تنہائیاں والی شہناز شیخ اداکاری چھوڑ کر کیا کر رہی ہیں؟

ماضی کے مقبول ڈراموں ’تنہائیاں اور ان کہی‘ میں شاندار اداکاری کرنے والی شہناز شیخ نے بتایا ہے کہ وہ برسوں پہلے اداکاری چھوڑنے کے بعد ٹیچنگ کے شعبے سے وابستہ ہوگئی تھیں اور آج دن تک یہی کام کر رہی ہیں۔
شوبز دنیا سے دوری اختیار کرنے کی وجہ پوچھے جانے پر شہناز شیخ نے بتایا کہ وہ گزشتہ ڈیڑھ دہائیوں سے تھیٹر اور اداکاری پڑھا رہی ہیں، پہلے وہ ایچیسن کالج میں پڑھاتی رہیں، پھر انہوں نے لاہور گرامر اسکول میں پڑھانا شروع کیا اور اب وہ لاہور کے نیشنل کالج آف آرٹس میں پڑھا رہی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اب پاکستانی ڈرامے اپنا معیار کھو چکے ہیں جب کہ کمرشلائزیشن بڑھنے کی وجہ سے اب تو اسکرپٹ کا فیصلہ بھی برانڈز کرنے لگے ہیں۔

شہناز شیخ نے حالیہ ٹی وی ڈراموں بارے اعتراف کیا کہ ان کے غیر معیاری ہونے کی وجہ سے وہ اب ڈرامے نہیں دیکھتیں۔ سینئر اداکارہ کے مطابق اب ایک تو ڈرامے غیر معیاری ہوگئے ہیں، دوسرا وہ 25 سے 30 قسطوں پر محیط ہوتے ہیں، جس وجہ سے وہ انہیں نہیں دیکھتیں۔

انہوں نے یہ اعتراف کیا کہ اگرچہ مجموعی طور پر ٹی وی ڈراموں کا معیار گر چکا ہے، تاہم کچھ اچھا کام بھی ہو رہا ہے اور اس وقت تک تقریبا ًتمام ممالک میں اردو ڈرامے دیکھے بھی جاتے ہیں۔

انہوں نے ڈراموں کے معیار گرنے کو پاکستان ٹیلی ویژن کی خستہ حالی سے بھی جوڑا اور کہا کہ ایک منظم سازش کے تحت پی ٹی وی کو برباد کرکے نجی ٹی وی چینلز کی ڈرامہ انڈسٹری کو پروان چڑھایا گیا تاکہ کمرشلائزیشن بڑھے اور اب برانڈز ہی ڈراموں کے اسکرپٹ کا فیصلہ کرتے ہیں۔ شہناز شیخ کے مطابق ماضی میں پی ٹی وی میں تعلیم یافتہ پروڈیوسر و ہدایت کار ہوتے تھے، جنہیں بخوبی علم ہوتا تھا کہ کاسٹنگ کیا ہوتی ہے اور ڈرامہ کیسے بنایا جاتا ہے اور اس وقت اخراجات پی ٹی وی اٹھایا کرتا تھا۔

پاکستانی شہری بغیر ویزا کن ممالک کا سفر کر سکتے ہیں؟

انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پی ٹی وی کو منظم طریقے سے برباد کیا گیا، وہاں سیاسی بھرتیاں کی گئیں تاکہ نجی ٹی وی چینلز کو پروموٹ کیا جا سکے اور اب نجی ٹی وی چینلز پر اشتہارات دینے والے برانڈ ہی اسکرپٹ کا فیصلہ کرتے ہیں۔

انہوں نے ملک میں تھیٹر اور پرفارمنگ آرٹ کے اداروں کی کمی کا بھی شکوہ کیا اور ساتھ ہی کہا کہ حکومت سے ایسے اداروں کی ترویج کی امید رکھنا ہی فضول ہے، کیوں کہ حکومت نے یہاں صحت و تعلیم کے لیے ہی کچھ نہیں کیا۔ انہوں نے کہا کہ نیشنل پرفارمنگ آرٹ یعنی ناپا جیسے ادارے نئے فنکاروں کے لیے بہترین پلیٹ فارم ہیں اور ایسے مزید ادارے بھی بنائے جانے چاہییں۔

Back to top button