آبنائے ہرمز سے فائدہ اٹھانے والے ماحولیاتی نقصان کا ازالہ کریں: اسمائیل بقائی

ایران کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز سے فائدہ اٹھانے والے ممالک ماحولیاتی نقصان کا ازالہ کریں۔
ایران کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز کے ذریعے ہونے والی تجارتی جہاز رانی سے فائدہ اٹھانے والے ہر فریق پر خلیج فارس اور بحیرہ عمان کو پہنچنے والے ماحولیاتی نقصان کے ازالے کی قانونی اور اخلاقی ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔
اسماعیل بقائی نے کہا کہ حالیہ دنوں میں قشم جزیرے کے ساحلوں پر تیل کی آلودگی کی ویڈیوز گردش کر رہی ہیں۔ یہ آلودگی خلیج فارس سے ساحل کی جانب بہہ کر آئی، جبکہ ابتدائی شواہد سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس کا ذریعہ ایک غیر ملکی بلک کیریئر (مال بردار جہاز) ہے۔ تین ساحلی مقامات اور سمندر کی سطح کے کچھ حصوں میں آلودگی کی نشاندہی ہوئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہ واقعہ گزشتہ کئی دہائیوں کے دوران خلیج فارس اور بحیرہ عمان کے پانیوں اور خطے کے سمندری ماحولیاتی نظام کو پہنچنے والی وسیع پیمانے کی آلودگی کی صرف ایک نمایاں مثال ہے، جس میں ظاہری اور پوشیدہ دونوں طرح کی آلودگی شامل ہے۔ اس آلودگی کے نتیجے میں ایران کے ساحلی علاقوں کو کھربوں ڈالر کا نقصان پہنچا ہے۔
اسماعیل بقائی نے سوال اٹھایا کہ ان نقصانات کی تلافی کی ذمہ داری کس پر عائد ہوتی ہے؟ کیا ان ممالک پر جو ہمارے خطے سے برآمد ہونے والی سستی توانائی استعمال کرتے ہیں، جہاز رانی کی انشورنس کمپنیوں پر، یا ان حملہ آوروں اور ان کے اتحادیوں پر جنہوں نے خلیج فارس اور بحیرہ عمان کو فوجی کارروائیوں اور انتہائی تباہ کن ہتھیاروں کی آزمائش کا میدان بنا دیا ہے؟
ٹرمپ کے طیارے پر حملے کی اسرائیلی رپورٹ جعلی ہے: ترک حکام
انہوں نے مزید کہا کہ خلیج فارس اور بحیرہ عمان کے ساتھ سب سے طویل ساحلی پٹی رکھنے والے ملک کی حیثیت سے ایران اس معاملے سے لاتعلق نہیں رہ سکتا۔ آبنائے ہرمز کے ذریعے تجارتی جہاز رانی سے فائدہ اٹھانے والے ہر فریق پر خلیج فارس اور بحیرہ عمان کو پہنچنے والے ماحولیاتی نقصان کے ازالے کی قانونی اور اخلاقی ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔
