پاکستان میں موبائل اور انٹرنیٹ ٹاورز جواب کیوں دینے لگے؟

پاکستان میں موبائل اور انٹرنیٹ سروسز کے بنیادی ڈھانچے کو ایک نئے اور سنگین خطرے کا سامنا ہے، جہاں موبائل ٹاورز پر چوری اور توڑ پھوڑ کے واقعات میں تشویش ناک اضافہ سامنے آیا ہے۔ گزشتہ 11 ماہ کے دوران ملک بھر میں موبائل ٹاورز سے متعلق 9,200 سے زائد چوری اور تخریب کاری کے واقعات ریکارڈ کیے گئے، جن کے نتیجے میں تقریباً 16 فیصد سیلولر سائٹس متاثر ہوئیں۔ یہ صورتحال نہ صرف ٹیلی کام کمپنیوں کے لیے مالی نقصان کا باعث بن رہی ہے بلکہ موبائل اور انٹرنیٹ سروسز کے تسلسل کے لیے بھی ایک بڑا چیلنج بنتی جا رہی ہے۔
پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی کے مطابق موبائل ٹاورز پر ہونے والی چوری اور توڑ پھوڑ کے بڑھتے ہوئے واقعات ٹیلی کام سروسز کے لیے سنگین مسئلہ بن چکے ہیں۔ موبائل ٹاورز کسی بھی جدید مواصلاتی نظام کی بنیادی ضرورت ہیں اور ان میں نصب قیمتی آلات، بجلی کا نظام، بیٹریاں اور دیگر تنصیبات چوری یا تخریب کاری کا نشانہ بنیں تو اس کا براہ راست اثر صارفین تک پہنچتا ہے۔ کسی علاقے میں ٹاور متاثر ہونے سے موبائل فون، انٹرنیٹ اور دیگر مواصلاتی سہولیات کی فراہمی میں خلل پیدا ہو سکتا ہے۔
صورتحال کی سنگینی کے پیش نظر پی ٹی اے نے تمام موبائل آپریٹرز کو ہدایت کی ہے کہ چوری اور توڑ پھوڑ کے ہر واقعے پر بروقت ایف آئی آر درج کرائی جائے، جبکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں سے مقدمات کی مؤثر پیروی اور انہیں منطقی انجام تک پہنچانے کے لیے بھی کہا گیا ہے۔ اس اقدام کا مقصد صرف نقصان کی رپورٹنگ نہیں بلکہ ایسے واقعات میں ملوث عناصر کے خلاف قانونی کارروائی کو یقینی بنانا بھی ہے، کیونکہ مقدمات درج ہونے کے باوجود اگر ان کی مؤثر پیروی نہ ہو تو جرائم کی روک تھام مشکل رہتی ہے۔
موبائل ٹاورز کی سکیورٹی کا مسئلہ اس لیے بھی اہم ہے کہ ملک میں موبائل فون اور انٹرنیٹ اب روزمرہ زندگی، کاروبار، تعلیم، بینکاری اور سرکاری خدمات کا بنیادی حصہ بن چکے ہیں۔ ایسے میں ٹیلی کام تنصیبات کو پہنچنے والا نقصان صرف کمپنیوں کے مالی نقصان تک محدود نہیں رہتا بلکہ عام صارف، کاروباری سرگرمیوں اور ہنگامی رابطہ کاری تک متاثر ہو سکتی ہے۔ اسی وجہ سے وزارت قانون، وزارت آئی ٹی اور پی ٹی اے کے درمیان اس مسئلے کے مستقل حل کے لیے مشاورت جاری ہے، جبکہ ٹیلی کام کمپنیوں سے بھی تجاویز طلب کی گئی ہیں۔
دوسری جانب ٹیلی کام سائٹس کو بجلی کی بلاتعطل فراہمی کا مسئلہ بھی سروس کے معیار کے لیے اہم قرار دیا جا رہا ہے۔ پی ٹی اے کے مطابق ٹیلی کام سائٹس کے لیے خصوصی بجلی کے انتظامات، ایکسپریس فیڈرز اور سمارٹ ٹرانسفارمرز کے استعمال پر کام جاری ہے۔ اس مقصد کے لیے نیپرا، پاور ڈویژن اور بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کے ساتھ ٹیلی کام انڈسٹری کو صنعتی پاور ٹیرف فراہم کرنے کے معاملے پر بھی مذاکرات کیے جا رہے ہیں۔
ٹیلی کام ٹاورز کے لیے بجلی کی فراہمی میں بہتری کی ضرورت اس لیے بھی اہم ہے کہ بجلی کی بندش کی صورت میں موبائل سائٹس کو بیک اپ نظام پر منتقل ہونا پڑتا ہے، جس سے آپریٹنگ اخراجات میں اضافہ ہوتا ہے اور طویل لوڈشیڈنگ کی صورت میں سروس متاثر ہونے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ ایکسپریس فیڈرز اور سمارٹ ٹرانسفارمرز کے ذریعے بجلی کی فراہمی کو زیادہ مستحکم بنانے کی تجویز اسی مسئلے کا ایک ممکنہ حل سمجھی جا رہی ہے۔
اس کے ساتھ ٹیلی کام سائٹس پر لوڈشیڈنگ کے خاتمے کے لیے سیکرٹری وزارت آئی ٹی کی سربراہی میں ایک کمیٹی بھی قائم کی گئی ہے۔ اس کمیٹی کے ذریعے بجلی کی فراہمی، ٹیرف، لوڈشیڈنگ اور ٹیلی کام انفراسٹرکچر سے متعلق دیگر مسائل کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔ اگر بجلی کی فراہمی اور سکیورٹی دونوں مسائل پر بیک وقت پیش رفت ہوتی ہے تو موبائل اور انٹرنیٹ سروسز کی دستیابی میں بہتری لانے میں مدد مل سکتی ہے۔
9,200 سے زائد چوری اور تخریب کاری کے واقعات اور 16 فیصد سیلولر سائٹس کا متاثر ہونا اس بات کی طرف واضح توجہ دلاتا ہے کہ پاکستان کے ٹیلی کام انفراسٹرکچر کو صرف تجارتی اثاثہ سمجھنے کے بجائے ایک اہم قومی مواصلاتی ڈھانچے کے طور پر محفوظ بنانے کی ضرورت ہے۔ اس کے لیے موبائل کمپنیوں، پولیس، ضلعی انتظامیہ، بجلی کے اداروں اور متعلقہ وفاقی وزارتوں کے درمیان مؤثر رابطہ ضروری ہوگا۔ اگر موبائل ٹاورز کی سکیورٹی، بجلی کی مسلسل فراہمی اور مقدمات کی مؤثر پیروی کے لیے مربوط نظام قائم کر لیا جائے تو نہ صرف کمپنیوں کے نقصانات کم کیے جا سکتے ہیں بلکہ کروڑوں صارفین کو موبائل اور انٹرنیٹ سروس میں بار بار آنے والے تعطل سے بھی بچایا جا سکتا ہے۔
