عمران اور بشری کو توشہ خانہ ٹو کیس میں بھی سزا کا قوی امکان

القادر ٹرسٹ کیس میں ریلیف ملنے کے امکانات نے تحریک انصاف کے کارکنوں کو ایک بار پھر عمران خان کی رہائی کی امید دلا دی ہے، تاہم ذرائع کے مطابق عمران خان کے جلد جیل سے باہر آنے کے چانسز محدود ہیں کیونکہ توشہ خانہ ٹو کیس میں سامنے آنے والے گواہان اور ثبوتوں کی وجہ سے بانی پی ٹی آئی کے اہلیہ سمیت ٹھکنے کے امکانات روشن ہو چکے ہیں اس لئے لگتا یہی ہے کہ القادر ٹرسٹ کیس میں کس قسم کا ریلیف ملنے سے پہلے ہی عمران خان کو توشہ خانہ ٹو کیس میں سزا سنا دی جائے گی۔ جس کے بعد ان کا فوری جیل سے باہر آنا ممکن نہیں رہے گا۔
ذرائع کے مطابق سابق وزیر اعظم کے جلد جیل سے باہر آنے کے امکانات نہایت محدود ہیں۔ اگرچہ القادر ٹرسٹ کیس میں عمران خان کے حق میں فیصلے کے اشارے مل رہے ہیں، لیکن دوسری جانب توشہ خانہ ٹو کیس میں سامنے آنے والے گواہان اور دستاویزی ثبوت صورتحال کو ان کے خلاف مزید سنگین بنا رہے ہیں۔ قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ اس کیس میں شریکِ جرم کے طور پر عمران خان کی اہلیہ کے خلاف بھی کارروائی کے امکانات موجود ہیں، جو بانی پی ٹی آئی کے قانونی مسائل کو اور گہرا کر سکتے ہیں۔ عمران خان کو اگر القادر ٹرسٹ کیس میں ریلیف مل بھی جائے پھر بھی اس فیصلے کے عملی اثرات فوری طور پر ظاہر نہیں ہوں گے، کیونکہ توشہ خانہ ٹو کیس میں عدالتی کارروائی تیزی سے آگے بڑھ رہی ہے۔ قانونی ماہرین کے مطابق القادر ٹرسٹ کیس میں ریلیف عمران خان کو مجموعی قانونی مشکلات سے نجات نہیں دلاپائے گا۔ جب تک توشہ خانہ ٹو کیس کا فیصلہ نہیں آ جاتا، عمران خان کی رہائی کا امکان نہایت کم ہے۔
خیال رہے کہ 21 اگست کو چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے 3 رکنی بینچ نے 9 مئی کے واقعات سے متعلق 8 مقدمات میں عمران خان کی ضمانت منظور کی تھی۔ جس کے بعد اب عمران خان صرف القادر ٹرسٹ کیس میں قید ہیں۔ تاہم سپریم کورٹ کے حالیہ فیصلے کے بعد سابق وزیراعظم عمران خان کے حامیوں کو امید ہے کہ جلد القادر ٹرسٹ کیس میں بھی انھیں ریلیف مل جائے گا۔ اس کیس میں ضمانت کی منظوری اور سزا معطل ہونے پر عمران خان جیل سے باہر آ سکتے ہیں، تاہم مبصرین پی ٹی آئی کے ان دعوؤں کی نفی کرتے نظر آتے ہیں ان کا کہنا ہے کہ موجودہ حالات میں عمران خان کی قید ختم ہونے کے امکانات نا ہونے کے برابر ہیں یہ حقیقت ہے کہ عدالت عمران خان کو القادر ٹرسٹ کیس میں ریلیف دے سکتی ہے تاہم دوسری جانب توشہ خانہ 2 کیس کا ٹرائل اپنے آخری مراحل میں داخل ہو چکا ہے، جس کا فیصلہ عمران خان کی آئندہ سیاسی و قانونی زندگی پر گہرا اثر ڈال سکتا ہے۔ اس کے علاوہ بھی متعدد کیسز پائپ لائن میں موجود ہیں جن میں سخت سزائیں بھی سنائی جا سکتی ہیں اس لئے عمران خان کی جیل سے رہائی ناممکن نظر آتی ہے۔
کیا عمران انا کی وجہ سے تخت سے تختے کی طرف جا رہے ہیں؟
واضح رہے کہ 17 جنوری 2025 کو اسلام آباد کی احتساب عدالت نے القادر ٹرسٹ کیس یا 190 ملین پاؤنڈ کیس میں عمران خان کو 14 سال اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کو 7 سال قید کی سزا سنائی تھی۔ اس مقدمے میں عمران خان اور ان کی اہلیہ پر الزام کیا گیا ہے کہ انھوں نے برطانوی نیشنل کرائم ایجنسی سے واپس بھیجی گئی 190 ملین پاؤنڈ کی رقم میں بدعنوانی اور اختیارات کا غلط استعمال کیا۔ عدالت کی جانب سے واضح ثبوتوں کی بنیاد پر بانی پی ٹی آئی عمران خان اور ان کی اہلیہ کو لمبی قید کی سزا سنائی تھی تاہم اب عمران خان اور ان کی اہلیہ نے سزا معطلی کی درخواست دائر کر رکھی ہے، جس کی سماعت اب 16 اکتوبر کو ہوگی۔تاہم دوسری جانب عمران خان کے خلاف نیب کی جانب سے سعودی تحائف و جیولری کی فروخت اور کم قیمت اندراج سے متعلق دائر توشہ خانہ ٹو کیس آخری مراحل میں داخل ہو چکا ہے۔ اگر اس کیس میں عدالت کی جانب سے سزا سنا دی جاتی ہے تو عمران خان کی رہائی ناممکن ہو سکتی ہے۔
یاد رہے کہ عمران خان کے خلاف کل 186 مقدمات درج ہیں، جن میں احتجاج، لانگ مارچ اور 9 مئی کے بعد کے واقعات شامل ہیں۔ ان میں سے کئی مقدمات میں وہ بری یا ضمانت پر رہا ہو چکے ہیں، کچھ میں سزائیں معطل ہیں جبکہ چند بڑے مقدمات، جیسے القادر ٹرسٹ اور توشہ خانہ 2، اب بھی ان کی رہائی میں سب سے بڑی رکاوٹ ہیں۔ تاہم قانونی ماہرین کے مطابق اگر سپریم کورٹ القادر ٹرسٹ کیس میں سزا معطل کر بھی دے، تب بھی عمران خان کی رہائی کا انحصار توشہ خانہ 2 کیس کے فیصلے پر ہوگا۔ اس مقدمے میں سزا برقرار رہنے کی صورت میں ان کا باہر آنا ممکن نہیں ہوگا۔ تاہم اگر عمران خان دونوں مقدمات میں ریلیف لینے میں کامیاب ہو جاتے ہیں تو عمران خان کی جلد رہائی کے امکانات بڑھ جائیں گے۔ تاہم ملک کے موجودہ حالات کے پیش نظر لگتا نہیں کہ حکومت عمران خان کو جیل سے رہائی کا رسک لے گی۔
