٹ کی توجہ میں نہیں تھے۔
انہوں نے کہا کہ جب ٹیم کامیاب نہیں ہوتی تو تنقید ہوتی ہے، لیکن فتوحات کی صورت میں معمولی غلطیاں بھی نظر انداز ہو جاتی ہیں۔ فخر زمان کا کہنا تھا کہ پاکستان کے پاس اب بھی فاسٹ باؤلنگ میں باصلاحیت کھلاڑی موجود ہیں اور آئندہ شائقین کو قومی ٹیم کی بہتر کرکٹ دیکھنے کو ملے گی۔
اپنی فٹنس کے حوالے سے انہوں نے بتایا کہ وہ مکمل طور پر صحت یاب ہو چکے ہیں اور بیٹنگ کی پریکٹس بھی دوبارہ شروع کر دی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اچھا یا برا کھیلنا کھلاڑی کی اپنی ذمہ داری ہوتی ہے، اس کا الزام بورڈ یا ٹیم مینجمنٹ پر عائد نہیں کیا جا سکتا، جبکہ ہر کھلاڑی کی کوشش ہوتی ہے کہ وہ بہترین کارکردگی دکھائے۔
فخر زمان نے کہا کہ بعض اوقات کرکٹرز پی ایس ایل کے صرف ایک یا دو میچ کھیلنے کے بعد قومی ٹیم میں شامل ہو جاتے ہیں، تاہم ان کے خیال میں نوجوان کھلاڑیوں کو جلد بازی میں بین الاقوامی کرکٹ میں نہیں لانا چاہیے کیونکہ لیگ کرکٹ اور انٹرنیشنل کرکٹ کے تقاضے مختلف ہوتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر کسی نوجوان میں صلاحیت موجود ہے تو اسے ضرور موقع ملنا چاہیے، لیکن مناسب تیاری بھی ضروری ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ قومی ٹیم میں نوجوان اور سینئر کھلاڑیوں کا امتزاج ہونا چاہیے، کیونکہ صرف نوجوانوں پر انحصار کرنا درست حکمت عملی نہیں۔ ان کے مطابق پاکستان کے لیے کھیلنا ہی سب سے بڑی ترغیب ہے، جبکہ ڈومیسٹک اور بین الاقوامی کرکٹ کے فرق کو کم کرنے کے لیے تربیتی کیمپس اور پاکستان اے ٹیم کا کردار انتہائی اہم ہے۔
دمبولا: پہلا ٹی ٹوئنٹی، سری لنکا نے پاکستان ویمن کو 6 وکٹوں سے شکست دےدی
بیٹنگ پوزیشن سے متعلق سوال پر فخر زمان نے کہا کہ اس حوالے سے ان کی ٹیم مینجمنٹ سے بات چیت ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہر کھلاڑی اپنی پسندیدہ پوزیشن پر کھیلنا چاہتا ہے، تاہم جہاں ٹیم کو ان کی ضرورت ہوگی وہ وہاں کھیلنے کے لیے تیار ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ان کی نظریں 2027 کے ورلڈ کپ پر مرکوز ہیں اور وہ اسی ہدف کے تحت اپنی تیاری جاری رکھے ہوئے ہیں۔
