کاریں بنانے والی کمپنیاں پلانٹس بند کرنے پر مجبور کیوں؟
ملک میں ڈالر کی کمی اور سٹیٹ بینک کی جانب سے ایل سیز نہ کھولنے کی وجہ سے پاکستان میں کاریں بنانے والی کمپنیاں نہ صرف اپنی پیداوار میں کمی کر رہی ہیں بلکہ اپنے پلانٹس بھی بند کرنا شروع ہو گئی ہیں، اسکے علاوہ کاروں کی بکنگ بھی بند کر دی گئی ہے جب کہ ایڈوانس ادائیگی کرنے والے صارفین کو بھی گاڑیوں کی ڈیلیوری نہیں ہو پا رہی۔
جولائی اور اگست 2022 میں گاڑیوں کی پیداوار میں کمی کے بعد صارفین کو ڈیلیوری میں مزید تاخیر کا۔امکان ہے جس کے باعث وہ صارفین پریشان ہیں جنھوں نے ایڈوانس رقم بھی جمع کروائی ہوئی ہے۔ کار ڈیلرز کے مطابق ٹویوٹا انڈس موٹرز، اور پاک سوزوکی کی جانب سے مزید بکنگ نہ کرنے کا کہا گیا ہے، کِیا موٹرز میں تھوڑا سا مسئلہ ہوا تاہم زیادہ نہیں جبکہ ہونڈا موٹرز کی جانب سے بکنگ بند نہیں کی گئی ہے۔ ٹویوٹا انڈس موٹرز نے صارفین سے کہا ہے کہ وہ اگر چاہیں تو ایڈوانس کی مد میں جمع کروائی گئی رقم بغیر کسی کٹوتی کے واپس لے سکتے ہیں۔ یاد رہے کہ کاریں بنانے والی پاکستانی کمپنیوں نے صارفین سے 150 ارب روپے بطور ایڈوانس بکنگ وصول کر رکھے ہیں، کاریں بنانے والی کمپنیوں کی جانب سے ڈیلیوری میں تاخیر کی جو وجوہات بتائی جا رہی ہیں ان میں ڈالر کی بڑھتی قیمت کے باعث گاڑیاں تیار کرنے کے لیے پارٹس کی درآمد میں مشکل سرِفہرست ہے۔
کمپنیوں کے مطابق پارٹس کا بڑا حصہ بیرون ملک سے منگوایا جاتا ہے جنکی عدم دستیابی سے پیداواری سرگرمیاں متاثر ہو رہی ہے اور گاڑیوں کی تیاری ممکن نہیں ہے چنانچہ صارفین کو گاڑیوں کی ڈیلیوری میں تاخیر ہوگی۔
دوسری جانب دلچسپ بات یہ ہے کہ ملک میں گاڑیوں کی قیمت میں بے پناہ اضافہ دیکھا جا رہا ہے جس کی وجہ کار کمپنیوں کی جانب سے ڈالر کی قیمت میں ہونے والے اضافے کو قرار دیا جاتا ہے، گاڑیاں تیار کرنے والی کمپنی ٹویوٹا انڈس کا کہنا ہے کہ سٹیٹ بینک اُنھیں اپنی ضرورت کا صرف 35 سے 40 فیصد حصہ دینے کی اجازت دے رہا ہے جو پارٹس کی درآمد کے لیے چاہئے جس وجہ سے انہوں نے بھی اسی تناسب سے اپنی پیداوار کم کر دی ہے، پاک سوزوکی موٹرز کے ترجمان شفیق اے شیخ نے بتایا کہ بینکوں کی جانب سے درآمد کے لیے ایل سی نہیں کھولی جا رہی ہے جو ’سی کے ڈی‘ کٹس کے لیے ضرورت ہے۔
واضح رہے کہ اس وقت پاکستان میں ڈالر کی قیمت ملکی تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ چکے ہے اور ایک ڈالر کی قیمت 240 روپے سے زیادہ ہو چکی ہے، اس وقت درآمد کے لیے کھولی جانے والی ایل سی 250 روپے فی ڈالر سے اوپر سیٹل ہو رہی ہے اور ملک میں ڈالر کی بیرون ذرائع سے کم آمد کی وجہ سے درآمدات کے لیے ایل سی کھولنے میں مشکلات پیش آ رہی ہیں۔
پاک سوزوکی کے ترجمان کے مطابق جولائی کے مہینے میں پیداواری عمل کو کسی نہ کسی طریقے سے ایڈجسٹ کر لیا گیا تاہم اگر صورتحال برقرار رہتی ہے تو کمپنی اگست کے مہینے میں اپنا پلانٹ بند کر سکتی ہے۔ ترجمان کے مطابق مستقبل میں پیداوار میں اضافہ ایل سی کُھلنے پر منحصر ہے۔
عمران خان کی جنونیت انہیں کہاں پہنچانے والی ہے؟
آٹو سیکٹر کے ماہر مشہود علی خان نے بتایا کہ ملک میں ڈالر کی کمی اس وقت اصل میں سب سے بڑا مسئلہ ہے، صورت حال بہت گمبھیر ہے اور پالیسی سازوں کو مل کر سوچنا ہوگا۔ ٹویوٹا انڈس نے اس سلسلے میں کہا کہ ایسے صارفین جن کی جانب سے گاڑیاں بک کروائی گئی تھیں، وہ ان کی ڈیلیوری کا تقاضا کر رہے ہیں، کمپنی کیونکہ کار ڈیلیور نہیں کر سکتی، اس لیے ایسے صارفین کو کہا ہے کہ یا تو وہ تین سے چار مہینے انتظار کریں یا پھر اپنی رقم واپس لے لیں، پاک سوزوکی نے بتایا کہ کمپنی کی جانب سے جون 2022 تک بک کروائی جانے والی گاڑیوں کی ڈیلیوری کے لیے کوشش کی جا رہی ہے۔
یاد رہے کہ پاکستان کی آٹو پالیسی کے تحت اگر کمپنیاں بکنگ کے 60 دن بعد گاڑی ڈیلیور نہیں کرتیں تو اُنھیں جرمانہ ادا کرنا ہوتا ہے اور موجودہ حالات میں بھی اُنھیں یہی جرمانہ ادا کرنا ہوگا۔
