کیا عمران کی محبت میں پاکستان سے نفرت کرنا جائز ہے؟

خیبرپختونخوا حکومت کی طرح چوہدری پرویز الہٰی کی پنجاب حکومت کو بھی سابق وزیراعظم عمران خان کی جانب سے یہ ہدایت کی گئی تھی کہ وفاق اور آئی ایم ایف کے مابین بیل آؤٹ پیکج کی ڈیل سبوتاژ کرنے کے لئے ایک خط لکھا جائے لیکن پنجاب حکومت نے ایسا کرنے سے انکار کر دیا۔
افسوسناک بات یہ ہے کہ عمران خان کی جانب سے ایسی غیر ذمہ دارانہ حرکتیں ایک ایسے وقت کی جا رہی ہیں جب پاکستان کا بچہ بچہ جانتا ہے کہ اگر آئی ایم ایف بیل آوٹ پیکیج نہیں دیتا تو پاکستان دیوالیہ ہو جائے گا اور پھر ملک کی حالت سری لنکا سے بھی بدتر ہو جائے گی۔ یہی وجہ ہے کہ انتہائی مشکل شرائط کے باوجود حکومت آئی ایم ایف کے ساتھ ڈیل کرنے کے لئے کوشاں ہے جس کے لئے 29 اگست کو آئی ایم ایف کی بورڈ میٹنگ ہو رہی ہے اور اُمید کی جا رہی تھی کہ اس میں پاکستان کے لیے بیل آوٹ پیکیج کی منظوری دے دی جائے گی لیکن افسوس کے ایسے نازک موقع پر عمران خان کی خیبر پختونخواہ حکومت نے ملک دشمنی کرتے ہوئے اس ڈیل کو خراب کرنے کے لئے ایک خط لکھ مارا۔
اس حوالے سے سینئر صحافی اور تجزیہ کار انصار عباسی بتاتے ہیں کہ تحریک انصاف کے رہنما فواد چوہدری نے چند روز قبل ایک نجی ٹی وی چینل کو انٹرویو دیتے ہوئے دھمکی دی تھی کہ اگر پنجاب اور خیبر پختونخوا میں موجود تحریک انصاف کی حکومتیں یہ کہہ دیں کہ ہم آئی ایم ایف سے ڈیل میں وفاقی حکومت کا ساتھ نہیں دے سکتے تو پھر وفاق آئی ایم ایف سے کیسے ڈیل کر پائے گا، فواد نے کہا کی آئی ایم ایف سے ہونے والی ڈیل کی بنیاد ہی یہ ہے کہ پنجاب اور کے پی کی حکومتیں سرپلس بجٹ وفاق کو دیں گی، فواد سے جب یہ پوچھا گیا کہ کیا پنجاب اور خیبر پختونخوا حکومتیں وفاق کو یہ کہہ سکتی ہیں کہ آئی ایم ایف ڈیل میں ہم آپ کے ساتھ نہیں، تو موصوف نے کہا کہ دونوں حکومتیں 100 فیصد ایسا ہی کہیں گی۔
کپتان کے بڑبولے عمرانڈو نے یہ بھی کہا کہ اگر اس بحران سے بچنا ہے تو وفاقی حکومت کو فوری الیکشن کروانا ہوں گے، فواد چوہدری کے اس بیان کے بعد خیبر پختونخواکے وزیر خزانہ کے وفاق کو لکھے گئے ایک افسوس ناک خط کی تفصیلات بھی سامنے آ
سیلاب سے تباہی، اموات 1 ہزار سے متجاوز، معیشت کو 10 ارب ڈالر کا نقصان
گئیں جس میں وہ وفاقی وزیر خزانہ مفتاح اسمٰعیل کو کہتے ہیں کہ صوبہ کیلئے سرپلس بجٹ دینا ممکن نہیں ہوگا جیسا کہ فواد نے بھی کہا ہے کہ یہ آئی ایم ایف کی بنیادی شرائط میں شامل ہے۔
انصار عباسی کا کہنا ہے کہ صوبائی وزیر خزانہ نے سرپلس بجٹ کے ممکن نہ ہونے کی مختلف وجوہات بھی لکھیں اور وفاق پر اس کی ذمہ داری عائد کی لیکن اس خط کے لکھے جانے کا وقت اور فواد چوہدری کے بیان کے تناظر میں یہ ایک انتہائی خطرناک کھیل کھیلا گیا ہے جس سے آئی ایم ایف کے ساتھ بنی بنائی ڈیل ختم ہو سکتی ہے جس کا نقصان وفاقی حکومت کو نہیں بلکہ پاکستان اور اس کے عوام کو ہوگا یہی نہیں اطلاعات یہ بھی ہیں کہ پنجاب حکومت کو بھی کہا گیا ہے کہ وہ ایسا ہی ایک خط وفاقی حکومت کو لکھے لیکن پنجاب حکومت نے ایسا نہیں کیا اور وجہ یہی بیان کی کہ اس وقت ایسا کرنا پاکستان کے مفاد میں نہیں ہوگا۔
یاد رہے کہ عمران خان نے بھی جہلم جلسے سے خطاب کرتے ہوئے مفتاح اسمٰعیل کا نام لیتے ہوئے کچھ ایسی ہی بات کی کہ صوبے وفاق کو کہاں سے سرپلس بجٹ دیں گے؟ ذرائع کا کہنا ہے کہ اس وقت بھی عمران کی جانب سے پنجاب حکومت پر وفاق کو خط لکھنے کے لیے دباؤ ڈالا جا رہا ہے تاکہ مرکزی حکومت کو فوری الیکشن کروانے کے لیے بلیک میل کیا جاسکے۔ انصار عباسی کا کہنا ہے کہ الیکشن کے لئے تحریک انصاف حکومت پر ضرور دباو ڈالے لیکن ایسا کرنے کے لئے آئی ایم ایف کے بیل آوٹ پیکیج کو خطرے میں ڈالنا قومی مفاد کے خلاف ہے اور کسی بھی پاکستانی کو کسی بھی صورت میں ایسا نہیں کرنا چاہئے۔
ان کا کہنا ہے کہ سیاست ضرور کریں، لیکن نہ کوئی سیاسی کیڈر اور نہ ہی کوئی سیاسی جماعت پاکستان سے زیادہ اہم ہے۔ تحریک انصاف کی لیڈرشپ کو یہ سوچنا چاہئے کہ آخر اُن کی سیاست میں ایسی کیا خرابی ہے کہ اُن کے ووٹر اور سپورٹر ایسے عمل اور ایسی باتیں کرتے ہیں جو پاکستان کے مفاد میں نہیں۔ عمران کی محبت میں کوئی پاکستان کے پرچم کو آگ لگاتا ہے تو کوئی پاکستانی پاسپورٹ جلاتا ہے اور ایک خاتون نے تو پاکستان کو ہی آگ لگانے کی بات کر دی، یہ عمران خان سے کیسی محبت ہے جو پاکستان سے نفرت پر اُکساتی ہے؟
