جنرل باجوہ کی سفارتکاری پر عمران کو مرچیں کیوں لگیں؟

اپنی وزارت عظمیٰ کے دوران آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کو سفارتکاری کے لیے امریکہ اور افغانستان سے لیکر سعودی عرب اور چین تک بھجوانے والے سابق وزیر اعظم عمران خان کو شہباز شریف کے دور حکومت میں جنرل باجوہ کی جانب سے امریکی ڈپٹی سیکرٹری آف سٹیٹ کو صرف ایک فون کال نے تیز والی ہری مرچیں لگا دی ہیں۔ پاکستانی وزارت خارجہ کی طرف سے جنرل باجوہ کی امریکی ڈپٹی سیکرٹری آف اسٹیٹ وینڈی شرمن سے بات چیت کی تصدیق کے ساتھ ہی تحریک انصاف کے چیئرمین نے اسے ملکی مفاد کے خلاف قرار دے دیا اور کہا کہ یہ کام آرمی چیف کا نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ آرمی چیف کے لیول پر امریکہ سے مدد مانگنا ملکی خود مختاری پر سودے بازی کے مترادف ہے۔

تاہم یہ بیان داغتے ہوئے یوٹرن کے شہنشاہ خان صاحب بھول گئے کہ اپنی وزارت عظمیٰ کے دوران وہ نہ صرف سفارتکاری کے لیے بلکہ قرضوں کے حصول کے لیے بھی ہمیشہ جنرل باجوہ کو ہی بیرون ملک بھجوایا کرتے تھے۔ ان کی حالت یہ تھی کہ وہ خود اپوزیشن سے سے بات چیت کرنے پر تیار نہیں تھے اور پارلیمنٹ سے قانون سازی کروانے کے لیے بھی اپنے پنڈی والے سرپرست سے فیض یاب ہوتے تھے۔ لیکن اب انہیں آرمی چیف اور امریکی نائب وزیر خارجہ کے درمیان فونک پر بات چیت سے پاکستان کی خود مختاری خطرے میں پڑتی دکھائی دیتی ہے۔ ماضی میں اپنی تقریروں میں بیرون ملک سے قرضے لانے میں مدد فراہم کرنے پر جنرل باجوہ کا شکریہ ادا کرنے والے عمران نے فرمایا ہے کہ آرمی چیف نے سفارت کاری کی ذمے داری بھی اپنے ذمہ لے لی ہے۔ مذید کہا کہ آرمی چیف کی امریکی اہلکار کو فون کال کا مطلب یہ ہے کہ ہم کمزور تر ہوتے جا رہے ہیں، یہ آرمی چیف کا تو کام نہیں۔ کیا جب امریکا پاکستان کی مدد کرے گا تو ہم سے کوئی مطالبہ نہیں کرے گا؟ مجھے خطرہ ہے کہ اس سے ملک کی سیکیورٹی کمزور ہوگی، جو امریکہ کا مطالبہ رہا ہے۔

تاہم عقل سے پیدل خان صاحب دانش کے یہ موتی بکھیرتے ہوئے وہ زمانہ بھول گئے جب بطور وزیر اعظم موصوف خود امریکی صدر جو بائیڈن کی فون کال نہ آنے کے گلے کیا کرتے تھے۔ اپنی حکومت گرانے کی سازش کا الزام امریکہ پر لگانے کے باوجود پچھلے ہفتے ہی خان صاحب نے فرمایا ہے کہ وہ امریکہ اور پاکستان کے مابین اچھے تعلقات دیکھنے کے خواہاں ہیں لیکن آرمی چیف نے ایک امریکی اہلکار سے فون پر گفتگو کیا کر لی، خان صاحب ان کے خلاف میدان میں آگئے۔ یاد رہے کہ آرمی چیف کی امریکی اہلکار سے فون پر گفتگو کا بنیادی مقصد آئی ایم ایف سے پاکستان کو قرضے کی اگلی قسط جاری کروانے کے لیے مدد مانگنا تھا۔ جنرل باجوہ نے امریکی ڈپٹی سیکرٹری آف اسٹیٹ وینڈی شرمن سے آئی ایم ایف سے ملک کو ملنے والے 1 ارب 20 کروڑ ڈالر کی قسط جلد ریلیز کروانے کے لئے اثر و رسوخ استعمال کرنے کی اپیل کی۔ یہ گفتگو ایک ایسے وقت میں ہوئی جب پاکستان کے زرمبادلہ ذخائر شدید دباؤ کا شکار ہیں اور یہ قیاس آرائیاں کی جا رہی ہیں کہ پاکستان بھی سری لنکا کی طرح ڈیفالٹ ہو سکتا ہے۔ قرضوں کی قسط ادا نہ کرنے کی صورت میں کسی بھی ملک کے ساتھ عالمی تجارتی اداروں کا لین دین متاثر ہوتا ہے اور وہ بنیادی ضرورت کی اشیا بھی منگوانے کے قابل نہیں رہتا۔

پاکستان کی معاشی بدحالی کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ اگر اسلام آباد بین الاقوامی معاہدوں کے تحت کسی ایک قرض کی بھی بروقت ادائیگی نہ کر سکا تو اسے بھی ویسی صورت حال کا سامنا ہو گا جیسی کہ سری لنکا میں پیدا ہوچکی ہے اور پاکستان کے ممکنہ دیوالیہ ہونے کی خبریں تو سری لنکا کے دیوالیہ ہونے سے بھی پہلے سے سامنے آ رہی ہیں۔ ایسے میں اگر جنرل قمر باجوہ نے کسی امریکی اہلکار کو فون کیا ہے تو پاکستان کی خاطر کیا ہے جس پر عمران کو مرچیں لگنا سمجھ سے باہر یے۔

زرداری نے ایک منجھے ہوئے کپتان کو کیسے کلین بولڈ کیا؟

آرمی چیف پر تنقید کرتے ہوئے عمران خان یہ بھی بھول گئے کہ پاکستان آج جس بدترین معاشی بحران میں پھنسا ہوا ہے اس کی بنیادی ذمہ داری خود ان پر عائد ہوتی ہے۔ یاد رہے کہ برسراقتدار آنے سے پہلے آئی ایم ایف سے قرضہ لینے پر خودکشی کو ترجیح دینے والے عمران نے اپنے چار سالہ دور حکومت میں اتنے بیرونی قرضے لیے جتنے کہ پاکستان نے پچھلے 70 برس میں نہیں لیے تھے۔ اتحادی حکومت کے نمائندوں کا دعویٰ رہا ہے کہ عمران خان کی حکومت آئی ایم ایف سے بدعہدی کر کے اور عالمی منڈیوں میں تیل کی قیمتوں میں اضافہ کے وقت پاکستان میں اسے کم کرنے کا اعلان کر کے معیشت میں ’بارودی سرنگیں‘ بچھا گئی تھی۔ یہی نئی حکومت کی اصل مشکل رہی ہے۔ اس کی اصلاح اور بجٹ تیار کرنے کے لئے عالمی مالیاتی فنڈ سے تعلقات بحال کرنا ضروری تھا لیکن سابقہ بدعہدی کی وجہ سے یہ کام آسان نہیں تھا۔

شہباز شریف حکومت کا دعویٰ ہے کہ اب معیشت درست راستے پر آ رہی ہے، آئی ایم ایف سے اسٹاف کی سطح پر معاہدہ ہو گیا ہے جسکا مطلب ہے کہ پاکستانی حکومت نے آئی ایم ایف کی تمام مالی شرائط کو نافذ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اسی کے نتیجہ میں ملک میں انرجی کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ ہوا اور عوام کی اکثریت اپنے بجٹ پر پڑنے والے دباؤ کی تمام تر ذمہ داری شہباز حکومت پر ڈال رہی ہے۔ اس کا ایک اشارہ پنجاب کے ضمنی انتخاب میں دیکھنے میں بھی آیا ہے جن میں مسلم لیگ (ن) کو اپنے گڑھ میں شرمناک ہزیمت کا سامنا کرنا پڑا اور پنجاب حکومت سے محروم ہونا پڑا۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ پاکستانی سیاست میں مسائل کا ذکر کر کے ان کا حل تجویز کرنے کی روایت موجود نہیں ہے، بلکہ مسائل کا حوالہ دے کر بتایا جاتا ہے کہ یہ مخالف سیاسی گروہ کی وجہ سے پیدا ہوئے ہیں۔ مل جل کر معیشت کے ڈوبتے جہاز کو بحران سے نکالنے کی بات نہیں کی جاتی بلکہ جذباتی نعرے لگا کر یہ باور کروایا جاتا ہے کہ ’خودداری‘ سے کام لیا جاتا تو صورت حال تبدیل ہوجاتی۔ سری لنکا کے ڈیفالٹ کے بعد جب پاکستان کے حوالے سے ایسی ہی افواہوں کو تبصروں اور تجزیوں میں جگہ دی جانے لگی تو نیم پختہ تجزیہ نگار اصرار سے پاکستانی عوام کو یہ باور کروانے پر مصر تھے کہ عالمی طاقتیں پاکستان کو ڈیفالٹ نہیں ہونے دیں گی کیوں کہ پاکستان ایک ایٹمی قوت ہے۔ اسی طرح عمران خان نے یہ موقف اختیار کیا کہ بگڑتی معاشی صورت حال میں پاکستان کے جوہری اثاثے خطرے کا شکار ہوسکتے ہیں۔ اب جنرل باجوہ اور وینڈی شرمن کی گفتگو پر ردعمل دیتے ہوئے بھی انہوں نے اس ’امریکی تعاون‘ کے نتیجہ میں ملکی سیکورٹی پر سودے بازی کا اندیشہ ظاہر کیا ہے۔

سیاسی تجزیہ کار عمران کو یوٹرن ماسٹر قرار دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ انکے الزامات کا حقائق سے تعلق نہیں ہوتا۔ اگر کسی ملک کی معیشت بیٹھ جائے تو اس کے ایٹمی ہتھیار بھی اسے ڈوبنے سے نہیں بچا سکتے جیسا کہ سوویٹ یونین کے زوال کی صورت میں مشاہدہ کیا جا چکا ہے۔ اسی طرح دو ملکوں کے درمیان معاملات اتنے سادہ نہیں ہوتے کہ ایک ٹیلی فون کال کے نتیجہ میں ملک کی دفاعی صلاحیتیں متاثر ہوجائیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ویسے بھی پاکستان چونکہ ایک سکیورٹی سٹیٹ بن چکا ہے، اسکیے امریکہ سمیت تمام ممالک اب یہ سمجھنے لگے ہیں کہ اس کے ساتھ معاملہ کرتے ہوئے فوج کو شامل کرنا ضروری ہے۔

Back to top button