آرمی چیف کی تقرری کے بیان پر خواجہ آصف کو رگڑا کیوں لگا؟

وزیر دفاع خواجہ محمد آصف کی جانب سے فوج کو اپنا آرمی چیف خود مقرر کرنے کی تجویز دینے پر اسٹیبلشمنٹ کی سابقہ اتحادی تحریک انصاف نے سینئیر لیگی رہنما کو نشانے پر رکھ لیا ہے۔ فواد چوہدری نے خواجہ آصف کو پاکستان کے لیے خطرہ قرار دیتے ہوئے مطالبہ کیا کہ فوری نئے انتخابات کرائے جائیں تاکہ نئی حکومت آرمی چیف جیسی اہم تعیناتیاں کر سکے۔
یاد رہے کہ خواجہ آصف نے سینئر صحافی طلعت حسین کے ٹی وی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ نئے آرمی چیف کی
طیبہ گل کا جسٹس جاوید اقبال سے انتقام لینے کا فیصلہ
تقرری کے تنازع کو اب ختم ہونا چاہیے، یاد رہے کہ خواجہ آصف سابق آرمی چیف ریٹائرڈ جنرل راحیل شریف اور موجودہ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی بطور آرمی چیف تقرری کے وقت بھی وزیر دفاع تھے۔ انہوں نے کہا کہ دونوں مواقع پر نواز شریف وزیراعظم تھے اور ان تقرریوں پر ان کے کوئی ذاتی مقاصد نہیں تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ جنرل (ر) راحیل شریف کی تقرری سے پہلے سابق سیکریٹری دفاع سے ان کی بطور آرمی چیف تقرری پر رائے مانگی تھی، جس پر انہوں نے کہا تھا کہ تمام تر 3 اسٹار جنرلز اس پوسٹ کے لیے موزوں ہیں۔ وزیر دفاع نے کہا میں اس لیے وضاحت کر رہا ہوں کہ آرمی چیف کی تقرری کا عمل انتہائی شفاف ہے۔
خواجہ آصف نے پی ٹی آئی کے چیئرمین عمران خان کو نومبر میں نئے آرمی چیف کے تقرر کے حوالے سے سوال اٹھانے اور شک کا اظہار کرنے پر تنقید کا نشانہ بنایا۔ ان کا کہنا تھا کہ آرمی چیف کا تقرر ادارے کے اندر کسی سسٹم کے ذریعے کیوں نہیں ہوسکتا؟ عدلیہ بھی تو اپنے چیف جسٹس کا تقرر کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس بات پر ہوسکتا ہے کہ سوشل میڈیا پر مجھ پر تنقید شروع ہو جائے، عوام میں آرمی چیف کی تقرری کے حوالے سے بہت زیادہ بحث غیرمتوقع ہے۔خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ میرا خیال ہے کہ جب جنرل مشرف نے 7 سے 9 سال کی توسیع لی تو یہ معاملہ بہت زیادہ بے نقاب ہوگیا تھا۔
دوسری جابب فواد چوہدری نے ٹوئٹر پر خواجہ آصف کے انٹرویو کا کلپ شیئر کرتے ہوئے کہا کہ ‘وزیر دفاع جیسے لوگ پاکستان کے دفاع اور سالمیت کے لیے خطرہ ہیں’۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ ‘اگر منتخب وزیر اعظم نے آرمی چیف بھی تعینات نہیں کرنا تو پھر وہ کیا صرف پیسے بنانے کے لیے وزیر اعظم بنے گا؟’۔ ان کا کہنا تھا کہ مسلم لیگ (ن) کا یہ 1985 والا گروہ پاکستان کے آگے بڑھنے میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے، نئی حکومت منتخب ہو جو اہم تعیناتیاں کرے یہ عوام کا حق ہے۔
لیکن پی ٹی آئی کے سوشل میڈیا کے سربراہ اظہر مشوانی نے وزیر دفاع کی تجویز پرردعمل دیتے ہوئے کہا کہ وزیر دفاع نے کھل کر پی ڈی ایم کی حکومت لانے کا اصل مقصد بتا دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ خواجہ آصف نے وزیراعظم سے آرمی چیف کی تعیناتی کا اختیار واپس لے کر موجودہ آرمی چیف کو دینے کی تجویز دے دی۔ سینیٹر صحافی سرل الیمڈا نے بھی اس بیان پر ردعمل دیتے ہوئے خبردار کیا کہ یہ اقدام برادر کشی کی طرف لے جاسکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ مجھے نہیں پتا کہ خواجہ آصف کا ارادہ تھا لیکن حقیقت یہ ہے کہ پاکستان کی کی مسلسل خراب ہوتی ہوئی سیاسی اور معاشی صورتحال کے پیش نظر اکثر پاکستانی طلبا تعلیم حاصل کرنے کے لیے بیرون ملک جاتے ہیں۔
