جنگ ہارنے کے 3 ماہ بعد مودی جھوٹے دعوے کیوں کر رہا ہے؟

بھارتی فضائیہ کے سربراہ کی جانب سے جنگ بندی کے تین ماہ بعد وزیراعظم مودی کے ایما پر پاکستان کے 6 جنگی جہاز گرانے کا دعوی نہ صرف ایک لطیفہ ہے بلکہ باسی کڑھی میں ابال کے مترادف ہے۔ اصل مسئلہ یہ ہے کہ نریندر مودی نامی گجرات کے قصاب کے گرد اپوزیشن کا شکنجہ سخت ہو رہا ہے۔ راہول گاندھی نے پہلی بار ٹھوس شواہد کیساتھ مودی پر انتخابی دھاندلی کے سنگین الزامات عائد کیے ہیں جس کے بعد ان کی سرکار بے آبرو اور بے ساکھ ہو رہی ہے۔ ایک طرف لوک سبھا کی 40 سیٹوں والی بہار نامی ریاست کے الیکشن قریب ہیں اور دوسری جانب عوام کے سامنے مودی کے مکروہ چہرے کے بدنما داغ واضح ہو رہے ہیں۔
معروف لکھاری اور تجزیہ کار سینیٹر عرفان صدیقی روزنامہ جنگ کے لیے اپنی تحریر میں کہتے ہیں کہ سیانوں کے بقول جھوٹ کبھی بانجھ نہیں رہتا۔ یہ انڈے اور بچے دیے چلا جاتا ہے۔ ایک جھوٹ کو سچ ثابت کرنے کے لئے سو جھوٹ بولنا پڑتے ہیں اور یہ سلسلہ شیطان کی آنت کی طرح پھیلتا ہی چلا جاتا ہے۔ جھوٹ کی علّت میں مبتلا شخص یہ سمجھتا ہے کہ اُس کی دروغ گوئی، جادو جگا رہی ہے اور لوگ اُس کے جھوٹ کو سچ مان رہے ہیں۔ چنانچہ وہ جھوٹ کو اپنا سب سے کارگر آلہ اور کمالِ فن سمجھتے ہوئے ساری حدیں پھلانگتا چلا جاتا ہے۔ یہاں تک کہ اُس کا جھوٹ تمسخر اور مضحکہ خیزی کا بے ذوق سرکس بن جاتا ہے۔
عرفان صدیقی کہتے ہیں کہ نریندر مودی کا ’’آپریشن سیندور‘‘ بھی ’پہلگام‘ ڈرامے کے بے لباس جھوٹ سے شروع ہوا اور کسی نہ کسی شکل میں آج تک جاری ہے۔ اَب اس جھوٹ کی ہنڈیا بیچ چوراہے کے پھوٹ چکی ہے لیکن اس شرم ناک شکست کی ہزیمت اور خفت ہر آن کسی نئے جھوٹ پر اُکساتی رہتی ہے۔ فارسی کا محاورہ یے کہ جھوٹے آدمی کا حافظہ نہیں ہوتا۔ ہمارا محاورہ ہے کہ جھوٹ کے پائوں نہیں ہوتے۔ اس کے باوجود حافظے یعنی سر اور پائوں سے محروم جھوٹ کی فیکٹری مسلسل چل رہی ہے۔ اس سلسلے میں تازہ شاہکار، بھارتی فضائیہ کے سربراہ ائیر چیف مارشل، اَمرپریت سنگھ کے کاک پٹ سے آیا ہے۔ موصوف نے دعوی کیا ہے کہ ’’حالیہ جنگ میں انڈیا مے پاکستان کے پانچ طیارے مار گرائے تھے۔ چھٹا والا ایک بڑا نگران طیارہ تھا جو ہمارا نشانہ بنا۔ یہ طیارے ہم نے روسی ساختہ S-400 میزائلوں سے نشانہ بنائے۔ ہم نے پاکستان کے دو کمانڈاینڈ کنٹرول سینٹرز، متعدد ریڈار اور ہوائی اڈوں کو بھی شدید نقصان پہنچایا جن میں سرگودھا، رحیم یار خان، سکھر اور جیکب آباد کے ہوائی اڈے شامل ہیں۔ ہم نے بہاولپور اور مرید کے میں واقع جیش محمد اور لشکر طیبہ کے مراکز بھی تباہ کردیے۔‘‘
لیکن اہم سوال یہ ہے کہ بھارتی ایئر چیف کو یہ جھوٹے دعوے کرنے کی ضرورت جنگ بندی کے تین ماہ بعد پیش کیوں آئی جب کہ جنگ کے فورا بعد بھارتی فوج کے ترجمان نے تسلیم کیا تھا کہ جنگ میں نقصان تو ہوا ہے لیکن اس کی تفصیل نہیں بتائی جا سکتی۔ اس دوران امریکی صدر ٹرمپ نے پاک فضائیہ کے ہاتھوں بھارت کے پانچ جنگی طیارے مارے جانے کی تصدیق کر دی تھی۔ ‘پاک فضائیہ کے ایک اعلیٰ افسر نے آغازِجنگ کے دوسرے دن ہی ایک بھری پریس کانفرنس میں تمام تر تفصیلات اور شواہد کے ساتھ اعلان کردیا تھا کہ پانچ بھارتی طیارے تباہ کردیے گئے ہیں جن میں شہرۂِ آفاق ’رافیل‘ بھی شامل تھے۔ دنیا نے اِس دعوے کی چھان پھٹک کی۔ انٹیلی جنس ایجنسیز نے بھی تحقیق و تفتیش کی۔ کسی ایک نے بھی پاکستانی دعوے کو نہ جھٹلایا بلکہ بی۔بی۔سی سمیت عالمی میڈیا نے اسے درست خبر قرار دیا۔ یہاں تک کہ دنیا کا سب سے مضبوط انٹیلی جنس نیٹ ورک رکھنے والے امریکہ نے بھی پاکستانی دعوے کو مستند جانا۔
عرفان صدیقی یاد دلاتے ہیں کہ 9 مئی کو بھارتی فضائیہ کے ڈی۔جی آپریشنز، تینوں مسلح افواج کی قیادت کیساتھ میڈیا کے سامنے آئے تو اُن سے پوچھا گیا کہ ’’پاکستان 5 بھارتی جہاز مار گرانے کا دعویٰ کررہا ہے۔ آپ کیا کہتے ہیں؟‘‘ اس پر ڈی۔ جی۔ آپریشنز نے دوٹوک جواب دینے کے بجائے کہا ’’نقصانات جنگوں کا حصّہ ہوتے ہیں۔ میں اس سے زیادہ کچھ نہیں کہہ سکتا۔ ایسا کہنے سے مخالف فریق کو فائدہ پہنچ سکتا ہے۔‘‘ تاہم بھارتیہ جنتا پارٹی کے راہنما اور سابق وزیر قانون سُبرامنین سوامی نے لگی لپٹی رکھے بغیر تسلیم کیا تھا کہ ’پاکستان نے بھارت کے 5 طیارے مار گرائے۔ انکا کہنا تھا کہ پردھان منتری نریندر مودی کو چاہیے کہ اپنے لوگوں کو سچائی سے آگاہ کریں بجائے کہ جھوٹے دعوے کیے جائیں۔
کیا شکست خوردہ مودی دوبارہ پاکستان سے پنگا لینے والا ہے
عرفان صدیقی کہتے ہیں کہ مسلسل جھوٹ نامی انڈے دینے والے ’’آپریشن سیندور‘‘ کا سب سے مضحکہ خیز پہلو یہ ہے کہ گزشتہ تین ماہ مین رنگا رنگ پھلجھڑیاں چھوڑنے والی بھارتی سرکار کے دروغ گو اہل کاروں میں سے کسی نے بھی 5 پاکستانی طیارے مار گرانے کی بات نہیں کی۔ بھارتی پارلیمنٹ کے حالیہ ’مون سون‘ اجلاس میں ’آپریشن سیندور‘ پر بحث کے لئے خاصا وقت رکھا گیا۔ اپوزیشن نے سرکار کو آڑے ہاتھوں لیا۔ تین بھارتی رافیل مار گرانے پر کئی سوال اٹھے۔ حکومتی ارکان اور وزرا جوابی سنگ زنی تو کرتے رہے لیکن کسی نے نہیں کہا کہ ’’کوئی بات نہیں۔ پاکستان نے ہمارے طیارے گرائے ہیں تو ہم نے بھی پانچ پاکستانی طیارے زمیں بوس کردیے ہیں۔‘‘
جھوٹ کے ہُنر میں طاق نریندر مودی نے پھیپھڑوں کی پوری توانائی بروئے کار لاتے ہوئے ایک گھنٹہ پچاس منٹ تقریر کی لیکن اپنی مضطرب جنتا کوئی پاکستانی طیارے مار گرانے کی خوشخبری نہ سنائی کیونکہ ایسا کوئی واقعہ رونما ہوا ہی نہیں تھا۔ لہذا یہ کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا کہ بھارتی فضائیہ کے سربراہ کی جانب سے تین ماہ پہلے ہونے والی جنگ میں چھ پاکستانی لڑاکا طیارے گرانے کا جھوٹا دعوی مودی سرکار کو راہول گاندھی کی زیر قیادت اپوزیشن کے دباؤ سے نکالنے کی ایک ناکام کوشش کے سوا کچھ نہیں۔
