ایران کے ساتھ جنگ کے پنگے نے امریکہ کا کباڑہ کیسے نکالا؟

ایران جنگ کے حوالے سے امریکی فتح کے دعوے اور زمینی حقائق میں واضح تضاد سامنے آ رہا ہے۔ ایک طرف واشنگٹن کی جانب سے ایران پر دباؤ اور اپنی فوجی برتری کے دعوے کیے جا رہے ہیں، تو دوسری جانب امریکی محکمہ دفاع کی جانب سے اس جنگ کے نتیجے میں امریکا کو ہونے والے بھاری معاشی اور عسکری نقصان کا اعتراف اس بات کی نشاندہی کر رہا ہے کہ جدید ترین جنگی ٹیکنالوجی اور دنیا کی بڑی فوجی طاقت رکھنے کے باوجود جنگ کی اصل قیمت سے بچنا ممکن نہیں۔ تجزیہ کار سلمان غنی کے مطابق امریکی محکمہ دفاع نے ایران کے خلاف آپریشن ’’فیوری‘‘ پر امریکا کو ہونے والے تقریباً 33.4 ارب ڈالر کے نقصان کا اعتراف کیا ہے، جو اس جنگ کے اثرات اور واشنگٹن کے لیے پیدا ہونے والی مشکلات کو سمجھنے کے لیے اہم پیش رفت ہے۔
ایران اور امریکا کے درمیان جاری کشیدگی نے یہ سوال بھی اہم بنا دیا ہے کہ کسی طاقتور ملک کے لیے فوجی برتری آخر کس حد تک اپنے اہداف حاصل کرنے کی ضمانت بن سکتی ہے۔ امریکا بلاشبہ ایران کے مقابلے میں زیادہ بڑی فوجی اور معاشی طاقت رکھتا ہے، لیکن ایران کے خلاف کارروائی کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال سے ظاہر ہوتا ہے کہ طاقت کے استعمال کے باوجود مطلوبہ سیاسی نتائج حاصل کرنا آسان نہیں۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کے ساتھ اپنی شرائط پر معاہدے اور جنگ کے خاتمے کے دعوے سامنے آتے رہے ہیں، لیکن ایرانی قیادت کی جانب سے اس معاملے میں فوری پسپائی کے آثار دکھائی نہیں دے رہے۔
ایرانی مؤقف کے مطابق اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کی شرائط پر عمل درآمد تک امریکا کے ساتھ مذاکرات نہیں کیے جا سکتے۔ ایرانی سپریم لیڈر سکیورٹی کونسل کے سیکرٹری محسن رضائی کا یہ مؤقف اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ تہران اب بھی اپنی شرائط پر قائم ہے اور واشنگٹن کے دباؤ کے باوجود مذاکرات کے معاملے میں اپنے موقف سے پیچھے ہٹنے کے لیے تیار نہیں۔ یہی صورتحال امریکی دعوؤں اور زمینی حالات کے درمیان موجود فرق کو نمایاں کرتی ہے۔
اس پورے بحران میں آبنائے ہرمز کی صورتحال انتہائی اہمیت اختیار کر چکی ہے۔ خلیج سے عالمی منڈیوں تک تیل اور گیس کی ترسیل کے لیے آبنائے ہرمز بنیادی گزرگاہ ہے، اس لیے اگر یہاں کشیدگی برقرار رہتی ہے یا آمدورفت شدید متاثر ہوتی ہے تو اس کے اثرات صرف ایران اور امریکا تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ عالمی توانائی منڈی، تیل کی قیمتوں، عالمی تجارت اور بڑی معیشتوں پر بھی براہ راست پڑ سکتے ہیں۔ واشنگٹن کے لیے جنگ کو طویل عرصے تک جاری رکھنا اسی لیے ایک بڑھتا ہوا معاشی اور سیاسی چیلنج بن سکتا ہے۔
عالمی امور کے ماہرین کے مطابق موجودہ صورتحال میں امریکا میں جنگ کے فوجی نتائج اور اس کی معاشی قیمت کو الگ الگ دیکھنے کی ضرورت محسوس کی جا رہی ہے۔ ایک ملک کو فوجی اعتبار سے نقصان پہنچانا اور اسے سیاسی طور پر اپنی شرائط ماننے پر مجبور کرنا دو مختلف معاملات ہیں۔ ایران کے معاملے میں یہی فرق سب سے زیادہ نمایاں دکھائی دیتا ہے، جہاں فوجی دباؤ کے باوجود تہران کی قیادت اپنے بنیادی مؤقف پر قائم رہنے کا عندیہ دے رہی ہے۔
پاکستان کے لیے یہ صورتحال خصوصی اہمیت رکھتی ہے کیونکہ خلیج میں پیدا ہونے والی کشیدگی کے اثرات براہ راست پاکستانی معیشت تک پہنچ سکتے ہیں۔ پاکستان اپنی توانائی کی ضروریات کے لیے خلیجی خطے پر نمایاں انحصار کرتا ہے، جبکہ بیرون ملک پاکستانیوں کی ترسیلات اور عالمی تجارت بھی خطے کے امن اور استحکام سے جڑی ہوئی ہیں۔ موجودہ کشیدگی کے نتیجے میں پٹرولیم بحران پہلے ہی پاکستان کے لیے ایک بڑا مسئلہ بن چکا ہے اور اگر امریکا اور ایران کے درمیان جنگ مزید طول پکڑتی ہے تو توانائی کی قیمتوں اور درآمدی اخراجات میں اضافے سے پاکستان پر مزید معاشی دباؤ پیدا ہو سکتا ہے۔
اسی تناظر میں پاکستان کی جانب سے جنگ کے بجائے مذاکرات، مفاہمت اور کشیدگی میں کمی پر زور دیا جا رہا ہے۔ اسلام آباد کے لیے خطے میں امن صرف سفارتی ترجیح نہیں بلکہ براہ راست معاشی ضرورت بھی ہے، کیونکہ طویل جنگ کی صورت میں تیل اور گیس کی قیمتوں میں اضافہ، بحری تجارت میں رکاوٹ، درآمدی بل میں اضافے اور ترسیلات زر پر دباؤ جیسے مسائل پاکستانی معیشت کے لیے مزید مشکلات پیدا کر سکتے ہیں۔
موجودہ صورتحال کا سب سے اہم پہلو یہ ہے کہ جنگ کے دعووں کے باوجود تنازع اب بھی اپنے بنیادی سیاسی سوالات کا جواب تلاش نہیں کر سکا۔ امریکا اپنی فوجی طاقت کے ذریعے ایران پر دباؤ برقرار رکھنا چاہتا ہے جبکہ ایران اپنی خودمختاری اور شرائط سے دستبردار ہونے پر آمادہ نظر نہیں آتا۔ صدر ٹرمپ کا یہ مؤقف کہ ایران امریکا کے ساتھ معاہدہ چاہتا ہے، اور اس کے جواب میں ایرانی قیادت کا یہ کہنا کہ اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کی شرائط پوری ہونے تک مذاکرات نہیں ہوں گے، دونوں فریقوں کے درمیان موجود گہرے اختلاف کی عکاسی کرتا ہے۔
چنانچہ موجودہ مرحلے پر یہ کہنا زیادہ درست ہوگا کہ جنگ کے میدان میں طاقت کا مظاہرہ اپنی جگہ، لیکن جنگ کے سیاسی اور معاشی نتائج ابھی طے نہیں ہوئے۔ امریکا کے لیے اصل چیلنج صرف فوجی کارروائی نہیں بلکہ اس کے بعد پیدا ہونے والی معاشی قیمت، عالمی سطح پر توانائی کے بحران اور طویل علاقائی عدم استحکام سے نمٹنا بھی ہے۔ دوسری جانب ایران کے لیے بھی جنگ کے نقصانات اپنی جگہ موجود ہیں، مگر تہران کا مسلسل مزاحمت پر قائم رہنا اس بات کو ظاہر کرتا ہے کہ صرف فوجی دباؤ کے ذریعے سیاسی حل حاصل کرنا آسان نہیں۔ اگر کشیدگی مزید طویل ہوئی تو اس کی قیمت صرف امریکا اور ایران نہیں بلکہ پاکستان سمیت پوری عالمی معیشت کو ادا کرنا پڑ سکتی ہے۔
