امریکہ ایران امن مذاکرات، اسرائیل مکمل آؤٹ

ایران اور امریکا کے درمیان جاری امن مذاکرات میں اسرائیل کا کردار بتدریج کمزور ہوتا دکھائی دے رہا ہے، جبکہ اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کو پالیسی سازی کے مرکزی عمل سے نسبتاً دور تصور کیا جا رہا ہے۔ بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق جنگ کے ابتدائی مرحلے میں اسرائیل اور امریکا قریبی حکمتِ عملی کے تحت ایران کے خلاف اقدامات میں شریک تھے اور نیتن یاہو کو اہم اسٹریٹجک پارٹنر سمجھا جا رہا تھا، تاہم بعد میں سفارتی ترجیحات میں تبدیلی آ گئی۔
رپورٹس کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے بعد کے مذاکراتی مراحل میں اسرائیل کو محدود معلومات فراہم کیں اور ایران کے ساتھ براہِ راست یا ثالثی کے ذریعے ہونے والی پیش رفت کو زیادہ تر امریکی اور علاقائی سفارتی چینلز تک محدود رکھا۔ اس صورتحال کو اسرائیلی قیادت کے لیے ایک سفارتی دھچکا قرار دیا جا رہا ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب اسرائیل ایران کے جوہری پروگرام اور خطے میں اس کے اثر و رسوخ کو اپنی قومی سلامتی کے لیے بڑا خطرہ سمجھتا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق امریکا اس وقت خطے میں جنگ کے دائرہ کار کو محدود رکھنے اور کسی وسیع علاقائی تصادم سے بچنے کی کوشش کر رہا ہے، جبکہ بعض علاقائی ممالک بھی کشیدگی کم کرانے کے لیے متحرک ہیں۔ اسی تناظر میں مذاکراتی عمل میں ثالثی اور سفارتی رابطوں کو زیادہ اہمیت دی جا رہی ہے، جس کے نتیجے میں اسرائیل کا براہِ راست اثر نسبتاً کم ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔
بعض مبصرین کا خیال ہے کہ اگر امریکا اور ایران کے درمیان کسی عبوری یا مستقل فریم ورک پر پیش رفت ہوتی ہے تو اس سے مشرقِ وسطیٰ کی طاقت کی سیاست میں نئی تبدیلیاں آ سکتی ہیں۔ تاہم اسرائیلی حکومت اب بھی ایران کے جوہری پروگرام، افزودہ یورینیم کے ذخائر اور آبنائے ہرمز جیسے معاملات پر سخت مؤقف رکھتی ہے اور مستقبل میں وہ دوبارہ زیادہ فعال کردار ادا کرنے کی کوشش کر سکتی ہے۔
