کیا واقعی دیسی انڈے ،فارمی انڈوں سے زیادہ فائدہ دیتےہیں؟

ہمیں مارکیٹ میں ہمیشہ انڈے دو رنگوں میں ملتے ہیں، سفید رنگ کے انڈے فارمی جبکہ سرخی مائل دیسی انڈے کہلاتے ہیں، تو سوال یہ ہے کہ کون سا انڈا انسانی صحت کے لیے زیادہ بہتر ہے اور کس میں غذائیت زیادہ ہے؟ماہرین غذائیت کے درمیان اس بارے میں بحث رُکنے کا نام نہیں لیتی اور بس آگے سے آگے کا سلسلہ جاری ہی رہتا ہے۔ بہت سے لوگوں کا کہنا ہے کہ سرخ انڈے زیادہ غذائیت کے حامل ہوتے ہیں مگر جب اُن سے یہ پوچھا جائے کہ میاں ایسا کیوں؟ تو اُن کا جواب انتہائی دلچسپ ہوتا ہے اور وہ یہ کہ اس کی وجہ ہے کہ ان انڈوں کی قیمت زیادہ ہوتی ہے!انڈے کی رنگت کا انحصار مرغی کی نسل اور جین پر ہوتا ہے۔ عام طور پر سفید پروں والی (فارمی) مرغیوں کے انڈے سفید جبکہ گہرے رنگ کی (دیسی) مرغیوں کے انڈے سرخی مائل ہوتے ہیں۔ انڈے کے چھلکے کا بھورا رنگ بنیادی طور پر مرغی کے بچہ دانی میں موجودغدود کی وجہ سے ہوتا ہے۔مشی گن سٹیٹ یونیورسٹی کی ایک تحقیق کے مطابق مرغی کے اندر ایک انڈہ بننے میں عموماً 26 گھنٹے لگتے ہیں، سب سے پہلے، انڈے کی زردی مرغی کے رحم میں بنتی ہے۔ پھر تین گھنٹے تک زردی کے گرد سفید حصہ یا البومین بنتا ہے۔ اس کے بعد ایک گھنٹہ سے زائد عرصے تک خول کے نیچے جھلی بنتی ہے۔ انڈا پھر دم کے قریب شیل غدود میں چلا جاتا ہے۔ یہ وہ جگہ ہے جہاں اوپری سخت خول بنتا ہے۔ اس خول کو بنانے میں تقریباً 20 گھنٹے لگتے ہیں۔تمام انڈوں کی رنگت ابتدا میں تو سفید ہی ہوتی ہے تاہم اس کے خول میں رنگت آخری لمحات میں شامل ہوتی ہے۔ یہ رنگ مُرغی کے جسم میں موجود ایک روغن سے بنتا ہے، تاہم، انڈے جو سفید ہوتے ہیں ان میں رنگ شامل نہیں ہوتا ہے۔سفید پروں والی مرغیوں کی افزائش کی لاگت قدرے کم ہے۔ انھیں بھوری مرغیوں سے کم خوراک کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس لیے سفید انڈوں کی قیمت سرخی مائل انڈوں کے مقابلے میں کم رکھی جاتی ہے۔ماہر غذائیت سید تسنیم حسین چوہدری اور پولٹری ماہر شکیلہ فاروق دونوں کا کہنا تھا کہ انڈوں کی رنگت سے ان کی غذائیت میں کوئی فرق نہیں پڑتا۔نیویارک میں محققین کے ایک گروپ کے مطابق سرخ انڈوں میں قدرے زیادہ اومیگا تھری فیٹی ایسڈز ہوتے ہیں لیکن یہ فرق اتنا کم ہے کہ اس سے غذائیت کے معیار پر زیادہ فرق نہیں پڑتا۔50 گرام کے ایک انڈے میں لگ بھگ 72 کیلوریز اور 4.75 گرام فیٹس ہوتی ہیں۔ اس غذائیت کی مقدار سفید اور سرخ انڈوں میں تقریباً برابر ہی ہوتی ہے تاہم آج کل مارکیٹ میں اومیگا 3 سے بھرپور انڈے، آرگینک انڈے، آرگینک اور نان جی ایم او فیڈ چکن انڈے، فری رینج چکن انڈے وغیرہ بھی دستیاب ہیں اور ان کی کافی مانگ بھی ہے۔ماہرینِ غذائیت کے مطابق انڈے کی زردی جتنی گہری ہوگی، اس میں وٹامن اے، کیروٹین اور معدنی مواد اتنا ہی زیادہ ہوگا اور اس انڈے کا ذائقہ اتنا ہی زیادہ ہوتا ہے اور ہم نے دیکھا ہے کہ دیسی مرغیوں کے انڈے کی زردی فارمی مرغیوں کے انڈوں کی زردی سے زیادہ گہری ہوتی ہے کیونکہ انڈوں کا ذائقہ اور غذائیت مرغیوں کی خوراک پر منحصر ہے، اس لیے سفید انڈے دینے والی مرغیوں اور سرخ انڈے دینے والی مرغیوں کو ایک ہی قسم کا کھانا کھلانے سے ذائقہ اور غذائیت میں زیادہ فرق نہیں پڑے گا۔
