ٹرمپ کی ایران سے ڈیل کیلئےابراہیمی معاہدے کی شرط، مسلم ممالک پریشان

مشرقِ وسطیٰ میں ایران اور امریکا کے درمیان ممکنہ امن معاہدے کیلئے جاری مذاکراتی عمل نے اس وقت ایک نیا اور حساس موڑ اختیار کر لیا جب ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران معاہدے کو اچانک اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کے مطالبے سے جوڑ دیا۔ اس غیر متوقع شرط نے نہ صرف علاقائی مسلم اتحاد کو ہلا کر رکھ دیا بلکہ عرب دنیا میں نئی سفارتی بے چینی بھی پیدا کر دی ہے۔

بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق ٹرمپ نے ایران کے ساتھ مجوزہ معاہدے پر حمایت حاصل کرنے کے لیے پاکستان سمیت آٹھ اہم ممالک کے رہنماؤں سے رابطہ کیا۔ اس اعلیٰ سطحی سفارتی رابطے میں محمد بن سلمان، طیب اردوان، عبدالفتاح السیسی، شاہ عبداللہ دوم اور عاصم منیر سمیت مختلف رہنما شامل تھے۔رپورٹس کے مطابق گفتگو کے دوران ٹرمپ نے اچانک مطالبہ کیا کہ ایران معاہدے کے بعد وہ ممالک جو اب تک اسرائیل کو تسلیم نہیں کرتے، انہیں ابراہیمی معاہدہ میں شامل ہو کر اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے چاہئیں۔ اس تجویز کے بعد کانفرنس کال میں غیر معمولی خاموشی چھا گئی اور کئی مسلم ممالک اس شرط پر حیران رہ گئے۔

پاکستان اور سعودی عرب سمیت اہم مسلم ممالک نے اس مطالبے پر محتاط ردعمل دیا۔ پاکستانی سکیورٹی ذرائع کے مطابق ایران معاہدہ اور ابراہیمی معاہدہ دو الگ معاملات ہیں اور انہیں آپس میں جوڑنے کی کوشش درست نہیں۔ ذرائع نے واضح کیا کہ پاکستان پر اسرائیل کو تسلیم کرنے کے لیے کسی قسم کا دباؤ قبول نہیں کیا جائے گا۔

دوسری جانب سعودی عرب نے بھی امریکی تجویز کو مسترد کرتے ہوئے اپنا مؤقف دہرایا کہ فلسطینی ریاست کے قیام تک اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات ممکن نہیں۔ سعودی ذرائع کے مطابق فلسطین کا مسئلہ ریاض کی خارجہ پالیسی کا بنیادی حصہ ہے اور اس میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔

بین الاقوامی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ غزہ جنگ اور وہاں جاری انسانی بحران نے عرب ممالک کے لیے اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کو مزید مشکل بنا دیا ہے۔ خاص طور پر عوامی سطح پر اسرائیل مخالف جذبات میں اضافے کے باعث عرب قیادت کھل کر کسی نئی سفارتی پیش رفت سے گریز کر رہی ہے۔

ادھر ایران اور امریکا کے درمیان جاری مذاکرات میں بھی اہم پیش رفت جاری ہے۔ عباس عراقچی، محمد باقر قالیباف اور ایرانی مرکزی بینک کے سربراہ عبدالناصر ہمتی مذاکرات کے سلسلے میں دوحہ پہنچ چکے ہیں، جہاں قطری ثالثی کے ذریعے جنگ بندی، منجمد اثاثوں کی بحالی اور آبنائے ہرمز سے متعلق معاملات پر بات چیت جاری ہے۔ذرائع کے مطابق ایران اور امریکا ایک ایسے منصوبے پر بھی غور کر رہے ہیں جس کے تحت جنگ بندی معاہدے کے تقریباً 30 دن بعد آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر کھول دیا جائے گا۔ ایران اس عرصے میں سمندری راستوں سے بارودی سرنگیں صاف کرے گا تاکہ عالمی تجارت اور تیل کی ترسیل بحال ہو سکے۔مارکو روبیو نے کہا ہے کہ امریکا سفارت کاری کو کامیاب بنانے کے لیے ہر ممکن موقع دینا چاہتا ہے، جبکہ مسعود پزشکیان نے بین الاقوامی انٹرنیٹ بحال کرنے اور مذاکرات کو آگے بڑھانے کے اشارے دیے ہیں۔

معاشی سطح پر بھی ان مذاکرات کے اثرات ظاہر ہونا شروع ہو گئے ہیں۔ ایران امریکا ممکنہ معاہدے کی خبروں کے بعد عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے نیچے آ گئی ہیں جبکہ اسٹاک مارکیٹوں میں بھی تیزی دیکھی جا رہی ہے۔سیاسی مبصرین کے مطابق ٹرمپ کی جانب سے ایران ڈیل کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے کے مطالبے سے جوڑنا خطے میں نئی سفارتی پیچیدگیاں پیدا کر سکتا ہے۔ ایک طرف امریکا مشرقِ وسطیٰ میں بڑا سفارتی معاہدہ چاہتا ہے، جبکہ دوسری جانب فلسطین اور غزہ کا مسئلہ اب بھی عرب دنیا کے لیے سب سے حساس موضوع بنا ہوا ہے۔

Back to top button