انوکھے لاڈلے نے فوج کے بعد عدلیہ میں پھوٹ کیسے ڈلوائی؟
معروف اینکر پرسن اور تجزیہ کار سلیم صافی نے کہا ہے کہ پاکستان دشمن مغربی طاقتیں بہت منظم طریقے سے انوکھے لاڈلے کے ذریعے پاکستان میں انارکی پھیلا رہی ہیں جس کے نتیجے میں اب فوج کے بعد عدلیہ میں بھی پھوٹ پڑ گئی ہے۔ اپنے تازہ سیاسی تجزیے میں صافی کہتے ہیں کہ افراد نہیں ادارے اہم ہوتے ہیں۔ ریاست کے ادارے مضبوط، اپنے آئینی حد میں کام کرنے والے اور غیر متنازعہ ہوں تو اس ریاست کا کوئی کچھ نہیں بگاڑ سکتا۔ لیکن اگر ادارے کمزور، متنازعہ یا اپنے دائرے سے نکل جائیں تو ملک انارکی کے شکار ہوجاتے ہیں۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ ماضی میں بھی ہمارے ریاستی اداروں کا کردار قابل رشک نہیں رہا لیکن گزشتہ چند سال میں ایک انوکھے لاڈلے کیلئے اسی کے ذریعے پاکستان کے ریاستی اداروں کا وہ حال کردیا گیا جس سے یہ تاثر ملتا ہے کہ حکیم سعید، ڈاکٹر اسرار احمد اور مولانا فضل الرحمان جیسے لوگ ماضی میں اس شخص کے بارے میں کچھ کہتے رہے اس میں کچھ وزن ضرور ہے۔ لگتا ہے کہ پاکستان دشمن مغربی طاقتیں بہت منظم طریقے سے ایک شخص کے ذریعے پاکستان میں انارکی کا یہ مقصد حاصل کرنا چاہتی ہیں۔ انوکھے لاڈلے کے ذریعے سیاست اور سیاستدانوں کو بدنام کیا گیا، اور پھر سول نافرمانی جیسے اقدامات کے ذریعے نئی نسل کو قانون شکنی کے راستے پر لگایا گیا ۔
میڈیا کو تقسیم اور بے وقعت کردیا گیا۔ الیکشن کمیشن سے غیرملکی فنڈنگ کیس کو آٹھ سال تک زیرالتوا رکھ کر اور 2018 کے الیکشن میں آر ٹی ایس سسٹم کو رات گے بٹھا کر الیکشن کمیشن کو ڈس کریڈٹ کیا گیا۔ پہلے فوج کو لاڈلے کے ساتھ ملا کر بدنام کیا گیا اور اب اسی سے فوج کو گالیاں پڑوا کر عوام کی نظروں میں بے وقار کرنے کے سازش کی جاری ہے لیکن سب سے افسوسناک پہلو اعلیٰ عدلیہ کا ہے۔
کیا شہباز شریف سازشی عمران کا مقابلہ کر پائیں گے؟
سلیم صافی کہتے ہیں کہ بدقسمتی سے ثاقب نثار اور عظمت سعید جیسے لوگوں نے عدلیہ کے ذریعہ انوکھے لاڈلے کے سیاسی مخالف کو اقتدار سے نکالنے، وزیر اعظم بنوانے اور پھر بچانے کے لیے استعمال کیا۔ جب قومی اسمبلی کے ڈپٹی سپیکر قاسم سوری کے اقدام سے متعلق سپریم کورٹ کا فیصلہ آیا تو انوکھے لاڈلے کی پارٹی کے ذریعے سوشل میڈیا پر عدلیہ کو گالیاں پڑوائی گئیں اور ایسی صورت حال پیدا کی گئی کہ پی ٹی آئی کے سوا تمام بڑی جماعتیں سپریم کورٹ کے چیف جسٹس پر مشتمل بینچ کے فیصلوں کو متنازعہ قرار دے رہی ہیں۔ سب سے افسوسناک امر یہ ہے کہ ملک کی سب سے بڑی عدالت بھی میڈیا کی طرح تقسیم نظر آتی ہے جس کا واضح ثبوت پہلے سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کے بعد سینئیر ترین جج جسٹس فائز عیسیٰ کے بارے میں ناجائز ریفرنس دائر کرنا اور اب چیف جسٹس کے فیصلوں اور اقدامات کے بارے میں جسٹس فائز عیسیٰ کے خطوط ہیں۔
سلیم صافی کہتے ہیں کہ عدلیہ کی اس تشویشناک صورت حال اور تقسیم کا اندازہ جسٹس فائز عیسیٰ کے 25 جولائی 2022 کو لکھے گئے خط کے مندرجات سے بخوبی لگایا جاسکتا ہے۔ یاد رہے کہ جسٹس فائز عیسیٰ نے 2023 میں چیف جسٹس آف پاکستان بننا ہے۔ انکے خط سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ عدالتی معاملات کتنے سنگین ہو چکے ہیں۔ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ چیف جسٹس عمر عطا بندیال کو مخاطب کرتے ہوئے اپنے خط میں لکھتے ہیں کہ جب عدالت عظمیٰ میں اسامیاں خالی ہوئیں تو چیف جسٹس صاحب نے کوئی اجلاس طلب نہیں کیا لیکن اب اچانک ہی عجلت میں تھوک کے حساب سے تقرری کرنا چاہتے ہیں۔ پانچ ججوں کی تقرری کا مطلب عدالت عظمیٰ کا ایک تہائی سے زیادہ حصہ ہے جسے چیف جسٹس اعلان شدہ سرکاری تعطیلات کے دوران کمیشن کے تمام ارکان کی شرکت سے گریز کرتے ہوئے منعقد کرنا چاہتے ہیں۔ وہ لکھتے ہیں کہ چیف جسٹس ایک ’’متوقع‘‘ اسامی کو بھی پر کرنا چاہتے ہیں۔ آئین کی دفعہ 175 (8)اس کی اجازت نہیں دیتی۔ نہ ہی آئین اس کی اجازت دیتا ہے کہ چیف جسٹس اکیلے نام تجویز کریں کیونکہ یہ صرف جوڈیشل کمیشن کا استحقاق ہے۔ تاہم اپنی من مانی کرنے کے لیے آئین سے بالاتر ناقص طور پر وضع کردہ قواعد کا حوالہ دیا جاتا ہے۔
