پاک فوج آئین شکن جنرل مشرف کے ساتھ کیوں کھڑی ہے؟

آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی جانب سے آئین شکنی کے سزا یافتہ مجرم پرویز مشرف کی دبئی جا کر عیادت کا عمل اس وقت سوشل میڈیا پر تنقید کی زد میں ہے۔ جنرل قمر باجوہ نے یہ ملاقات اپنے سعودی عرب کے سرکاری دورے سے قبل گذشتہ ہفتے کی۔ بی بی سی کی ایک رپورٹ کے مطابق اس ملاقات میں ڈاکٹرز کی ایک ٹیم بھی موجود تھی جنھوں نے پرویز مشرف کا چیک اپ کیا۔ اس ملاقات کو ان کی وطن واپسی کی ایک کوشش کے طور پر بھی دیکھا جا رہا ہے۔ اس ملاقات سے متعلق سوشل میڈیا پر بھی بات چیت کی جا رہی ہے۔ کہیں اس عیادت کو ایک پیغام قرار دیا جا رہا ہے کہ فوج اور اس کی قیادت آئین شکن سابق فوجی ڈکٹیٹر کے ساتھ کھڑی ہے۔ دوسری طرف اس دورے پر تنقید کی جا رہی ہے اور یہ پوچھا جا رہا ہے کہ کیا عوام کے ٹیکس کے پیسوں پر ایسا دورہ کرنا درست ہے؟ یہ بھی سوال کیا جا رہا ہے کہ کیا فوجی قیادت کو یہ زیب دیتا ہے کہ وہ ایک فوجی آمر اور آئین توڑنے والے ‘متنازع سربراہ کی کھل کر حمایت کریں؟’
کون سا بھارتی گلوکار ایک گانے کے پچیس لاکھ روپے لیتا ہے؟
یاد رہے کہ پرویز مشرف نے ایک مرتبہ کسی صحافی کے سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا تھا کہ فوج ہمیشہ سے میرے ساتھ ہے۔ یہاں تک کہ اگر میں یونیفارم میں نہ ہوا، میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ تب بھی یہ آرمی میرے ساتھ ہو گی۔ اس بات کے کچھ سال بعد یکم جنوری 2014 کی صبح میں بہت سے صحافیوں کے ہمراہ خصوصی عدالت کے باہر مشرف کی آمد کی منتظر تھی۔ ان کی خصوصی عدالت میں پیشی تھی اور ان پر غداری کے مقدمے میں فرد جرم عائد ہونا تھی۔ ان دنوں ہر سماعت کے بعد یہی افواہ اڑتی تھی کہ وہ آج نہیں آئیں گے یا یہ کہ ہو سکتا ہے وہ ملک سے باہر چلے جائیں۔ 2013 کے کچھ ہی مہینوں میں ان کے فارم ہاؤس کے باہر یا فارم ہاؤس سے عدالت کے راستے میں چار بار باروی مواد برآمد ہو چکا تھا۔ ان کی ٹیم سکیورٹی خدشات کے باعث انہیں ذاتی حیثیت میں پیشی سے استثنیٰ کی درخواست کرتی تھی۔ اس دن عدالت کی کارروائی شروع ہو چکی تھی مگر مشرف نہیں پہنچا تھا۔ ان کی ٹیم کو کہا گیا کہ پرویز مشرف سہ پہر لازمی عدالت پہنچیں۔ پولیس کے مطابق اس روز ان کے فارم ہاوس سے ریڈ زون کی نیشنل لائبریری میں قائم خصوصی عدالت تک آنے والے راستے پر ایک ہزار کے قریب پولیس اہلکار تعینات کیے گئے تھے۔ عدالت کے باہر پولیس اور رینجرز کی بھاری نفری تھی، جیمرز لگے تھے اور سخت تلاشی لی جا رہی تھی۔
اسی دوران چک شہزاد میں موجود میڈیا ٹیم نے اطلاع دی کہ پرویز مشرف کا قافلہ ان کے فارم ہاؤس سے نکل کر عدالت کے لیے روانہ ہو گیا ہے۔ پھر خبر ملی کہ پرویز مشرف کا قافلہ عدالت کے بجائے اسلام آباد سے راولپنڈی جانے والی ایکسپریس وے پر چل پڑا ہے۔ آخرکار انھیں راولپنڈی کے فوجی ہسپتال آرمڈ فورسز انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیولوجی منتقل کر دیا گیا تھا۔ جہاں فوج نے خود سکیورٹی کی ذمہ داری سنبھال لی تھی۔ ان دنوں مشرف پر قائم مقدمات پر فوجی حلقوں میں شدید تحفظات تھے۔ فوج میں یہ غصہ بھی تھا کہ سابق آرمی چیف جنرل اشفاق پرویز کیانی نے ان پر مقدمات قائم ہونے سے روکنے کے لیے اپنا اثر و رسوخ استعمال نہیں کیا تھا۔ لیکن اب ریٹائرڈ اور حاضر سروس فوجی یہ توقع کر رہے تھے کہ اس وقت کے آرمی چیف جنرل راحیل شریف اپنے سابق فوجی سربراہ کو کچھ ریلیف ضرور دیں گے۔ اور پھر یہ سب نے دیکھا کہ راحیل شریف نے مشرف کو ملک سے باہر بھیجنے میں اہم کردار ادا کیا۔
خیال رہے کہ سابق آرمی چیف جنرل راحیل شریف کے بھائی میجر شبیر شریف، فوجی صدر پرویز مشرف کے کورس میٹ تھے۔ شبیر شریف کو بعد میں پاکستانی فوج کا اعلیٰ ترین اعزاز نشان حیدر دیا گیا تھا۔ بعد ازاں جنرل (ر) پرویز مشرف نے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ جنرل راحیل شریف نے ملک سے باہر جانے میں ان کی مدد کی تھی۔ انھوں نے کچھ ان الفاظ میں جنرل راحیل شریف کا شکریہ ادا کیا تھا کہ ’اس مدد کے لیے میں ان کا شکرگزار ہوں۔ میں ان کا باس رہا ہوں، میں فوج کا سربراہ رہا ہوں انھوں نے مدد کی کیونکہ سیاسی مقدمات ہیں۔‘ انھوں نے اسی انٹرویو میں یہ بھی کہا کہ جنرل راحیل شریف نے ان ڈائریکٹ کردار ادا کرتے ہوئے ’حکومت کا وہ دباؤ ختم کیا جو وہ پس پردہ عدلیہ پر ڈال رہی تھی۔‘
بی بی سی کے مطابق فوج کا بطور ادارہ جنرل ( ر) پرویز مشرف کا ساتھ دینے کا یہ کردار بعد میں جنرل قمر جاوید باجوہ کے چیف بننے پر بھی جاری رہا۔ یہاں تک کہ فوج کی جانب سے سخت بیان تب سامنے آیا جب خصوصی عدالت نے پرویز مشرف کے خلاف غداری کے مقدمے میں سزا سنائی۔ بعد ازاں لاہور ہائی کورٹ نے خصوصی عدالت کے قیام کو ہی غیر آئینی قرار دے کر یہ فیصلہ معطل کر دیا تھا۔ تاہم چونکہ چھوٹی عدالت بڑی عدالت کا فیصلہ معطل نہیں کرسکتی اس لیے پرویز مشرف کے وکیل نے سزا کے خلاف سپریم کورٹ سے رجوع کیا۔ لیکن سپریم کورٹ نے یہ کہہ کر مشرف کی درخواست وصول کرنے سے انکار کر دیا کہ وہ ایک سزا یافتہ مجرم ہیں اور ایسی کوئی درخواست دائر کرنے کے لئے انہیں عدالت کے سامنے خود کو سرنڈر کرنا ہوگا۔
اب ایک بار پھر آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ دبئی پہنچے اور انھوں نے پرویز مشرف کی عیادت کی ہے جس پر تنقید کی جا رہی یے اور سوال کیا جا رہا ہے کہ کیا فوجی قیادت کو یہ زیب دیتا ہے کہ وہ ایک آئین شکنی کے سزا یافتہ مجرم کی کھل کر حمایت کریں؟’
واضح رہے کہ ڈی جی آئی ایس پی آر نے نجی ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا تھا کہ ‘فوجی قیادت چاہتی ہے کہ پرویز مشرف کو پاکستان واپس لایا جائے’، انھوں نے یہ بھی تصدیق کی تھی پرویز مشرف کے اہلخانہ سے اس سلسلے میں رابطہ کیا گیا ہے اور انہیں تمام سہولیات فراہم کرنے کی یقین دہانی کرائی گئی ہے۔ دوسری جانب سابق وزیراعظم نواز شریف نے بھی سوشل میڈیا پر ایک بیان میں پرویز مشرف کی واپسی پر انھیں تعاون فراہم کرنے کا کہا۔ تاہم جنرل (ر) پرویز مشرف کے اہلخانہ نے فی الحال ان کی واپسی کو مشکل قرار دیا ہے۔ انہیں سوالوں کے لیے بی بی سی نے لیفٹینٹ جنرل (ر) شفاعت اللہ شاہ سے بات کی جو جنرل (ر) پرویز مشرف کی صدارت کے دوران دو سال ان کے ملٹری سیکرٹری رہے تھے۔
وہ کہتے ہیں کہ ‘فوج میں حاضر سروس اور ریٹائرڈ افراد کے درمیان مضبوط رشتے کی بنیاد جذبہ یگانگت اور باہمی رفاقت ہے۔ فوج میں کمیشن حاصل کرتے وقت ایک افسر جو حلف اٹھاتا ہے اس کی کوئی مدت میعاد نہیں ہے۔ اسی لیے جنرل قمر جاوید باجوہ کو پرویز مشرف سے ملنا اور ان کی عیادت کرنا فوج کے اندر ایک بہت مثبت پیغام ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ پرویز مشرف کو فوج میں نہایت عزت و احترام کے ساتھ دیکھا جاتا ہے چاہے موجودہ فوجی قیادت نے ان کے زیرِکمان سرو کیا ہو یا نہ کیا ہو۔’
خیال رہے کہ جنرل قمر جاوید باجوہ اس وقت بریگیڈئر کے رینک میں سروس میں تھے جب فوجی صدر پرویز مشرف نے بطور آرمی چیف عہدہ چھوڑا۔
لیفٹیننٹ جنرل (ر) شفاعت اللہ شاہ کہتے ہیں کہ اس ملاقات کے سیاسی اور سفارتی فائدے دیکھے جا رہے ہیں۔ سیاسی طور پر مسلم لیگ ن اس موقع کو استعمال کرتے ہوئے خود نواز شریف کی واپسی کی راہ ہموار کر سکتی ہے۔ تاہم وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ فوج ‘بےشک یہ کہتی رہے کہ وہ غیرسیاسی ہے، ایسا ممکن نہیں ہے۔پاکستان میں فوج پہلے غیرسیاسی ہوئی ہے نہ ہی اب ہو گی۔ اب تو ایسا بالکل نہیں ہے۔ دوسرا فوج میں روایت ہے کہ نہ صرف اپنے حاضر سروس بلکہ ریٹائرڈ افسران کے ساتھ تعلق قائم رکھا جاتا ہے اور انہیں تنہا نہیں چھوڑا جاتا۔ اگرچہ حالیہ کچھ عرصے میں اس تعلق میں کمی آئی ہے جو کہ خود ادارے کے لیے بھی نقصان دہ ہے، مگر ماضی میں ریٹائر ہونے والے افراد سے ایک تسلسل کے ساتھ رابطہ رکھا جاتا تھا۔’
مسلح افواج سے ریٹائر ہونے والے افسران سے ایک جملہ اکثر سننے کو ملتا ہے کہ ’آپ ہمیں فوج سے تو نکال سکتے ہیں، مگر ہم اپنے اندر سے فوج کو نہیں نکال سکتے نہ ہم فوج کو چھوڑ سکتے ہیں۔‘
کم از کم جنرل پرویز مشرف کی حد تک کہہ سکتے ہیں کہ فوج خود بھی انہیں چھوڑنا نہیں چاہتی۔
