بلوچ تنظیموں پر امریکی پابندی، انڈیا کے لیے ایک اور جھٹکا

پاکستان اور امریکہ کے مابین بہتر ہوتے تعلقات کے دوران اب ٹرمپ انتظامیہ نے اسلام آباد کا دیرینہ مطالبہ تسلیم کرتے ہوئے بلوچستان لبریشن آرمی اور مجید بریگیڈ کو غیر ملکی دہشت گرد تنظیمیں قرار دیتے ہوئے ان پر پابندیاں عائد کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ ان دونوں تنظیموں پر انڈیا سے فنڈنگ لینے کا الزام لگایا جاتا ہے۔ امریکی محکمہ خارجہ کی جانب سے یہ فیصلہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکہ اور انڈیا کے تعلقات خراب ہو رہے ہیں اور آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر امریکہ کے سرکاری دورے پر ہیں۔
امریکی محکمہ خارجہ نے 11 اگست 2025 کو اعلان کیا کہ وہ بلوچ لبریشن آرمی اور مجید بریگیڈ کو غیر ملکی دہشت گرد تنظیموں کے طور پر نامزد کر رہا ہے۔ امریکی محکمہ خارجہ نے بتایا کہ ‘بلوچ لبریشن آرمی کو کئی دہشت گرد حملوں کے بعد 2019 میں خصوصی طور پر نامزد عالمی دہشت گردوں کی فہرست میں شامل کیا گیا تھا۔ تاہم 2019 کے بعد سے، بی ایل اے اور مجید بریگیڈ نے مزید حملوں کی ذمہ داری قبول کی ہے۔’ محکمہ خارجہ کے مطابق ‘سنہ 2024 میں بی ایل اے نے دعویٰ کیا کہ اس نے کراچی ایئر پورٹ اور گوادر پورٹ اتھارٹی کمپلیکس کے قریب خودکش حملے کیے تھے۔ مارچ 2025 میں بی ایل اے نے کوئٹہ سے پشاور جانے والی جعفر ایکسپریس ٹرین کی ہائی جیکنگ کی ذمہ داری قبول کی۔ اس حملے میں 31 شہریوں اور فوجی اہلکاروں کو شہید کیا گیا اور 300 سے زیادہ مسافروں کو یرغمال بنایا گیا۔’
امریکی محکمہ خارجہ نے کہا کہ ’ان تنظیموں کو دہشت گرد قرار دینا دہشت گردی کے خلاف جنگ کو مؤثر بنانے کا ایک حربہ ہے۔ یاد رہے کہ پاکستان نے سال 2024 میں بلوچستان لبریشن آرمی کے مجید بریگیڈ نامی خودکش سکواڈ کو ایک کالعدم دہشت گرد تنظیم قرار دیا تھا جبکہ علیحدگی پسند تنظیم بی ایل کو 2006 میں کالعدم قرار دیا گیا تھا۔ اسکے بعد پاکستان مسلسل امریکہ پر زور دے رہا تھا کہ وہ مجید بریگیڈ کو ’دہشت گرد تنظیم‘ قرار دے جو کہ بھارت سے فنڈنگ لے کر پاکستان میں دہشت گردی کرتا ہے۔
دفاعی مبصرین کا کہنا ہے کہ واشنگٹن کی جانب سے بلوچ گروہوں کو دہشت گرد قرار دینے کا تعلق امریکہ اور انڈیا کی حالیہ کشیدگی سے بھی ہو سکتا ہے۔ یاد رہے کہ بی ایل اے کی مجید بریگیڈ ایک دہائی سے زیادہ عرصے سے بلوچستان میں متحرک ہے۔ حالیہ برسوں میں اس تنظیم کی جانب سے کیے گئے حملوں میں شدت آئی ہے۔ اسی صورتحال کے پیش نظر پاکستان نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں بھی بی ایل اے کی ذیلی تنظیم مجید بریگیڈ پر پابندی کا مطالبہ کیا تھا۔ مجید بریگیڈ اور اس کے نام نہاد فدائین کا نام پہلی بار 30 دسمبر 2011 کو تب سامنے آیا جب کوئٹہ میں سردیوں کی ایک شام ارباب کرم خان روڈ پر واقع ایک گھر کے باہر ایک کار کو ایک خود کش حملہ آور نے نشانہ بنایا۔
یہ گھر سابق وفاقی وزیر نصیر مینگل کے بیٹے شفیق مینگل کا تھا۔ اس حملے میں شفیق خود تو محفوط رہے مگر 10 افراد جاں بحق جبکہ 23 زخمی ہوئے۔ اس حملے کی ذمہ داری بلوچستان لبریشن آرمی نے قبول کی اور بتایا کہ ’مجید بریگیڈ‘ کی جانب سے یہ ’فدائی حملہ‘ درویش نامی نوجوان نے کیا تھا۔ اس کے بعد مجید بریگیڈ منظر عام سے کچھ عرصے کے لیے غائب ہو گئی۔ اُستاد اسلم عرف اچھو مجید بریگیڈ کے پہلے سربراہ تھے۔ موصوف اس کالعدم تنظیم کی کارروائیوں میں ناصرف جدت اور شدت لائے بلکہ وہ بلوچستان میں دہائیوں سے جاری بلوچ شدت پسندی کو پہاڑوں سے شہروں بلخصوص کراچی تک لے آئے۔
بالآخر دسمبر 2018 میں اسلم اچھو قندھار میں ایک حملے میں ہلاک ہو گیا جس کے بعد مجید بریگیڈ کی قیادت بشیر زیب نامی شخص کے پاس آئی جو ماضی میں بی ایس او کا چیئرمین رہ چکا تھا۔ اسلم اچھو پر بلوچستان میں بم دھماکوں، سیکورٹی فورسز پر حملوں اور ٹارگٹ کلنگ کے لئی مقدمات درج تھے، جبکہ اُس کے سر کی قیمت 50 لاکھ روپے مقرر کی گئی تھی۔ شفیق مینگل پر ہونے والے حملے کے سات سال بعد اگست 2018 میں بلوچستان میں سونے اور تانبے کے ذخائر والے ضلع چاغی کے صدر مقام دالبندین میں ایک ٹرک سامنے سے آنے والی اس بس سے ٹکرا دیو گیا جس میں چینی انجینیئرز سوار تھے۔ اس خودکش حملے میں تین چینی انجنیئروں سمیت پانچ افراد زخمی ہوئے۔ مجید بریگیڈ نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کرتے یوئے بتایا کہ خود کش حملہ آور ’ریحان‘ نامی نوجوان تھا جو مجید بریگیڈ کے سربراہ اسلم استاد عرف اسلم اچھو کا بیٹا تھا۔
نومبر 2018 میں کراچی میں چین کے سفارتخانے پر بڑا حملہ کیا گیا، جس میں چار حملہ آور پولیس مقابلے میں مارے گئے۔ اس حملے کی ذمہ داری بھی مجید بریگیڈ نے ہی قبول کی۔
سنہ 2019 میں اس گروپ نے چین، پاکستان اقتصادی راہداری کے مرکز گوادر شہر میں واقع پی سی ہوٹل پر حملہ کیا، جس میں پانچ افراد جاں بحق ہوئے جبکہ تین حملہ آور مارے گئے۔ مجید بریگیڈ نے اس کارروائی کو ‘فدائی مشن’ قرار دیا تھا۔ اس کے اگلے سال جون 2020 میں کراچی سٹاک ایکسچینج پر حملہ کیا گیا جہاں چار حملہ آور مارے گئے، اس کی ذمہ داری بھی مجید بریگیڈ نے ہی قبول کی تھی۔ 2022 میں کراچی یونیورسٹی میں شاری بلوچ نامی خاتون نے چینی لینگویج سینٹر کے اساتذہ پر خودکش حملہ کیا جبکہ 2023 میں تربت کے علاقے میں سمیعہ قلندرانی نامی خاتون نے ایف سی کی ایک گاڑی کو نشانہ بنایا۔ سمیعہ اسلم اچھو کے بیٹے ریحان کی منگیتر تھیں جو کہ خود بھی چینی انجینیئرز پر خودکش حملے میں مارا گیا تھا۔
جنگ ہارنے کے 3 ماہ بعد مودی جھوٹے دعوے کیوں کر رہا ہے؟
اس سے اگلے ہی برس 2024 میں ماہل بلوچ نامی خاتون نے بیلہ میں ایف سی کے کیمپ پر خودکش حملہ کیا۔ ان حملوں کی ذمہ داری مجید بریگیڈ نے قبول کی۔ یہ کالعدم تنظیم اب اپنی خودکش کارروائیوں کے لیے خواتین کا استعمال کر رہی ہے۔ مجید بریگیڈ کی جانب سے آخری بڑی دہشت گردی مارچ 2025 میں کی گئی جب جعفر ایکسپریس کو یرغمال بنا کر 30 سے زیادہ مسافروں کو قتل کر دیا گیا۔ ان میں ایک بڑی تعداد فوجی اہلکاروں کی تھی جو کہ چھٹیوں پر گھروں کو جا رہے تھے۔
واشنگٹن میں قائم تحقیقاتی ادارے جیمز ٹاؤن فاؤنڈیشن کے مطابق مجید بریگیڈ کے پاس اعلیٰ درجے کے ہتھیار ہیں جن میں دیسی ساختہ دھماکہ خیز آلات، اینٹی پرسنل اور اینٹی ٹینک بارودی سرنگیں، دستی بم، راکٹ سے چلنے والے دستی بم، M4 رائفلز، ایم ایم 12 رائفلز اور دیگر خودکار ہتھیار شامل ہیں۔ مجید بریگیڈ کو خودکش جیکٹس میں استعمال ہونے والے سی فور دھماکہ خیز مواد تک رسائی حاصل ہے۔
