بچوں کے ساتھ زیادتی کے ہزاروں واقعات، پنجاب سبقت لے گیا

پاکستان میں بچوں کے تحفظ سے متعلق ایک انتہائی تشویش ناک تصویر سامنے آگئی ہے، جہاں صرف 2025 کے دوران بچوں سے زیادتی اور مختلف نوعیت کے جنسی جرائم کے 17,348 مقدمات درج ہوئے۔ قومی کمیشن برائے حقوق اطفال کے اعداد و شمار کے مطابق ان مقدمات میں پنجاب 12,800 کیسز کے ساتھ سب سے زیادہ متاثرہ صوبہ رہا، جو ملک بھر میں درج ہونے والے مجموعی مقدمات کا تقریباً 74 فیصد بنتے ہیں۔ سندھ میں 3,187، خیبرپختونخوا میں 855، اسلام آباد میں 431 اور بلوچستان میں 75 مقدمات درج ہوئے۔ یہ اعداد و شمار صرف درج ہونے والے مقدمات کی نشاندہی کرتے ہیں، اس لیے ان سے یہ نتیجہ اخذ نہیں کیا جا سکتا کہ ملک میں پیش آنے والے تمام واقعات رپورٹ بھی ہو گئے۔

اعداد و شمار کا ایک اور اہم پہلو متاثرین کی عمریں اور جنس ہے۔ رپورٹ کے مطابق متاثرین میں 65 فیصد لڑکیاں جبکہ 35 فیصد لڑکے شامل ہیں۔ 11 سے 17 سال کی عمر کے بچوں سے متعلق مقدمات کل تعداد کا 86 فیصد ہیں، جبکہ 10 سال یا اس سے کم عمر بچوں سے متعلق 2,378 مقدمات سامنے آئے، جو مجموعی تعداد کا تقریباً 13 فیصد بنتے ہیں۔ کم عمر بچوں کے حوالے سے سامنے آنے والے یہ اعداد اس امر کی طرف توجہ دلاتے ہیں کہ بچوں کے تحفظ کے نظام کو صرف ایک مخصوص عمر یا طبقے تک محدود رکھنے کے بجائے ہر عمر کے بچوں کے لیے مؤثر بنانا ضروری ہے۔

رپورٹ کے مطابق سب سے بڑی کیٹیگری جبری شادی یا جنسی استحصال کے لیے بچوں کے اغوا اور زبردستی لے جانے کے مقدمات کی ہے، جن کی تعداد 8,205 رہی۔ اس کے علاوہ کم عمر افراد سے ریپ اور جنسی زیادتی کے 5,024 مقدمات، غیر اختراقی جنسی زیادتی کے 3,163 مقدمات اور بہلا پھسلا کر جنسی زیادتی کے 2,847 مقدمات درج کیے گئے۔ مزید 281 مقدمات میں بچوں کو نشہ آور اشیا دینے سے متعلق واقعات شامل تھے۔ مختلف نوعیت کے یہ اعداد ظاہر کرتے ہیں کہ بچوں کے خلاف جنسی جرائم صرف ایک شکل میں سامنے نہیں آتے بلکہ ان کے پیچھے مختلف طریقہ کار اور حالات موجود ہیں، جن سے نمٹنے کے لیے قانون نافذ کرنے والے اداروں، عدالتی نظام، صحت کے شعبے اور سماجی اداروں کے درمیان مربوط حکمت عملی ضروری ہے۔

ماہرین نے اس صورتحال کے ایک نئے اور خطرناک پہلو کی جانب بھی توجہ دلائی ہے، جس میں انٹرنیٹ اور ڈارک ویب کے ذریعے بچوں کے استحصال سے متعلق مواد تیار اور شیئر کیے جانے کا خدشہ شامل ہے۔ ڈیجیٹل دنیا نے جہاں بچوں کے لیے تعلیم اور رابطے کے نئے مواقع پیدا کیے ہیں، وہیں مجرمانہ سرگرمیوں کے لیے بھی نئے راستے پیدا ہوئے ہیں۔ اس لیے بچوں کے تحفظ کی پالیسی میں آن لائن نگرانی، ڈیجیٹل فرانزک، سائبر جرائم کی تحقیقات اور والدین و بچوں میں آن لائن تحفظ کے حوالے سے آگاہی کو بھی اہم مقام دینا ہوگا۔

قومی کمیشن برائے حقوق اطفال نے صورتحال سے نمٹنے کے لیے ہر ضلع میں مکمل عملے کے ساتھ ضلعی چائلڈ پروٹیکشن یونٹس قائم کرنے اور تربیت یافتہ کیس مینیجرز تعینات کرنے کی سفارش کی ہے۔ اس کے ساتھ ہسپتالوں میں بچوں کے تحفظ کی کمیٹیاں قائم کرنے کی تجویز بھی دی گئی ہے تاکہ متاثرہ بچے اور ان کے خاندان کو طبی، فرانزک، قانونی اور نفسیاتی سہولیات ایک ہی مربوط نظام کے تحت فراہم کی جا سکیں۔ ایسے نظام کا مقصد صرف مقدمہ درج کرنا نہیں بلکہ متاثرہ بچے کو علاج، تحفظ، قانونی مدد اور بحالی کا مکمل راستہ فراہم کرنا ہے۔

کمیشن نے صوبائی سطح پر متاثرین کی معاونت کے لیے خصوصی فنڈ قائم کرنے، مقدمے کے ٹرائل کے بعد کم از کم 12 ماہ تک بحالی اور فالو اپ کا نظام برقرار رکھنے کی سفارش بھی کی ہے۔ اس کے علاوہ تحقیقات اور میڈیا کوریج کے دوران بچوں کی شناخت اور ڈیجیٹل معلومات کی رازداری یقینی بنانے پر زور دیا گیا ہے۔ یہ پہلو اس لیے بھی اہم ہے کہ کسی واقعے کی تشہیر کے دوران متاثرہ بچے کی شناخت سامنے آنا اس کے لیے مزید سماجی اور نفسیاتی مشکلات پیدا کر سکتا ہے۔

رپورٹ میں بچوں سے جنسی زیادتی کے خلاف ایک قومی ایکشن پلان بنانے اور اینٹی ریپ ایکٹ 2021 پر مکمل عمل درآمد یقینی بنانے کی سفارش بھی کی گئی ہے۔ اصل چیلنج صرف قوانین بنانے کا نہیں بلکہ ان قوانین کو مؤثر طریقے سے نافذ کرنے، مقدمات کی شفاف اور بروقت تحقیقات، متاثرین کے تحفظ اور مجرموں کے خلاف قانونی کارروائی کو یقینی بنانے کا ہے۔ اسی طرح ایسے مقدمات میں بچوں کو دوبارہ صدمے سے بچانے کے لیے تفتیش، طبی معائنے، عدالت اور میڈیا کے تمام مراحل میں بچوں کے لیے حساس طریقہ کار اختیار کرنا ضروری ہے۔

2025 کے یہ 17,348 مقدمات پاکستان میں بچوں کے تحفظ کے موجودہ نظام کے لیے ایک سنجیدہ سوال ضرور اٹھاتے ہیں۔ پنجاب میں رپورٹ ہونے والے 12,800 مقدمات کے باعث صوبائی سطح پر حفاظتی نظام، پولیسنگ، آگاہی، تعلیمی اداروں، بچوں کے تحفظ کے اداروں اور عدالتی عمل کا جائزہ مزید اہم ہو جاتا ہے، جبکہ دیگر صوبوں میں بھی کم تعداد کو لازماً کم مسئلے کی علامت نہیں سمجھا جا سکتا، کیونکہ مختلف علاقوں میں رپورٹنگ، رسائی اور مقدمات کے اندراج کے حالات مختلف ہو سکتے ہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ بچوں کے خلاف جنسی جرائم کو محض واقعات کے اعداد و شمار کے طور پر نہیں بلکہ بچوں کے تحفظ، انصاف اور بحالی کے ایک جامع قومی مسئلے کے طور پر دیکھا جائے، تاکہ متاثرہ بچوں کو بروقت مدد

Back to top button