سیاسی جماعتیں نئے صوبوں کے قیام سے اتنی خوفزدہ کیوں؟

پاکستان میں نئے صوبوں کے قیام کی بحث ایک مرتبہ پھر اہم سیاسی اور انتظامی مسئلے کے طور پر سامنے آ گئی ہے۔ ملک کو درپیش گورننس کے بحران، بڑھتے ہوئے عوامی مسائل اور اختیارات کے چند بڑے شہروں تک محدود رہنے نے یہ سوال مزید اہم بنا دیا ہے کہ کیا موجودہ انتظامی ڈھانچہ آج کی آبادی، معاشی ضروریات اور شہری مسائل سے نمٹنے کی صلاحیت رکھتا ہے؟ مختلف حلقوں کی جانب سے نئے صوبوں یا نئے انتظامی یونٹس کے قیام کی بات کی جا رہی ہے، تاہم سیاسی جماعتوں کے لیے یہ معاملہ اب بھی ایک حساس اور پیچیدہ سوال بنا ہوا ہے۔
نئے صوبوں کا معاملہ محض علاقائی، لسانی یا سیاسی تقسیم کا مسئلہ نہیں ہونا چاہیے بلکہ اسے ریاستی نظام، انتظامی کارکردگی اور بہتر حکمرانی کے وسیع تر تناظر میں دیکھنے کی ضرورت ہے۔ اگر موجودہ نظام عوام کو بروقت اور مؤثر سہولتیں فراہم کرنے میں ناکام ہو رہا ہے، تو اس کے اسباب کا جائزہ لینا اور انتظامی ڈھانچے میں ضروری اصلاحات کرنا ایک سنجیدہ قومی ضرورت بن جاتا ہے۔ گورننس کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ ریاستی ادارے عوام کے مسائل ان کی دہلیز تک حل کریں، حکومت جوابدہ ہو اور وسائل کی تقسیم منصفانہ اور مؤثر انداز میں ہو۔
پاکستان میں گورننس کے کمزور ہونے کی ایک بڑی وجہ بڑے انتظامی یونٹس کے ساتھ ساتھ مضبوط بلدیاتی نظام کا فقدان بھی ہے۔ دنیا کے مختلف جمہوری ممالک میں مقامی حکومتیں عوام اور ریاست کے درمیان براہ راست رابطے کا کردار ادا کرتی ہیں۔ سڑک، صفائی، پانی، مقامی صحت، تعلیم، شہری منصوبہ بندی اور دیگر بنیادی معاملات بڑی حد تک مقامی سطح پر بہتر طریقے سے حل کیے جا سکتے ہیں، لیکن پاکستان میں بلدیاتی ادارے اکثر سیاسی اور انتظامی ترجیحات کے درمیان اپنا مؤثر کردار ادا نہیں کر پاتے۔
ملک کی سیاسی تاریخ میں تقریباً ہر بڑی جماعت نے اپنے منشور میں بلدیاتی نظام کو مضبوط بنانے اور اختیارات نچلی سطح تک منتقل کرنے کا وعدہ کیا، لیکن اقتدار میں آنے کے بعد صورت حال اکثر مختلف دکھائی دی۔ بلدیاتی انتخابات ہوئے بھی تو مقامی اداروں کو مطلوبہ اختیارات اور مالی وسائل دینے کے معاملے میں پیش رفت محدود رہی۔ نتیجتاً جمہوری عمل بڑی حد تک قومی اور صوبائی اسمبلیوں تک محدود رہا جبکہ عام شہری کے روزمرہ مسائل کا تعلق جس مقامی حکومت سے ہونا چاہیے تھا، وہ مؤثر انداز میں اپنا کردار ادا نہ کر سکی۔
18ویں آئینی ترمیم کے بعد صوبائی خودمختاری میں نمایاں اضافہ ہوا اور صوبوں کو مزید اختیارات اور وسائل منتقل ہوئے، لیکن اس کے ساتھ ایک اہم سوال یہ بھی پیدا ہوا کہ صوبائی سطح پر حاصل ہونے والے اختیارات اور وسائل کس حد تک مقامی حکومتوں تک منتقل کیے گئے۔ اگر اختیارات وفاق سے صوبوں تک تو پہنچ جائیں لیکن صوبائی دارالحکومتوں سے اضلاع اور مقامی حکومتوں تک منتقل نہ ہوں تو اختیارات کا ارتکاز صرف ایک سطح سے دوسری سطح تک منتقل ہوتا ہے، عوام تک نہیں پہنچتا۔
یہی وجہ ہے کہ نئے صوبوں کے قیام کی بحث میں گورننس کا پہلو مرکزی حیثیت اختیار کر رہا ہے۔ چار بڑے صوبائی دارالحکومتوں میں انتظامی، سیاسی اور مالی اختیارات کا ارتکاز ملک کے وسیع رقبے، بڑی آبادی اور مختلف نوعیت کے علاقائی مسائل کے مقابلے میں ایک بڑا انتظامی چیلنج ہے۔ بڑے صوبوں کے دور دراز علاقوں کے شہری اکثر یہ شکایت کرتے ہیں کہ فیصلہ سازی اور وسائل کی تقسیم ان کی ضروریات سے ہم آہنگ نہیں، جبکہ صوبائی دارالحکومتوں سے دور علاقوں کے مسائل پر فوری توجہ نہیں دی جاتی۔
موجودہ سیاسی صورتحال میں مختلف جماعتوں کے رویے بھی اس بحث کو مزید اہم بنا رہے ہیں۔ پاکستان پیپلز پارٹی نے سندھ اسمبلی میں نئے صوبوں کے قیام کے خلاف قرارداد منظور کر کے اپنا واضح سیاسی مؤقف سامنے رکھا ہے۔ دوسری جانب مسلم لیگ ن نے نئے صوبوں کے معاملے پر کھلی مخالفت کا مؤقف اختیار نہیں کیا، تاہم پنجاب کی سیاسی اہمیت اور موجودہ انتظامی ڈھانچے کے حوالے سے اس کی پالیسی کو بھی سیاسی بحث کا حصہ بنایا جا رہا ہے۔ تحریک انصاف کے اندر بھی نئے صوبوں کے قیام کے حوالے سے مختلف آرا موجود رہی ہیں اور اس معاملے پر اس کا موجودہ سیاسی مؤقف بھی بحث کا موضوع ہے۔
حکومت کی جانب سے وفاقی وزیر طارق فضل چودھری سمیت دیگر ذمہ داران نے پارلیمنٹ میں نئے صوبوں کے معاملے پر اکتوبر میں بحث ہونے کا عندیہ دیا ہے۔ اگر یہ بحث آگے بڑھتی ہے تو اس کا اہم ترین پہلو یہ ہوگا کہ معاملے کو سیاسی نعروں کے بجائے آئینی، انتظامی، معاشی اور عوامی ضروریات کی بنیاد پر زیر بحث لایا جائے۔ نئے صوبوں کا قیام محض سیاسی اعلان سے ممکن نہیں بلکہ اس کے لیے آئین میں طے شدہ طریقہ کار پر عمل ضروری ہے۔
آئینی طور پر صوبائی حدود میں تبدیلی ایک پیچیدہ عمل ہے اور اس حوالے سے آئین کے متعلقہ آرٹیکلز اور پارلیمانی طریقہ کار کو سامنے رکھنا ہوگا۔ صوبائی حدود میں تبدیلی کے لیے متعلقہ صوبائی اسمبلی کی آئینی منظوری بھی اہم شرط ہے۔ اسی تناظر میں مجوزہ 28ویں آئینی ترمیم سے متعلق قیاس آرائیاں بھی سیاسی اور آئینی بحث کو مزید اہم بنا رہی ہیں، تاہم ایسی کسی بھی تبدیلی کے بارے میں حتمی صورت حال پارلیمانی اور آئینی عمل کے ذریعے ہی واضح ہو سکتی ہے۔
اس تمام بحث میں ایک بنیادی سوال سیاسی جماعتوں کے سامنے ضرور آنا چاہیے کہ اگر نئے صوبوں کو گورننس بہتر بنانے کا ایک ممکنہ ذریعہ سمجھا جا رہا ہے تو موجودہ صوبوں کے اندر مضبوط بلدیاتی نظام کیوں قائم نہیں کیا جا سکا؟ اگر ضلع، تحصیل اور مقامی سطح پر منتخب اداروں کو حقیقی اختیارات، مالی وسائل اور انتظامی اختیار دے دیا جائے تو بہت سے مسائل صوبائی دارالحکومتوں تک پہنچنے سے پہلے ہی حل ہو سکتے ہیں۔ اسی لیے نئے صوبوں اور مضبوط بلدیاتی نظام کو ایک دوسرے کا متبادل سمجھنے کے بجائے دونوں کو انتظامی اصلاحات کے مختلف مگر باہم مربوط حصوں کے طور پر دیکھنا زیادہ مؤثر ہو سکتا ہے۔
پاکستان کو آج صرف نئے صوبوں کے نام یا نقشے کی تبدیلی سے زیادہ ایک ایسے انتظامی نظام کی ضرورت ہے جس میں اختیارات، وسائل اور ذمہ داری ایک دوسرے سے جڑے ہوں۔ جس ادارے کو اختیار دیا جائے، اسے وسائل بھی ملیں اور اس اختیار کے استعمال پر جواب دہی بھی ہو۔ اگر مقامی حکومتوں کو اختیار دیا جائے تو انہیں سیاسی مداخلت سے محفوظ رکھتے ہوئے ان کی کارکردگی جانچنے کا شفاف نظام بھی قائم کرنا ہوگا۔
نئے انتظامی یونٹس کے قیام کی بحث میں عوامی مشاورت، معاشی استحکام، انتظامی ضرورت، علاقائی توازن اور آئینی اصولوں کو بنیادی اہمیت حاصل ہونی چاہیے۔ کسی بھی نئے صوبے یا انتظامی یونٹ کے قیام کا مقصد محض سیاسی طاقت کا نیا مرکز بنانا نہیں بلکہ عوام کو بہتر انتظامیہ، تیز تر انصاف، مؤثر بنیادی سہولتیں اور ترقی کے مساوی مواقع فراہم کرنا ہونا چاہیے۔
آج پاکستان کے سامنے اصل چیلنج یہ ہے کہ ریاستی نظام کو عوام کی ضروریات کے مطابق کیسے مؤثر بنایا جائے۔ نئے صوبے بنیں یا موجودہ صوبوں کے اندر مضبوط انتظامی یونٹس اور بااختیار بلدیاتی ادارے قائم ہوں، بنیادی مقصد بہتر حکمرانی ہونا چاہیے۔ اختیارات اگر چند مراکز تک محدود رہیں گے تو انتظامی تقسیم بھی مطلوبہ نتائج نہیں دے گی، جبکہ اختیارات واقعی نچلی سطح تک منتقل کر دیے جائیں تو عوام خود کو نظام کا حصہ محسوس کریں گے اور ترقیاتی عمل بھی چند بڑے شہروں تک محدود نہیں رہے گا۔
اس لیے نئے صوبوں کی بحث کو سیاسی مفادات، انتخابی حساب کتاب اور علاقائی حساسیت سے آگے لے جا کر قومی گورننس کے سوال سے جوڑنے کی ضرورت ہے۔ پارلیمنٹ میں اس معاملے پر کھلی اور سنجیدہ بحث ہونی چاہیے، آئینی تقاضوں کو ملحوظ رکھا جانا چاہیے، عوامی رائے کو اہمیت دینی چاہیے اور یہ طے ہونا چاہیے کہ پاکستان کے انتظامی ڈھانچے کو کس طرح زیادہ مؤثر، جوابدہ اور عوام دوست بنایا جا سکتا ہے۔ نئے صوبے ہوں یا بااختیار بلدیاتی ادارے، اصل کامیابی اسی وقت ہوگی جب ریاستی اختیارات اور وسائل عام شہری تک پہنچیں اور اسے اپنے مسائل کے حل کے لیے صوبائی یا وفاقی دارالحکومتوں کے چکر نہ لگانے پڑیں
