سپریم کورٹ کے 2سینئر ججز نےچیف جسٹس کو پھرخط لکھ دیا

سپریم کورٹ کے سینئر ججوں جسٹس سید منصور علی شاہ اور جسٹس منیب اختر نے چیف جسٹس آف پاکستان یحییٰ آفریدی کو ایک بار پھر خط لکھتے ہوئے پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ کے تحت قائم کمیٹی کے اجلاس کے منٹس پبلک کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

دونوں ججز نے اپنے خط میں واضح کیا کہ سپریم کورٹ (پریکٹس اینڈ پروسیجر) ایکٹ 2023 کے تحت کمیٹی کا مقصد یہ تھا کہ چیف جسٹس مشاورت کے بغیر اکیلے بینچ تشکیل نہ دیں بلکہ کمیٹی کی اجتماعی رائے سے بڑے مقدمات کا فیصلہ ہو۔

انہوں نے نشاندہی کی کہ 31 اکتوبر 2024 کے اجلاس میں کمیٹی نے متفقہ طور پر فیصلہ کیا تھا کہ آئین کی 26ویں ترمیم جیسے بڑے تنازع کو فل کورٹ کے سامنے پیش کیا جائے، تاکہ فیصلے پر کسی کو تعصب یا جانبداری کا خدشہ نہ ہو۔ تاہم، چیف جسٹس نے اس فیصلے پر عمل درآمد کرنے کے بجائے دیگر ججوں سے انفرادی رائے لے کر یہ تاثر دیا کہ فل کورٹ کی ضرورت نہیں، جو ان کے بقول غیر شفاف اور غیر قانونی عمل تھا۔

خط میں مزید کہا گیا کہ فل کورٹ کی تشکیل سے سپریم کورٹ ایک آواز میں تاریخی فیصلہ دے سکتی تھی جس سے ادارے کی ساکھ اور آئینی ہم آہنگی مضبوط ہوتی۔ لیکن اس کے برعکس تقسیم نمایاں ہوگئی اور عدالت کی غیر جانبداری پر سوال اٹھنے لگے۔

جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس منیب اختر نے مطالبہ کیا ہے کہ چیف جسٹس کے نوٹس اور رجسٹرار کے منٹس کی طرح ان کا خط بھی سپریم کورٹ کی ویب سائٹ پر شائع کیا جائے تاکہ عوام کو مکمل حقائق تک رسائی حاصل ہو اور صرف ایک پہلو نہ دکھایا جائے۔

Back to top button