کیا واقعی پاکستان میں ایک بار پھر لاک ڈاؤن لگنے والا ہے؟

پاکستان میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کا سلسلہ ایک مرتبہ پھر شدت اختیار کر گیا ہے۔ حکومت نے پٹرول کی قیمت میں 4.10 روپے اور ڈیزل کی قیمت میں 6.41 روپے فی لیٹر اضافہ کر دیا، جس کے بعد پٹرول 384.34 روپے جبکہ ڈیزل 415.83 روپے فی لیٹر تک پہنچ گیا ہے۔ مسلسل بڑھتی قیمتوں کے اثرات سے عام شہری، ٹرانسپورٹ، کاروبار اور مجموعی معیشت پہلے ہی دباؤ کا شکار ہیں، ایسے میں حکومت نے ایندھن کے استعمال میں کمی اور پٹرول کی بچت کے لیے ملک میں ممکنہ ’’پٹرولیم سمارٹ لاک ڈاؤن‘‘ پر مشاورت شروع کر دی ہے۔

وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت اجلاس میں پٹرولیم مصنوعات کی بڑھتی قیمتوں اور ایندھن کے استعمال کو محدود کرنے کے لیے مختلف تجاویز کا جائزہ لیا گیا۔ زیر غور تجاویز میں ہفتے میں 3 دن تعطیل، سرکاری و نجی دفاتر میں 4 دن کام، جمعہ، ہفتہ اور اتوار کو چھٹی، بازاروں کی 3 روزہ بندش اور کاروباری اوقات کار میں کمی جیسے اقدامات شامل ہیں۔ مقصد یہ بتایا جا رہا ہے کہ غیر ضروری نقل و حرکت کم کی جائے، پٹرول کی کھپت گھٹائی جائے اور توانائی کے استعمال کو محدود کیا جا سکے۔

ذرائع کے مطابق سرکاری ملازمین کو مختلف دنوں میں روٹیشن کے ذریعے کام کرنے کا فارمولا بھی زیر غور ہے، جبکہ سرکاری اداروں کی تقریباً 50 فیصد گاڑیوں کو گراؤنڈ کرنے کی تجویز بھی سامنے آئی ہے۔ اس کے ذریعے سرکاری شعبے میں ایندھن کے استعمال کو کم کرنے کی کوشش کی جائے گی۔ تاہم ان تجاویز کو حتمی فیصلہ قرار نہیں دیا گیا اور متعلقہ وزارتوں اور اداروں سے مزید رائے لینے کے بعد جامع رپورٹ وزیراعظم کو پیش کیے جانے کا امکان ہے۔

اگر سمارٹ لاک ڈاؤن کی تجویز عملی شکل اختیار کرتی ہے تو اس کے اثرات صرف سرکاری دفاتر تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ کاروباری سرگرمیوں، بازاروں، نجی اداروں، ٹرانسپورٹ اور شہریوں کے روزمرہ معمولات پر بھی پڑ سکتے ہیں۔ حکومت کے سامنے بنیادی چیلنج یہ ہوگا کہ ایندھن کی بچت اور درآمدی دباؤ کم کرنے کے ساتھ ساتھ معاشی سرگرمیوں کو غیر ضروری طور پر متاثر ہونے سے کیسے بچایا جائے۔

دوسری جانب وفاقی وزیر موسمیاتی تبدیلی ڈاکٹر مصدق ملک نے حکومت کی جانب سے عوام کو پٹرول پر 100 روپے فی لیٹر ریلیف دینے کا مؤقف پیش کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ حکومت نے ملکی معیشت کی برداشت کے مطابق زیادہ سے زیادہ ریلیف دینے کی کوشش کی ہے اور اس سے زیادہ بوجھ اٹھانا معیشت کے لیے مشکل ہوگا۔ انہوں نے یہ بھی تسلیم کیا کہ موجودہ صورتحال میں عوام کو دیا جانے والا ریلیف ناکافی محسوس ہو سکتا ہے، تاہم ان کے مطابق حکومت اس سے زیادہ مالی بوجھ برداشت کرنے کی پوزیشن میں نہیں۔

مصدق ملک کے مطابق پٹرولیم مصنوعات کی عالمی قیمتوں میں اضافے کے باعث پاکستان میں بھی پٹرول مہنگا ہوا اور حکومت نے موجودہ معاشی حالات کو سامنے رکھتے ہوئے عوام کو زیادہ سے زیادہ سہولت دینے کی کوشش کی۔ انہوں نے کہا کہ پٹرول کی قیمت میں اضافے سے عام آدمی بالخصوص دیہاڑی دار طبقہ متاثر ہوتا ہے، اسی لیے حکومت کی فیول ریلیف سکیم میں کم آمدنی والے طبقے کو ترجیح دی گئی ہے۔

وفاقی وزیر کے مطابق پٹرول پر اس وقت 80 روپے لیوی اور 5 روپے کاربن ٹیکس عائد ہے، تاہم حکومت کی جانب سے عوام کو 100 روپے کا ریلیف دیا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان خطے میں جاری جنگ رکوانے کے لیے اپنی سطح پر کوششیں کر رہا ہے اور سیاسی و عسکری قیادت امن کے لیے اقدامات کر رہی ہے۔ ان کے مطابق جنگ کے خاتمے سے نہ صرف خطے بلکہ دنیا کے غریب طبقات پر بھی معاشی بوجھ کم ہو سکتا ہے۔

تاہم حکومت کے اندر ہی سمارٹ لاک ڈاؤن کے حوالے سے مختلف وضاحتیں بھی سامنے آئی ہیں۔ پارلیمانی امور کے وفاقی وزیر ڈاکٹر طارق فضل چودھری نے کہا ہے کہ ڈپٹی وزیراعظم اسحاق ڈار کی زیر صدارت ہونے والے اجلاس میں سمارٹ لاک ڈاؤن کی کوئی تجویز زیر بحث نہیں آئی۔ ان کے مطابق اجلاس میں پٹرولیم مصنوعات سے متعلق معاملات پر غور کیا گیا۔

اس وضاحت کے بعد یہ سوال مزید اہم ہوگیا ہے کہ ہفتے میں 3 روز تعطیلات، بازاروں کی بندش، اوقات کار میں کمی اور سرکاری گاڑیوں کو گراؤنڈ کرنے کی تجاویز حکومت کی حتمی پالیسی کا حصہ بنتی ہیں یا محض ابتدائی سطح پر زیر غور آنے والی تجاویز تک محدود رہتی ہیں۔ حتمی فیصلہ وزیراعظم کی زیر صدارت مشاورت اور متعلقہ اداروں کی سفارشات کے بعد ہی سامنے آئے گا۔

پٹرول اور ڈیزل کی نئی قیمتوں کا براہ راست اثر صرف گاڑی چلانے والوں تک محدود نہیں رہتا۔ ایندھن مہنگا ہونے سے پبلک ٹرانسپورٹ، مال برداری، زرعی سرگرمیوں، اشیائے خورونوش کی ترسیل اور کاروباری لاگت میں اضافہ ہو سکتا ہے، جس کے نتیجے میں مہنگائی کا دباؤ مزید بڑھنے کا خدشہ پیدا ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ حکومت ایک طرف ریلیف دینے کی کوشش کر رہی ہے تو دوسری طرف پٹرول کی مجموعی کھپت کم کرنے کے لیے مختلف انتظامی اقدامات پر غور کر رہی ہے۔

اس صورتحال میں حکومت کے لیے سب سے بڑا امتحان توازن قائم کرنا ہے۔ ایک طرف عالمی منڈی اور علاقائی حالات کے باعث پٹرولیم قیمتوں کا دباؤ ہے، دوسری جانب ملکی معیشت کی محدود گنجائش حکومت کو بڑے پیمانے پر سبسڈی دینے سے روکتی ہے۔ عوام کو فوری ریلیف درکار ہے جبکہ حکومت کے مطابق قومی خزانے اور معیشت پر اس سے زیادہ بوجھ ڈالنا ممکن نہیں۔

یوں پٹرول کی قیمت میں تازہ اضافہ اور سمارٹ لاک ڈاؤن کی زیر غور تجاویز پاکستان کے موجودہ توانائی اور معاشی دباؤ کی شدت کو ظاہر کرتی ہیں۔ آنے والے دنوں میں حکومت کا اصل فیصلہ یہ ہوگا کہ ایندھن کی کھپت کم کرنے کے لیے کون سے اقدامات اختیار کیے جاتے ہیں، عوام کو ریلیف کس طریقے سے پہنچایا جاتا ہے اور بڑھتی پٹرولیم قیمتوں کے اثرات کو عام آدمی اور کاروباری سرگرمیوں تک منتقل ہونے سے کس حد تک روکا جا سکتا ہے۔

Back to top button