عمران خان سیلاب میں کس منہ سے جلسے کر رہے ہیں؟

معروف دانشور اور تجزیہ کار وجاہت مسعود نے کہا ہے عمران خان نے اپنے جہلم جلسے میں واضح الفاظ میں اعلان کیا ہے کہ وہ سیلاب کی تباہ کاریوں کے باوجود اپنے جلسے جاری رکھیں گے چونکہ وہ ’حقیقی آزادی‘ کی جنگ لڑ رہے ہیں لیکن سچ یہ ہے کہ عمران خان نہ تو آزادی کا مفہوم سمجھتے ہیں اور نہ ہماری پسماندگی کے حقیقی اسباب جانتے ہیں، وجاہت مسعود کے مطابق عمران کو سمجھنا چاہئے کہ ہم غیرملکی حکمرانی سے 75 برس پہلے آزاد ہو چکے لہٰذا اب آزادی کا مطلب ہے دستور کی بالادستی، جمہور کی حکمرانی، غربت سے نجات اور جہالت سے آزادی۔ لیکن اگر اپنے سیاسی مخالفین کو چور اور ڈاکو قرار دینے کے لیے ہی جلسے کرنا ہیں تو عمران خان کو خبر ہوکہ پاکستان کے کروڑوں شہری سیلاب کے ہاتھوں ’حقیقی آزادی‘ پا چکے ہیں۔
اپنے تازہ سیاسی تجزیے میں وجاہت مسعود کہتے ہیں کہ بالآخر عمران نے 27 اگست کو جہلم جلسے میں سیلاب کی خوفناک صورت حال پر لب کشائی کی زحمت فرمائی اور کہا کہ غیر معمولی بارشوں اور تباہ کن سیلاب کے باوجود وہ ’حقیقی آزادی‘ کے لئے اپنی سیاسی سرگرمیاں جاری رکھیں گے۔ اس سے ایک روز قبل وہ سرکاری جاہ و حشم کے مکمل تام جھام کے ساتھ ڈیرہ اسماعیل خان اور ٹانک بھی تشریف لے گئے تھے جہاں انہوں نے عوامی تکالیف کے حقیقی احساس کا ثبوت دیتے ہوئے تین انچ گہرے پانی سے گزر کر پریس کانفرنس بھی منعقد کی۔ اب خان صاحب 29 اگست کو ٹیلی ویژن پر عوام سے امداد اکٹھی کرنے کے لئے ایک ٹرانسمیشن بھی کریں گے۔
یہی کام موصوف نے 2010 کے سیلاب میں میر خلیل الرحمن فاﺅنڈیشن کے ساتھ مل کر بھی کیا تھا اور کوئی ایک ارب روپے جمع کیے تھے لیکن تب معاملات کچھ اور تھے، حضرت کی سیاسی رونمائی مقصود تھی اور سرکاری پرچہ نویسوں نے ابھی جنگ جیو گروپ کو ’ملک دشمن‘ قرار نہیں دیا تھا۔ پیسہ تو عمران خان اب بھی جمع کر لیں گے لیکن ان کی صداقت اور امانت کے آئینے میں ممنوعہ فنڈنگ اور توشہ خانے کے بہت سے بال آ گئے ہیں۔ سیاسی مقبولیت سے قطع نظر، غیر سیاسی پشت پناہی کی فصیل میں تزلزل آ گیا ہے، عمران خان پر تنقید کا مطلب دیگر سیاسی قوتوں کی مدح سرائی نہیں۔
وجاہت مسعود کہتے ہیں کہ بلوچستان کا ملک بھر سے زمینی رابطہ منقطع ہو چکا ہے، آپ چاہیں تو اسے حالیہ سیلاب کا نتیجہ قرار دے لیں، لیکن مجھ جیسے بے خبر سمجھتے ہیں کہ یہ رابطہ تو 2004 میں ڈاکٹر شازیہ خالد کے ریپ اور 2006 میں مشرف

جبری گمشدگیوں میں ملوث ملزمان کی سزا موخر

کی خواہش پر نواب اکبر بگٹی کی شہادت کے بعد سے منقطع چلا آتا ہے، دریائے سندھ کے مشرقی کنارے پر واقع سرائیکی وسیب کوہ سلیمان سے اترنے والے عذاب سے گزرنے کے بعد اب اوچ شریف اور بہاولپور کے مقامات پر سیلابی ریلے کی طرف خوفزدہ نظروں سے دیکھ رہا ہے لیکن پنجاب کے وزیراعلیٰ پرویز الہٰی نے کسی نامعلوم وجہ سے لاہور میں پناہ لے رکھی ہے۔
خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ محمود خان حسب معمول دفتری دنیا کے اسیر ہیں، سندھ کے وزیراعلیٰ مراد علی شاہ تعلیم یافتہ ہیں لیکن ان کا ایک بیان آیا ہے کہ امسال سندھ میں معمول سے 600 گنا زیادہ بارش ہوئی ہے، اب یا تو وزیراعلیٰ 600 فیصد اور 600 گنا کا فرق نہیں سمجھتے بہرصورت سندھ کے یشتر اضلاع آفت زدہ قرار پا چکے ہیں اور ابھی سیلاب کا حقیقی ریلا سندھ نہیں پہنچا، اہل صحافت حسب معمول سیاست دانوں کی دھجیاں اُڑانے میں مصروف ہیں۔
وجاہت مسعود کہتے ہیں کہ پاکستان بھر میں تباہی اور بربادی کی نئی داستانیں رقم کرنے والا حالیہ سیلاب اپنا تاوان لے کر بحیرہ عرب میں جا گرے گا لیکن اس کے بعد اناج، سبزیوں اور دالوں کی مہنگائی کا طوفان آئے گا، سیلاب کی نذر ہونے والے مال مویشی کا نقصان دودھ اور گوشت کی قیمتوں میں اضافہ کرے گا، سیلابی پانی اترنے کے بعد وباﺅں اور بیماریوں کا سلسلہ شروع ہو گا۔ جس ملک نے روزمرہ اخراجات کے لئے آئی ایم ایف اور بیرونی ممالک کی طرف ہاتھ پھیلا رکھا تھا، وہ ملک اپنے ایک چوتھائی رقبے پر ہونے والی انفرا سٹرکچر کی تباہی سے کیسے نمٹے گا، مکمل افلاس کا شکار ہونے والوں کی بحالی کیسے ہو سکے گی؟
ان کا کہنا ہے کہ واللہ مجھے مسیحا صفت عمران خان اور انکی انقلابی سیاست سے کوئی بغض نہیں، البتہ ایک رائے ہے کہ عمران خان نے وزیراعظم بننے کے بعد قوم سے خطاب میں 29 فیصد پاکستانی بچوں کی کمزور دماغی نشوونما کا ذکر کیا تھا لیکن اب تو ثابت ہو چکا ہے کہ خود عمران خان کا سیاسی شعور ان کم نصیب بچوں سے زیادہ مختلف نہیں، 1994 تک وہ سیاست کو ملاحیاں سنایا کرتے تھے، ہمیں گوری چمڑی سے خبردار کرنے والے عمران نے 1971 میں ٹیسٹ کیریئر کا آغاز کیا تو آصف مسعود نامی میڈیم فاسٹ باﺅلر ٹیم کا حصہ تھے۔
نو برس میں 16 ٹیسٹ اور 41 کی اوسط سے 38 وکٹیں، اب وہ کسی کو یاد نہیں ہیں، کرکٹ میں عمران خان کی فتوحات کاﺅنٹی کرکٹ اور کیری پیکر سیریز کی دین ہیں، قائداعظم، ذوالفقار علی بھٹو اور بے نظیر شہید سے عمران تک، ہماری سیاسی قیادت مغرب کے علمی اور تمدنی سرچشموں ہی سے فیضیاب ہوئی ہے۔ ہمارے لئے میاں چنوں کے آدھ کچے طبیب اور مغرب دشمنی کا نسخہ کیوں تجویز کرتے ہیں۔ عمران خان آزادی کا مفہوم سمجھتے ہیں اور نہ ہماری پسماندگی کے حقیقی اسباب۔ غیرملکی حکمرانی سے ہم آزاد ہو چکے۔ اب آزادی کا مطلب ہے دستور کی بالادستی، جمہور کی حکمرانی، غربت سے نجات اور جہالت سے آزادی۔ اگر سیاسی مخالفین کو چور وغیرہ پکارنے کے لئے جلسے ہی کرنا ہیں تو عمران کو خبر ہو کہ پاکستان کے کروڑوں شہری سیلاب کے ہاتھوں ’حقیقی آزادی‘ پا چکے۔

Back to top button