امریکا کے ایران پر 13ویں روز بھی حملے، 4 افراد جاں بحق، متعدد زخمی

امریکی فوج نے مسلسل 13ویں روز بھی ایران کے مختلف شہروں میں فضائی حملے کیے، جن کے نتیجے میں کم از کم چار افراد جاں بحق اور سات زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔
برطانوی نشریاتی ادارے کے مطابق ایران کے متعدد علاقوں میں دھماکوں اور فضائی حملوں کی اطلاعات موصول ہوئیں۔ متاثرہ شہروں میں بندر عباس، اہواز، امیدیہ، جاسک، قشم، اندیمشک، خرم آباد، خنداب، بروجرد، فیروزآباد، تفت اور نائین شامل ہیں۔
امریکی فوج کی مرکزی کمان (سینٹکام) کی جانب سے حملوں کے اختتام کے اعلان کے کچھ ہی دیر بعد جنوبی شہر اہواز کے حکام نے بتایا کہ حملوں میں چار افراد ہلاک جبکہ پانچ دیگر زخمی ہوئے۔
ایرانی سرکاری خبر رساں ادارے ارنا کے مطابق بندر عباس میں امریکی میزائل حملوں کے نتیجے میں دو افراد زخمی ہوئے۔صوبہ ہرمزگان کی ہلالِ احمر سوسائٹی کے سربراہ نے بتایا کہ زخمی ہونے والے دونوں افراد تپہ اللہ اکبر کے علاقے میں حملے کے بعد ہسپتال منتقل کیے گئے۔
قبل ازیں ایران کی وزارتِ صحت کے اطلاعاتی مرکز کے سربراہ حسین کرمان پور نے بتایا تھا کہ امریکی فضائی حملوں کے دوبارہ آغاز کے بعد سے اب تک 55 افراد ہلاک اور 629 زخمی ہو چکے ہیں۔
دوسری جانب امریکی فوج کی مرکزی کمان (سینٹکام) کا کہنا ہے کہ مسلسل 13ویں روز کیے گئے حملوں میں ایرانی فوج کے کمانڈ مراکز، ڈرون ذخیرہ کرنے کی تنصیبات، مواصلاتی نیٹ ورکس، ساحلی نگرانی کے مراکز اور بحری صلاحیتوں کو نشانہ بنایا گیا۔
سینٹکام کے مطابق ان کارروائیوں کا مقصد آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تجارتی جہازوں کو ایران سے لاحق خطرات میں مزید کمی لانا ہے۔
5 اگست کو پی ٹی آئی کیا کرنے والی ہے؟
امریکی فوج نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ پاسدارانِ انقلاب کی حالیہ سرگرمیوں کے باوجود آبنائے ہرمز جہاز رانی کے لیے کھلی ہوئی ہے اور امریکی معاونت کے باعث تجارتی جہاز معمول کے مطابق وہاں سے گزر رہے ہیں۔
