کیا ایک جھوٹے شخص کو چیف جسٹس برقرار رہنا چاہیے؟

سپریم کورٹ کے دو جج صاحبان جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اور جسٹس طارق مسعود کھوسہ کی جانب سے اپنے چیف جسٹس عمر عطا بندیال کے موقف کو جھوٹا قرار دینے کے بعد یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ جو چیف جسٹس خود صداقت اور امانت کے معیار پر پورا نہیں اترتا وہ دوسروں کے صادق اور امین ہونے کا فیصلہ کیسے کر سکتا ہے؟ سوال یہ بھی ہے کہ کیا ایسے جھوٹے شخص کو چیف جسٹس آف پاکستان کے اہم ترین عہدے پر برقرار رہنا چاہیے۔ یاد رہے کہ سپریم کورٹ میں تازہ پھڈا حال ہی میں 9 رکنی جوڈیشل کمیشن آف پاکستان کے اجلاس سے شروع ہوا جس کے دوران پانچ اراکین نے جسٹس عمر عطا بندیال کی جانب سے سپریم کورٹ کے لیے تجویز کردہ پانچوں جونیئر ججوں کے نام مسترد کردیئے، لیکن چیف جسٹس نے یہ موقف اپنایا کہ اجلاس میں نام مسترد نہیں ہوئے اور صرف اجلاس ملتوی کیا گیا۔ کیال رہے کہ قانون کے مطابق اگر جوڈیشل کمیشن آف پاکستان کے اجلاس میں پیش کردہ نام اکثریتی ووٹ سے مسترد ہو جائیں تو انہیں دوبارہ تجویز نہیں کیا جا سکتا۔ لیکن چار کے مقابلے میں پانچ ووٹوں سے جسٹس بندیال کے تجویز کردہ پانچ نام مسترد ہونے کے باوجود جسٹس بندیال کا اصرار ہے کہ معاملہ چار چار ووٹوں سے برابر رہا تھا جبکہ اٹارنی جنرل نے ووٹ نہیں ڈالا اور اجلاس ملتوی کرنے کی تجویز دی تھی۔

دوسری جانب جسٹس عمر عطا بندیال اور جسٹس طارق مسعود کھوسہ نے اجلاس کی کارروائی سے متعلق خط لکھ دیے ہیں اور چیف جسٹس کے موقف کو رد کرتے ہوئے دعوی کیا ہے کہ جوڈیشل کمیشن آف پاکستان کے اجلاس میں جسٹس بندیال کی جانب سے تجویز کردہ پانچوں ججوں کے نام مسترد کردیے گئے تھے۔ بندیال نے خود کو سچا ثابت کرنے کے لیے جوڈیشل کونسل کے اجلاس کی آڈیو جاری کر دی ہے اور دعوی کیا ہے کہ اس میں اٹارنی جنرل کو اجلاس ملتوی کرنے کا کہتے ہوئے سنا جا سکتا ہے۔ لیکن سینئر صحافی عبدالقیوم صدیقی کے مطابق جوڈیشل کمیشن کے اجلاس کی ڈھائی گھنٹے کی پوری آڈیو سننے سے پتہ چلتا ہے کہ اٹارنی جنرل اشتر اوصاف علی نے ججز تعیناتی کے رولز اور سینیارٹی کا اصول طے ہونے تک اجلاس کو ڈیفر کرنے کی بات کی تھی۔ قیوم صدیقی کا کہنا یے کہ اٹارنی جنرل نے یہ نہیں تھا کہ چیف جسٹس کے تجویز کردہ ناموں پر مزید غور کے لیے اجلاس ڈیفر کیا جائے، وہ نام تو اکثریتی رائے سے مسترد کر دیے گئے تھے لیکن چیف جسٹس بندیال نے اجلاس کی کارروائی کو غلط رنگ دینے کی کوشش کی جو انہیں زیب نہیں دیتا۔

یاد رہے کہ کمیشن کے اجلاس میں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ، جسٹس سردار طارق مسعود، اٹارنی جنرل پاکستان اشتر اوصاف، وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ اور نمائندہ بار اختر حسین نے چیف جسٹس کی جانب سے تجویز کردہ پانچ ججوں کی مخالفت میں ووٹ دیا تھا۔ چیف جسٹس عمرعطا بندیال، جسٹس سجاد علی شاہ، جسٹس اعجاز الاحسن اور جسٹس ریٹائرڈ سرمد جلال عثمانی نے ان ججوں کے حق میں ووٹ دیا تھا۔

چیف جسٹس بندیال کی غلط بیانی پر ردعمل دیتے ہوئے جسٹس فائز عیسیٰ نے بندیال کو خط لکھ کر یاد دلایا کہ کس طرح انہوں نے اور دیگر 4 اراکین نے سندھ ہائیکورٹ کے 3 اور لاہور ہائیکورٹ کے ایک جونیئر جج کے نام سپریم کورٹ میں تعیناتی کے لیے رد کیے۔ جسٹس عیسیٰ نے خط میں کہا کہ بندیال اچانک اجلاس چھوڑ کر چلے گئے جس کے بعد جسٹس اعجاز الاحسن بھی چلے گئے۔ خط میں لکھا گیا ہے کہ آئین متوقع تقرریوں کی اجازت نہیں دیتا، چیئرمین جوڈیشل کمیشن نے اجلاس میں لیے گئے فیصلے ڈکٹیٹ نہیں کرائے، لہذا اب یہ قائم مقام سیکریٹری کی ذمہ داری تھی کہ وہ جوڈیشل کمیشن پاکستان کے اجلاس میں کیے گئے فیصلوں کے منٹس تیار کریں۔ انہوں نے اپنے خط میں لکھا کہ تفصیلی بحث کے بعد جسٹس طارق مسعود، وزیر قانون، اٹارنی جنرل، نمائندہ بار اور میں نے 4 ججز کی تعیناتی کو مسترد کیا جبکہ پشاور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کے تقرر پر غور کرنے پر بات کی گئی۔ انہوں نے لکھا کہ قوم کی نظریں جوڈیشل کمیشن پر لگی ہوئی ہیں اور یہ جاننا قوم کا آئینی حق ہے کہ اجلاس میں کیا فیصلے کیے گئے۔

تہمینہ درانی نے شہباز کے پرواز کرنے کی دعا مانگ لی

دوسری جانب سپریم کورٹ کے جج اور جوڈیشل کمیشن کے رکن جسٹس سردار طارق مسعود نے بی ایک خط کے ذریعے جوڈیشل کمیشن کے اجلاس کی کاروائی بیان کرتے ہوئے تصدیق کی ہے کہ جسٹس بندیال غیرمعمولی اور غیرجمہوری ردعمل دیتے ہوئے اجلاس سے اٹھ کر چلے گئے تھے۔ انہوں نے کہا کہ اجلاس کے بعد سپریم کورٹ کی جانب سے جو اعلامیہ جاری کیا گیا ہے وہ سراسر غلط بیانی ہے اور جلاس کے دوران جو کچھ ہوا اس کے بالکل برعکس بیانیہ دیا گیا۔

ان کا کہنا تھا کہ ‘میں نے سندھ ہائی کورٹ کے نامزد تین ججوں اور لاہور ہائی کورٹ کے ایک جج کی نامزدگی کی مخالفت کی اور پشاور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کی نامزدگی مؤخر کرنے کی درخواست کی۔جسٹس طارق مسعود نے کہا کہ ‘وزیرقانون، اٹارنی جنرل اور پاکستان بار کونسل کے رکن نے میری تجاویز سے اتفاق کیا اور سندھ ہائی کورٹ کے 3 ججوں اور لاہور ہائی کورٹ کے ایک جج کی نامزدگی نامنظور کی۔ انہوں نے لکھا کہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے بھی میرے ساتھ اتفاق کیا اور جب وہ نامنظوری کے لیے وجوہات بیان کررہے تھے، معاملہ واضح ہو گیا تھا کہ کمیشن کے 5 اراکین نے 4 ججوں کی نامزدگی منظور نہیں کی۔

جسٹس طارق مسعود نے کہا کہ جب فائز عیسی چیف جسٹس بندیال سے بحث کر رہے تھے تو غیر معمولی اور غیر جمہوری رویہ اپناتے ہوئے کمیشن اجلاس کا فیصلہ لکھوائے اور میٹنگ باقاعدہ ختم کیے بغیر چیف جسٹس اچانک اٹھ کر چلے گئے اور جسٹس اعجازالاحسن نے حسب روایت ان کی پیروی کی۔

جسٹس طارق مسعود نے لکھا کہ سپریم کورٹ کا اعلامیہ حقائق کے خلاف یے کیونکہ اجلاس میں واضح تھا کہ 9 رکنی کمیشن کی جانب سے نامزدگیاں 4 کے مقابلے میں 5 کی اکثریت سے مسترد کردی گئی تھیں۔ لیکن سپریم کورٹ کی جانب سے جاری پریس ریلیز میں غلط بتایا گیا کہ 4 ارکان نے اجلاس مؤخر کرنے کی درخواست کی۔

ان حالات میں سینئر صحافی و تجزیہ کار حامد میر نے کہا ہے کہ جب سپریم کورٹ کے دو سینئر جج حضرات اپنے چیف جسٹس کو تحریری طور پر جھوٹا قرار دے دیتے ہیں تو پھر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جو منصف خود صداقت اور امانت کے معیار پر پورا نہیں اترتا، وہ دوسروں کو انصاف کیسے دے گا؟

Back to top button