نواز مخالف سابق DG ISI ظہیر الاسلام PTI میں شامل

ماضی میں عمران خان کے ساتھ مل کر سابق وزیراعظم نواز شریف کی حکومت گرانے کی سازش کرنے والے سابق ڈائریکٹر جنرل انٹرسروسز انٹیلیجنس لیفٹیننٹ جنرل (ر) ظہیر الاسلام کی باقاعدہ تحریک انصاف میں شمولیت کی خبروں پر سوشل میڈیا میں بحث جاری ہے اور یہ الزام بھی عائد کیا جا رہا ہے کہ ظہیرالسلام آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کے خلاف ریٹائرڈ فوجیوں کی جانب سے چلائی گئی مہم کے سرغنہ ہیں، بظاہر سیاسی میدان میں قدم رکھنے ظہیر الاسلام کو پاکستانی سیاسی تاریخ کا متنازع ترین کردار قرار دیاجاتاہے جن پر نہ صرف سینئر صحافی حامد میر کو قتل کروانے کی سازش کا الزام ہے بلکہ ایک منتخب حکومت گرانے کی سازش کرنے کا الزام بھی عائد کیا جاتا ہے۔ جنرل ظہیر تب آئی ایس آئی کے سربراہ تھے جب جنرل راحیل شریف آرمی چیف ہوا کرتے تھے۔

1999 میں ورلڈ کپ کی ہاٹ فیورٹ پاکستانی ٹیم فائنل کیوں ہاری؟

یاد رہےکہ عمران خان کو سیاست میں لانے کا کریڈٹ جنرل حمید گل کے علاوہ جنرل احمد شجاع پاشا کوبھی دیا جاتا ہے اور جنرل ظہیر الاسلام کو شجاع پاشا کا شاگرد قرار دیا جاتا ہے۔ ظہیر الاسلام دراصل شجاع پاشا کے بعدڈی جی آئی ایس آئی بنے تھے اور انہوں نے عمران خان کو وزیراعظم بنوانے اور نواز شریف کی حکومت گرانے کے لیے 2014 میں پی ٹی آئی سے اسلام آباد کے ڈی چوک میں ایک دھرنا دلوایا تھا۔

سینئیر صحافی سلیم صافی نے سابق ڈی جی آئی ایس آئی کی ایک تصویر اپنے اکاؤنٹ پر پوسٹ کی ہے جس میں انہیں پاکستان تحریک انصاف کے پرچم میں لپٹے پوڈیم پر کھڑے ہو کر ایک سیاسی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے دیکھا جاسکتا ہے۔ اس پوسٹ کے بعد کئی ریٹائرڈ فوجیوں نے سوشل میڈیا پر اپنی پوسٹس میں جنرل ظہیر الاسلام کو تحریک انصاف میں شامل ہونے پر مبارکباد پیش کی ہے اور عمران خان کی حکومت مخالف تحریک کا سرخیل قرار دیا یے۔ سابق جنرل نے سیاست میں شمولیت اختیار کر کے پی ٹی آئی کی حمایت کا اعلان تو کر دیا یے لیکن پارٹی ترجمان فواد چوہدری نے اس خبر کو مسترد کردیا۔ فواد چوہدری نے کہا کہ جنرل (ر) ظہیر الاسلام پنجاب کے ضمنی انتخابات میں پی ٹی آئی امیدوار کی حمایت میں ایک سیاسی اجتماع میں شرکت کی تھی۔ انکامکہنا ہے کہ وہ شبیر اعوان نامی پی ٹی آئی امیدوار کی حمایت کررہے ہیں جو راولپنڈی کے حلقہ پی پی-7 سے صوبائی اسمبلی کی رکنیت کا انتخاب لڑ رہے ہیں۔ فواد چوہدری نے کہا کہ ان افواہوں میں کوئی حقیقت نہیں ہے کہ جنرل (ر) ظہیر الاسلام نے پی ٹی آئی میں باقاعدہ شمولیت اختیار کرلی، وہ صرف پی ٹی آئی امیدوار کے لیے اپنی حمایت کا اظہار کررہے تھے جو ان کے رشتہ دار ہیں۔ تاہم انہوں نے تسلیم کیا کہ جنرل ظہیر الاسلام کے عمران کے ساتھ پرانے تعلقات ہیں اور ان کی پارٹی میں شمولیت کے امکان کو رد نہیں کیا جاسکتا۔

یہاں یہ بات مدِ نظر رہے کہ جنرل (ر) ظہیر الاسلام مارچ 2012 سے نومبر 2014 تک آئی ایس آئی کے سربراہ رہے۔
اس دوران یہ قیاس آرائیاں کی جاتی رہیں کہ انہوں نے ایک اور سابق آئی ایس آئی سربراہ احمد شجاع پاشا کے ساتھ مل کر پی ٹی آئی کو دھرنا دینے میں مدد فراہم کی جسکا مقصد نواز شریف حکومت کو گرانا تھا۔ سابق وزیراعظم نواز شریف خود بھی ایک انٹرویو میں دعوی کر چکے ہیں کہ انہیں سابق ایس آئی سربراہ کی جانب سے 2014 کے دھرنے کے دوران استعفی دینے کا پیغام ملا تھا لیکن انہوں نے ایسا کرنے سے انکار کر دیا۔ اپنے زمانے میں جنرل ظہیر الاسلام کو آرمی چیف جنرل راحیل شریف سے بھی زیادہ طاقتور سمجھا جاتا تھا۔ یاد رہے کہ اپریل 2014 میں سینئر صحافی حامد میر پر ہونے والے قاتلانہ حملے کا ماسٹر مائنڈ بھی ظہیر الاسلام کو قرار دیا گیا تھا۔ ظہیر الاسلام اور عمران خان کی قربت کا اندازہ یوں لگایا جاسکتا ہے کہ جنرل باجوہ کے خلاف چلنے والی ریٹائرڈ فوجیوں کی مہم کا سرغنہ بھی اسی کو قرار دیا جاتا ہے۔
ماضی قریب میں ظہیر الاسلام اپنی دوسری شادی کی وجہ سے بھی خبروں میں رہے ہیں۔

Back to top button