ابھی تو بہت کچھ ہونا باقی ہے

تحریر: رؤف کلاسرا
بشکریہ: روزنامہ دنیا
آج کل مریم نواز صاحبہ کی بیٹی کی شادی کا معاملہ زیرِ بحث ہے۔ یہ فطری سی بات ہے کہ حکمرانوں کی شادیاں عوام میں بہت دلچسپی پیدا کرتی ہیں۔ اگرچہ ہمارے ہاں برطانیہ‘ جاپان یا ناروے کی طرح شاہی خاندان تو نہیں ہیں لیکن حکمران بھی کوشش کرتے ہیں کہ ان مواقع کو استعمال کیا جائے تاکہ وہ رنگ اور تام جھام نظر آئے اور عوام ان شادیوں کو ویسے ہی حسرت سے یاد رکھیں جیسے لیڈی ڈیانا اور شہزادہ چارلس کی شادی تھی۔ بہت کم ارب پتی یا بڑے سیاسی گھرانے ہوتے ہیں جو ایسے مواقع پر سادگی کو ترجیح دیتے ہیں۔ ویسے تو دنیا میں ایسے لوگ بھی پائے جاتے ہیں جنہوں نے بادشاہت تک چھوڑ دی کہ ہم اپنی پسند کی عورت کے ساتھ ایک سادہ اور عام زندگی گزارنا زیادہ بہتر سمجھتے ہیں۔ اورایسے بے نیاز لوگ بھی دنیا میں گزرے ہیں جنہیں ادب کے نوبیل پرائز کیلئے فون کر کے بتایا گیا تو لینے سے انکاری ہوگئے کہ ہم نے اس انعام کا کیا کرنا ہے۔ ایک تو ایسے ادیب بھی تھے جنہوں نے ناروے جا کر نوبیل پرائز لینے سے انکار کر دیا کہ فلاں جگہ ہر رات میں چاندنی میں گزارتا ہوں‘ اس انعام کی خاطر میں وہ رات کا منظر نہیں چھوڑ سکتا۔ ایک ہمارے ہاں کا طبقہ ہے کہ جو ریاستی ایوارڈ لینے کیلئے نیچے گرتا ہی چلا جاتا ہے۔ اپنے اپنے ظرف اور اپنی اپنی سمجھ کی بات ہے۔
مان لیا کہ والدین کی اپنی خوشیاں ہوتی ہیں‘ ان کے پاس دولت بھی ہے اور خرچ کرنے کا حوصلہ بھی لیکن والدین کو ایک طرف رکھ کر میرے ذہن میں یہ بات آرہی ہے کہ یہ بچے لندن‘ نیویارک اور یورپ میں پڑھتے ہیں‘ وہیں پر رہتے ہیں‘ کیا وہاں کا ماحول ان پر کوئی اثر نہیں کرتا؟ کیا انہیں یورپین اندازِ زندگی‘ سادگی‘ سب کام اپنے ہاتھ سے کرنے کی عادت اور محنت متاثر نہیں کرتی کہ وہ اپنے ملک لوٹ کر کم از کم یہ چیزیں خود پر اپلائی کریں۔ ہمارے ہاں کی دیسی ایلیٹ اور ولایتی ایلیٹ کی سوچ میں اتنا فرق کیوں ہے؟ یہاں بچوں کو شروع سے ہی یہ تربیت دی جاتی ہے کہ وہ غیرمعمولی انسان ہیں۔ وہ حکمرانی کرنے کے لیے پیدا ہوئے ہیں۔ ان کا رہن سہن اور سوچ اسی کے زیرِ اثر پروان چڑھتی ہے۔ لہٰذا وہ یورپ میں رہ کربھی وہی شاہانہ مزاج رکھتے ہیں۔ میں تو سوچتا ہوں کہ بچوں کو چاہیے تھا کہ وہ منع کر دیتے کہ انہیں اس پیمانے پر نمود و نمائش نہیں چاہیے۔ اس لیے جب وفاقی وزیر احسن اقبال ٹویٹ کرتے ہیں اور بغیر کسی کا نام لیے تنقید کرتے ہیں تو اس سے سیاسی طوفان اُٹھ کھڑا ہونا فطری بات ہے۔ اگرچہ یہ حیران کن ضرور ہے کہ اب تک کسی وزیر نے اپنی پارٹی کو اس طرح سادگی اپنانے کا مشورہ نہیں دیابلکہ سوچا بھی نہیں ہوگا۔ اگرچہ احسن اقبال اس ٹویٹ سے جڑی سیاسی گپ شپ کو مسترد کر رہے ہیں لیکن کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ وہ ناخوش ہیں۔ جس طرح پچھلے ڈھائی برسوں سے شہباز شریف کی حکومت چل رہی ہے‘ بہت سے وزیر ناخوش ہیں۔ اب تک اس حکومت کا سارا زور بیرونِ ملک سفر پر رہا ہے۔ ملک کے اندرونی حالات پر توجہ کم ہی رہی ہے۔ یہاں سے اندازہ لگا لیں کہ وزیراعظم پچھلا پورا ایک سال ایوان میں نہیں آئے جبکہ عمران خان دور میں جب وہ قید میں تھے تو ہر اجلاس کے لیے پروڈکشن آرڈرز نکلوا کر دو دو گھنٹے تقریریں کیا کرتے تھے۔ اور جب وہ وزیراعظم بن گئے اور پھر پورا سال وہ ایوان سے دور ہی رہے۔ ان کی حکومت نے جس طرح اپنے اختیارات سرنڈر کیے ہیں اس سے ان کی پارٹی کے اندر ایک مایوسی در آئی ہے کہ اب اتنا بھی کیا کمپرومائز کرنا۔ کیا اب سیاست ختم ہوگئی ہے اور ہم ساری عمر سلیکشن کے بہانے ہی اقتدار میں آیا کریں گے! جو فتح اور جیت کا نشہ اور غرور تھا وہ اب ختم ہوگیا۔ اب آپ الیکشن ہار کر سوئیں تو اگلی صبح آپ جیتے ہوئے ہوں گے۔ جیتنے والے ہر امیدوار کے اندر جوفطری خوشی اور اونرشپ کا احساس ہوتا ہے وہ آپ کو یہاں نظر نہیں آتا۔ اس لیے اس حکومت میں سب سے زیادہ کورم کا مسئلہ پیدا ہورہا ہے حالانکہ ممبران کی تنخواہیں بڑھائی گئی ہیں‘ الاؤنس بڑھائے گئے ہیں‘ سیشن الاؤنس اور کمیٹیوں کے الاؤنس بڑھا کر تنخواہ دس بارہ لاکھ تک لے گئے ہیں لیکن وہ اونرشپ کہیں نظر نہیں آرہی جو کسی الیکٹڈ اسمبلی میں ہونی چاہیے۔ اوپر سے شہباز شریف صاحب نے شاید یہ طے کر لیا ہے کہ وہ بھلے وزیراعظم ہیں لیکن انہوں نے کہیں سے یہ احساس نہیں ہونے دینا ۔ اگرچہ وہ اس کو اپنی کامیابی سمجھ رہے ہیں کہ ڈھائی سال بغیر کسی پھڈے کے گزار چکے ہیں اور باقی کا عرصہ بھی اسی طرح گزار کر نیا ریکارڈ قائم کر لیں گے۔ جس طرح وہ پانچ سال پورے کرنا چاہ رہے ہیں‘ کیا اس کے بعد ان کی سیاست اور ہماری جمہوریت بچ جائے گی؟ کیا مسلم لیگ(ن) عوام میں جا کر ووٹ لے سکے گی یا پھر وہی امید رکھے گی کہ رات کو ان کے ہارے ہوئے امیدوار صبح کو جیت جائیں۔
جب سے وزیرداخلہ نے شہباز شریف اور مریم نواز کا پرفارمنس آڈٹ کیا ہے‘ اس کے بعد وفاقی وزیروں میں مایوسی اور غیریقینی بڑھی ہے۔ ان کا خیال تھا کہ اس پارٹی نے پرویز مشرف کے دور میں سخت ترین مشکلات دیکھیں لیکن پھر بھی ڈٹے رہے اور جھکے نہیں۔ لیکن اب جس طرح ایک وزیر نے سرعام اپنے ہی وزیراعظم کی کارکردگی کا پوسٹ مارٹم کیا اور وہ سب چپ رہے‘ اس سے پارٹی کے اعتماد اور قد کاٹھ کو شدید نقصان پہنچا ہے۔ پارٹی کے اندر خوداعتمادی کا بحران ہے اور میرے ذرائع یہ بتا رہے ہیں کہ سات سے آٹھ ایسے وزیر ہیں جو ابھی سے ادھر ادھر دیکھنا شروع ہوگئے ہیں۔ انہیں لگتا ہے کہ موجودہ سسٹم شاید زیادہ دیر نہ چل سکے‘ لہٰذا کچھ نے ابھی سے خود کو مستقبل کے سیٹ اَپ کے ساتھ جوڑنے کے لیے کچھ نہ کچھ سرگرمیاں شروع کر دی ہیں۔ انہیں لگتا ہے کہ نواز شریف صاحب کی سیاست کا محور ان کی صاحبزادی ہیں اور اب وہ اس سے ہٹ کر کچھ سوچنے یا کرنے کو تیار نہیں۔ ان کا اگلا ہدف مریم نواز کو وزیراعظم بنوانا ہے۔ یہی کوشش آصف زرداری بلاول بھٹو کے لیے کررہے ہیں۔ لیکن (ن) لیگ کے کچھ اندرونی ذرائع کا کہنا ہے کہ اگر آپ عوامی سطح پر اپنی حمایت اس طرح کھو بیٹھیں‘ جیسے موجودہ صورتحال ہے تو آپ کے وہ طاقتور دوست بھی آپ کو وزیراعظم نہیں بنوا سکیں گے جن پر آپ تکیہ کر کے بیٹھے ہیں۔ سیاستدانوں نے 2008ء سے 2017ء تک کچھ سپیس لی تھی اور مقتدرہ بڑی حد تک پیچھے ہٹ گئی تھی اب وہ سپیس دوبارہ مقتدرہ نے لے لی ہے۔ بلکہ یوں کہیں کہ شہباز شریف نے بخوشی سب کچھ ان کی جھولی میں ڈال دیا اور وہ سب بھی ڈال دیا ہے جو انہوں نے شاید مانگا بھی نہیں تھا۔
میری مسلم لیگ (ن) کے ایک پرانے دوست سے ملاقات ہوئی‘ وہ خاصے مایوس تھے۔ میں نے پوچھا‘ کہاں آپ کی پارٹی نے مزاحمت کر کے ایک مقام بنا لیا تھا اور اب کہاں پہنچ گئی ہے۔ ایسا تو عمران خان کے دور میں بھی نہیں تھا‘ جنہیں سب کہتے تھے کہ حکومت جنرل باجوہ اور جنرل فیض حمید چلا رہے ہیں۔ وہ کچھ دیر چپ رہے اور پھر مسکرا کر کہا: بس دیکھتے جائیں ابھی تو بہت کچھ ہونا باقی ہے۔ انہوں نے جس لہجے میں کہا کہ ”ابھی بہت کچھ ہونا باقی ہے‘‘ اسے سُن کر ایک لمحے کے لیے میں بھی سُن ہوگیا کہ ابھی اور کیا دیکھنا باقی ہے۔
